امریکا، ایران جنگ: پاکستان صرف رابطہ کار ہے، ضامن نہیں

پاکستان کے بارے میں یہ تاثر قائم ہو جانے کے باوجود کہ وہ امریکا اور ایران کے مابین اہم ترین سفارت کاری کروا رہا ہے، پاکستانی حکام مسلسل واضح کر رہے ہیں کہ اسلام آباد کا کردار صرف سہولت کاری اور رابطہ کاری تک محدود ہے، تاکہ دونوں فریقین کو بات چیت کی میز پر لایا جا سکے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تاثر کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے مابین کسی ممکنہ معاہدے کا ضامن بنے گا، زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ نہ صرف ایران بلکہ پاکستان بھی صدر ٹرمپ کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، تاہم حالیہ مہینوں میں اس میں اضافے اور ساتھ ہی ممکنہ سفارتی پیش رفت کی خبروں نے عالمی توجہ ایک بار پھر اس تنازع کی طرف مبذول کر دی ہے۔ انہی خبروں کے ساتھ پاکستان کے کردار پر بھی بحث شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقے اسے ثالث، بعض پیغام رساں اور کچھ ناقدین اسے ممکنہ ضامن کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
پاکستانی سفارتی حلقوں کے مطابق اس بحث میں سب سے بڑی غلط فہمی ثالث اور ضامن کے فرق کو نہ سمجھنے کی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں ثالث کا کردار بنیادی طور پر سہولت فراہم کرنا ہوتا ہے، نہ کہ فیصلہ صادر کرنا یا کسی فریق پر شرائط مسلط کرنا۔ ثالث فریقین کو قریب لاتا ہے، ان کے درمیان بطور سہولت کار اعتماد سازی کی کوشش کرتا ہے اور مذاکرات کے لیے ماحول ہموار کرتا ہے۔ اس کے برعکس ضامن کا کردار کہیں زیادہ پیچیدہ اور ذمہ داریوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ ضامن نہ صرف معاہدے کا حصہ بنتا ہے بلکہ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے بھی جوابدہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر عموماً بڑی طاقتیں یا بین الاقوامی ادارے ہی ایسے کردار ادا کرتے ہیں۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کے موجودہ کردار کو دیکھا جائے تو یہ زیادہ تر پس پردہ سفارتکاری یا بیک ڈور ڈپلومیسی تک محدود ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان امریکا اور ایران کے ساتھ الگ الگ سطح پر رابطے میں ہے اور دونوں کے مؤقف، خدشات اور شرائط کو ایک دوسرے تک منتقل کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں اسے سعودی عرب، ترکی اور مصر جیسے ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس عمل میں رازداری کو انتہائی اہمیت حاصل ہے کیونکہ کسی بھی حساس معلومات کے افشا ہونے سے اعتماد سازی کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ لہذا موجودہ عالمی بحران میں ایران اور امریکہ کے مابین پالستان کا کردار بطور ثالث صرف رابطہ کاری تک محدود ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات ہمیشہ آسان نہیں رہے۔ دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، جس کے باعث اکثر معاملات میں کسی تیسرے فریق کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے جو کم از کم رابطے کا ذریعہ بن سکے۔ پاکستان اسی خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کی اس پوزیشن کی ایک بڑی وجہ اس کے دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات ہیں۔ ایک جانب پاکستان کے امریکا کے ساتھ سکیورٹی، اقتصادی اور سفارتی روابط موجود ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ اس کی طویل سرحد، جغرافیائی قربت اور علاقائی تعلقات اسے ایک منفرد حیثیت دیتے ہیں۔ یہی توازن پاکستان کو ایک قابل قبول رابطہ کار بناتا ہے۔
تاہم ایران کا امریکا پر عدم اعتماد اس پورے عمل کا سب سے اہم پہلو ہے۔ تہران متعدد بار یہ واضح کر چکا ہے کہ ماضی کے تجربات، خصوصاً مذاکراتی ادوار کے دوران پیش آنے والے واقعات، نے اس کے اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔ اسی لیے ایران کسی بھی نئی پیش رفت میں غیر معمولی احتیاط کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
سفارتی حلقوں میں یہ اطلاعات بھی زیر گردش ہیں کہ اگر کسی مرحلے پر امریکا اور ایران کے درمیان باضابطہ معاہدہ طے پاتا ہے تو ایران اس کی ضمانت کے لیے روس اور چین جیسی بڑی عالمی طاقتوں کو ترجیح دے سکتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کسی علاقائی ملک کے بجائے عالمی سطح پر اثر و رسوخ رکھنے والے فریقین کو زیادہ قابل اعتماد سمجھتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان خود بھی کسی ایسی پوزیشن میں آنے سے گریز کرے گا جہاں اسے معاہدے کی ضمانت دینی پڑے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ضمانت دینے کے لیے نہ صرف وسیع وسائل بلکہ طویل المدتی سیاسی عزم اور عالمی اثر و رسوخ درکار ہوتا ہے، جو کسی بھی درمیانے درجے کے ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ امریکی صدر کی پالیسیوں میں عدم تسلسل بھی ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ خصوصاً صدر ٹرمپ کے دوسرے دور میں امریکی خارجہ پالیسی میں بارہا اچانک بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، جس کے باعث کئی ممالک امریکا کی طویل المدتی یقین دہانیوں کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بھی کسی ایسا کردار ادا کرنے سے گریز کرے گا جس میں اسے امریکا کے اقدامات کی بالواسطہ ذمہ داری اٹھانی پڑے۔
حامد میر نے صدر ٹرمپ کو ذہنی مریض کیوں قرار دے دیا؟
پاکستانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کا عمل آگے بڑھتا ہے تو اس کا آغاز اعتماد سازی کے اقدامات سے ہوگا۔ ان میں بیان بازی میں نرمی، محدود نوعیت کے تعاون یا انسانی ہمدردی کے معاملات پر پیش رفت شامل ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد ہی کسی باضابطہ معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جس میں متعدد مراحل اور خفیہ ملاقاتوں کے کئی دور شامل ہوں گے۔ ان کے مطابق جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اس پورے عمل میں اس کا ایک اہم مگر محدود کردار ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نہ تو کسی فریق پر فیصلہ مسلط کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی معاہدے کی ضمانت دینے کی پوزیشن میں ہے۔ اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ دو متحارب ممالک کے درمیان رابطے کو ممکن بنا رہا ہے۔
