ایران اور امریکہ میں سفارت کاری سے بھارت کی نیندیں حرام

پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے مابین ثالثی کی کوششوں کے درمیان انڈیا کی مودی سرکار کو یہ پریشانی کھائے جا رہی ہے کہ اگر یہ کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو پاکستان کا سفارتی قد کاٹھ اور اس کی حیثیت بھی بڑھ جائے گی اور بھارت پیچھے رہ جائے گا۔ اسرائیل اور امریکہ کے شدید حملوں کے درمیان ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کرانے کے لیے پاکستانی کوششیں تیز ہونے کے بعد بھارت آئسولیٹ ہوتا نظر آتا ہے اور اس کی سفارت کاری پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
خطے میں بدلتی ہوئی صورت حال نے نا صرف پاکستان کو ایک اہم سفارتی کردار میں لا کھڑا کیا ہے بلکہ بھارت کی خارجہ پالیسی پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان جیسے دوست ممالک کے ذریعے ایران کو پیغامات ضرور بھجوائے گئے ہیں، تاہم تہران کا فی الحال مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ موجودہ جنگی ماحول میں اگرچہ یہ واضح نہیں کہ دونوں فریق بات چیت پر آمادہ ہوں گے یا نہیں، لیکن یہ بات نمایاں ہے کہ پاکستانی ثالثی کی کوششوں کو صدر ٹرمپ کی مکمل حمایت حاصل ہے جن کو اس وقت مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ عالمی توجہ اس وقت اسلام آباد پر مرکوز ہے اور اس خطرناک تنازع میں پاکستان کا ثالث کے طور پر ابھرنا بھارت میں ایک بڑی بحث کا سبب بن چکا ہے۔
تجزیہ کاروں اور مبصرین کی ایک بڑی تعداد جہاں بھارت کی امریکہ اور اسرائیل نواز پالیسی پر تنقید کر رہی ہے، وہیں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر پاکستان ثالثی میں کامیاب ہو گیا تو عالمی سطح پر اس کا مقام نمایاں طور پر بلند ہو جائے گا۔
اپوزیشن کانگریس کے رہنما ششی تھرور نے بھی اس صورت حال پر کھل کر ردعمل دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ تین ہفتوں سے بھارتی حکومت کو مشورہ دے رہے تھے کہ وہ اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے امن مذاکرات میں کردار ادا کرے، مگر بھارت یہ موقع کھو بیٹھا۔ ان کے مطابق پاکستان، مصر اور ترکی نے آگے بڑھ کر کردار ادا کیا، اور اب پاکستان ممکنہ ثالث کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنا امن پلان پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچانا، آرمی چیف عاصم منیر کو ایک ناگزیر ثالث بنا چکا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان پل کے طور پر عاصم منیر کا کردار پاکستان کی بڑھتی ہوئی علاقائی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بھارت کے سینئر صحافی آشوتوش ایک ٹی وی مباحثے میں کہہ چکے ہیں کہ اگر پاکستان اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ ایک سفارتی انقلاب ہو گا جو انڈیا کو بہا کر لے جائے گا۔ ان کے مطابق بھارت چاہے پاکستان پر جتنی بھی تنقید کرے، حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وقت ایک بڑے عالمی بحران میں ذمہ دار کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی موجودہ حکومت اپنی پالیسیوں کے باعث عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو نقصان پہنچا چکی ہے۔
ادھر روزنامہ دی ہندو کی عالمی امور کی مدیرہ سوہاسنی حیدر کا کہنا ہے کہ ثالثی سے فوری طور پر بین الاقوامی حیثیت میں بڑی تبدیلی نہیں آتی، تاہم اگر پاکستان کامیاب ہو جاتا ہے تو ابھرتے عالمی نظام میں اس کی پوزیشن ضرور مضبوط ہوگی۔ انہوں نے یہ یاد دلایا کہ یہ پہلا موقع نہیں جب پاکستان اس نوعیت کا کردار ادا کر رہا ہے، بلکہ ماضی میں بھی امریکہ اور چین کے درمیان رابطے میں اسلام آباد نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
ایران اور امریکہ مذاکرات میں پاکستان پیغام رسانی تک محدود
سوہاسنی حیدر کے مطابق مشرق وسطیٰ کے حوالے سے بھارت کی پالیسی ماضی میں متوازن رہی، مگر حالیہ کشیدگی کے بعد اس میں واضح جھکاؤ امریکہ اور اسرائیل کی جانب نظر آتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت نے ایران پر حملوں کی مذمت نہیں کی، بلکہ خلیجی ممالک پر حملوں کے تناظر میں ایران کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
بین الاقوامی امور کی تجزیہ کار نینیما باسو کے مطابق ایران سے متعلق موجودہ جنگ انتہائی پیچیدہ ہے اور دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانا آسان نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تنازع میں اسرائیل ایک بڑا فریق ہے جبکہ پاکستان کے اس کے ساتھ تعلقات نہیں، اس لیے ثالثی کی کامیابی یقینی نہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اس وقت امریکہ کی حمایت حاصل ہے، جس سے اس کا اعتماد بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ابتدا سے ہی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا، جبکہ پاکستان ایک فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق بھارت کو بھی زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے تھا، کیونکہ ایران ایک قریبی خطے کا اہم ملک ہے۔
کیا شہباز شریف امریکی صدر ٹرمپ کی ضمانت دے سکتے ہیں؟
دوسری طرف بھارت کے اندر اپوزیشن جماعتوں اور سابق سفارتکاروں کی جانب سے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت اپنی روایتی غیر جانبدار پالیسی سے ہٹ چکی ہے۔ بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار امت بروا کے مطابق غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے بعد سے ہی مغربی ایشیا میں بھارت کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران پر حملوں کے دوران بھی بھارت کا ردعمل انتہائی محدود رہا، جس سے اس کی سفارتی حیثیت متاثر ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقاتوں نے پاکستان کی عالمی پروفائل کو بلند کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ایک ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے ثالثی میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ بھارت نے گزشتہ دو دہائیوں میں اس نوعیت کی کوئی بڑی عالمی سفارتی میں پہل نہیں کی۔
