امریکی ناکامی کے نتیجے میں تیسری عالمی جنگ شروع ہونے کا امکان

امریکہ اور ایران کی جنگ کے خاتمے کا امکان معدوم ہونے کے بعد اب یہ خدشہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ یہ تنازع تیسری عالمی جنگ کی شکل اختیار نہ کر لے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی بے چینی کو جنم دیا ہے اور ماہرین اس امکان پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کہ آیا دنیا ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، اور اس دوران حالات میں بہتری کے بجائے پیچیدگی پیدا ہوئی ہے۔ ابتدا میں اسے ایک محدود نوعیت کا تنازع سمجھا جا رہا تھا، تاہم ایرانی مزاحمت کے نتیجے میں وقت گزرنے کے ساتھ اس کے اثرات وسیع ہوتے گئے اور اب یہ خطے کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ اس جنگ کے اثرات ایران تک محدود نہیں رہے بلکہ خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان ممالک میں متحدہ عرب امارات، عراق، بحرین، کویت، سعودی عرب، عمان، آذربائیجان، شام، قطر اور لبنان شامل ہیں، جہاں سیاسی، معاشی اور سکیورٹی صورت حال پر اس تنازع کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
عالمی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے دفاعی تجزیہ کار اس صورتحال کو ایک علاقائی بحران قرار دیتے ہیں، تاہم یہ سوال مسلسل اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ تنازع اپنے دائرہ کار سے نکل کر عالمی سطح پر پھیل سکتا ہے۔ تاریخ اس حوالے سے کئی مثالیں فراہم کرتی ہے جہاں بظاہر محدود تنازعات بڑے عالمی تصادم میں تبدیل ہو گئے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جنگیں مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ لڑی جاتی ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اکثر جنگیں غلط اندازوں، حادثات اور مخالفین کے بارے میں ناقص معلومات کے باعث شروع ہوتی ہیں اور کچھ ایسی ہی صورتحال ایران اور امریکہ کی جنگ کے حوالے سے بھی دکھائی دیتی ہے جہاں تمام تر امریکی اندازے غلط ثابت ہو رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال کچھ یوں ہے کہ اب ایران پر حملہ کرنے والے امریکی صدر ٹرمپ جنگ بندی چاہتے ہیں لیکن ایران ہے کہ اپنی شرائط پوری کروائے بغیر جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہے۔ جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان سمیت جتنے بھی ممالک نے ثالثی کی کوششیں کی ان کو ایران کی جانب سے یہی سوال ہوچھا گیا کہ امریکہ کی ضمانت کون دے گا کیونکہ دو مرتبہ پہلے بھی ایران سے مذاکرات کے دوران امریکہ نے حملے کر دیے۔ اب ایران کا مطالبہ ہے کہ جنگ بندی کے حوالے سے روس یا چین جیسی کوئی سپر پاور امریکہ کی ضمانت دے لیکن یہ دونوں ممالک بھی امریکی صدر ٹرمپ کے ضامن بننے کو تیار نہیں۔ ادھر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ عالمی سطح پر کشیدگی اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اسے تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس دوران کچھ تجزیہ کار اس خطرے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ مشرق وسطی میں جاری جنگ دوسرے خطوں تک پھیل کر تیسری عالمی جنگ شروع کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر چین تائیوان کے معاملے پر پیش رفت کر سکتا ہے، جبکہ روس یوکرین میں اپنی کارروائیوں کو تیز کر سکتا ہے، کیونکہ عالمی توجہ کسی اور سمت مبذول ہو چکی ہوتی ہے۔ ان تجزیہ کاروں کے مطابق بعض ایران اور امریکہ کی جنگ کو اپنے مفاد کی خاطر استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، کیونکہ بڑی طاقتوں کی مصروفیت انہیں اپنا ایجنڈا پورا کرنے کی زیادہ آزادی فراہم کرتی ہے۔
اسلام آباد میں ایران۔امریکا مذاکرات کی 2 کوششیں ناکام
صدر ٹرمپ کی جنگی حکمت عملی کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جنگیں صرف طاقت کے توازن کی وجہ سے نہیں بلکہ انسانی عوامل جیسے غرور، خوف اور انا کے باعث بھی شروع ہوتی ہیں۔ رہنما اکثر دباؤ میں آ کر یا اپنی انا کی تسکین کے لیے ایسی جنگ شروع کر بیٹھتے ہیں جسے بعد میں سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کا فیصلہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ انہوں نے روس اور یوکرین جنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ولادیمیر پوتن کا یوکرین پر حملہ ایک بڑی سٹریٹیجک غلطی ثابت ہوا، تاہم اس کے باوجود جنگ جاری ہے کیونکہ بعض اوقات رہنما پسپائی اختیار کرنے کو اپنی کمزوری سمجھتے ہیں۔
تاریخ میں ایڈولف ہٹلر جیسے رہنماؤں کی مثالیں بھی موجود ہیں جنہوں نے شکست کے واضح آثار کے باوجود جنگ جاری رکھی، جس کے نتیجے میں تباہ کن نتائج برآمد ہوئے اور تنازعات مزید پھیل گئے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن، تہران اور تل ابیب کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ جنگ جار رکھنا اس وقت کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور اگر اسے روکا نہ گیا تو دنیا تیسری عالمی جنگ کا شکار ہو سکتی ہے۔
