ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کا مذہبی جنگ کا پروپیگنڈا

ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کا مذہبی جنگ کا پروپیگنڈا جاری ہے جس نے عالمی میڈیا اور ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی ایونجلیک مسیحی حلقوں کے خصوصی دعائیہ اجتماعات میں شرکت جاری ہے تو دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نےکہا ہے ان کی فوجی کارروائی دراصل ’مسیحا کی واپسی‘ کی راہ ہموار کر رہی ہے۔
امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملےکو مذہبی اور بائبل کے تناظر میں پیش کیا ہے جس سے عالمی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔
پہلےامریکی فوج میں دعوے سامنے آئے تھےکہ صدر ٹرمپ کو روحانی طور پر منتخب کیا گیا ہے اور فوجیوں کو مذہبی تقریبات اور دعاؤں کے ذریعے حوصلہ دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں جب جنگ کو مقدس اصطلاحات میں بیان کیا جائے تو سیاسی سمجھوتہ مشکل ہوجاتا ہے۔
