ایران کانشانہ بننےوالےامریکی ایف 35طیارے کی مشرق وسطیٰ میں ہنگامی لینڈنگ

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہےکہ ایران کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بنائے جانے کے بعد ایک ایف 35 اسٹیلتھ طیارے نے مشرق وسطیٰ کے امریکی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کی ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطاق ذرائع نے بتایا ہےکہ یک ایف 35 لڑاکا طیارے کو جسے بظاہر ایران کی فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا، مشرق وسطیٰ میں امریکی فضائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔
امریکی سینٹرل کمانڈکے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے بتایا کہ یہ پانچویں نسل کا اسٹیلتھ طیارہ ایران کے اوپر ایک جنگی مشن پر پرواز کر رہا تھا جب اسے ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی، ان کے مطابق طیارہ بحفاظت اترگیا ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہےکہ انہوں نے طیارے کو رات 2 بجکر 50 منٹ پر نشانہ بنایا تھا، قوی امکان ہےکہ طیارہ تباہ ہوگیا۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہےکہ طیارہ نشانہ بنانےکا واقعہ ایئر ڈیفنس میں بہتری ظاہر کرتا ہے، ہم 150 ڈرونز پہلے ہی گراچکے ہیں۔
سی این این کے مطابق اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ پہلی بار ہوگا کہ ایران نے فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ کے دوران کسی امریکی طیارے کو نشانہ بنایا ہے۔ اس جنگ میں امریکا اور اسرائیل دونوں یہ طیارے استعمال کر رہے ہیں جن کی قیمت 100 ملین ڈالر سے زائد ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس جنگ کے دوران امریکا اپنے دیگر طیارے بھی کھو چکا ہے تاہم اب تک کسی کو فائرنگ سے نشانہ بنائے جانے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ تین امریکی ایف 15 لڑاکا طیارے غلطی سے کویت کے فضائی دفاعی نظام نے مار گرائے تھے، تاہم عملے کے تمام 6 ارکان بحفاظت باہر نکل آئے تھے۔
