امریکا فوجی مداخلت کا بہانہ تلاش کر رہا ہے،ایرانی سفیر

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف فوجی مداخلت کا بہانہ تلاش کر رہا ہے۔
امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کو ارسال کیے گئے خط میں کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی عدم استحکام اور تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ ایران کی خودمختاری اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے ذمہ دار ہیں، جبکہ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے نتیجے میں بے گناہ شہری جاں بحق ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ امریکا فوجی مداخلت کے لیے جواز پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بیان کے مطابق امریکا کی پالیسی کا اصل مقصد ایران میں نظام کی تبدیلی ہے اور اس مقصد کے لیے پابندیوں، دھمکیوں اور انتشار کو بطور بہانہ استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم امریکا کا یہ منصوبہ ایک بار پھر ناکام ہو جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جرمن چانسلر کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ برلن انسانی حقوق پر لیکچر دینے کے لیے سب سے بدترین مقام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمن چانسلر وینزویلا کے صدر کے اغوا پر مسلسل خاموش رہے اور غزہ میں 70 ہزار افراد کی شہادت پر خاموشی اختیار کرنے والے جرمنی کو شرم آنی چاہیے۔
