ایران کیخلاف جنگ نے امریکہ کی داخلی سیاست میں ہلچل مچا دی

ایران کے خلاف جاری جنگ نے امریکہ کی داخلی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی میں اختلاف کھیل کر سامنے آئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے بعض بااثر رہنما اور کارکن اس جنگ کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ متعدد قدامت پسند شخصیات اسے غیر ضروری قرار دے کر سخت تنقید کر رہی ہیں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق ریپبلکن حلقوں میں یہ رائے بھی مضبوط ہو رہی ہے کہ ایران کے خلاف یہ تنازع دراصل اسرائیل کی جنگ ہے اور امریکہ کو اس میں براہِ راست مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اختلاف نے پارٹی میں نظریاتی تقسیم کو نمایاں کر دیا ہے، جو آئندہ انتخابات پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔

امریکی میڈیا کے معروف میزبان ٹکر کارلسن نے کہا کہ امریکہ کو اس تنازعے سے جلد نکل جانا چاہیے۔ وہ طویل عرصے سے صدر ٹرمپ کے حامی سمجھے جاتے ہیں اور گزشتہ ماہ مبینہ طور پر صدر سے ملاقات کر کے انہیں ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے باز رکھنے کی کوشش بھی کی تھی۔

سروے کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ریپبلکن ووٹروں میں بھی جنگ کے معاملے پر مکمل اتفاق نہیں پایا جاتا۔ بعض حلقے اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں، لیکن بڑی تعداد اسے غیر ضروری خطرہ سمجھتی ہے۔ عام طور پر امریکہ میں جنگ کے ابتدائی مرحلے میں صدور کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن اس بار ایران کے خلاف کارروائی کے آغاز کے بعد صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔

سوئٹزرلینڈ کا امریکی جنگی طیاروں کو فضائی حدود دینے…

ایک عوامی سروے کے مطابق تقریباً 54 فیصد امریکی شہری ایران کے معاملے میں صدر ٹرمپ کی پالیسی سے اختلاف رکھتے ہیں۔ جماعتی لحاظ سے، تقریباً 89 فیصد ڈیموکریٹس جنگ کے مخالف ہیں، جبکہ تقریباً 77 فیصد ریپبلکن اس کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم ریپبلکن ووٹروں میں بھی تقسیم موجود ہے: جو خود کو "میگا” یعنی ٹرمپ کے سخت حامی کہتے ہیں ان میں تقریباً نو میں سے دس افراد جنگ کے حق میں ہیں، لیکن وہ ریپبلکن جو اس گروپ سے وابستہ نہیں ہیں، ان میں مخالفت زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔

امریکی پوڈکاسٹر جو روگن نے اس جنگ کو "انتہائی پاگل پن” قرار دیا، جبکہ سابق رکن کانگریس مارجوری ٹیلر گرین نے کہا کہ امریکی عوام مزید بیرونی جنگوں کے خلاف ووٹ دیتے ہیں۔

کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات دیکھنے کو ملے۔ ریپبلکن رکن کانگریس تھامس ماسی نے ایک بل کی حمایت کی جس سے کانگریس کو جنگ پر ویٹو کا اختیار مل سکتا تھا، لیکن یہ تجویز کامیاب نہیں ہو سکی۔

اب تک جنگ سے متعلق واقعات میں کم از کم 13 امریکی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں عراق میں طیارہ حادثے میں مارے گئے چھ فوجی بھی شامل ہیں۔

Back to top button