امریکی قانون سازوں کا فوجی قیادت کے احتساب کا مطالبہ

 

امریکی ڈیمو کریٹک پارٹی کے 44 ارکانِ کانگریس نے امریکی وزیرِ خارجہ کے نام ایک خط میں مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستانی فوجی قیادت کا احتساب کریں اور انہیں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے حوالے سے جوابدہ ٹھہرائیں۔ خط میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت فوجی قیادت پر ویزہ پابندی لگانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا امریکی قانون سازوں کا فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جوابدہ بنانے سے متعلق یہ خط ٹرمپ انتظامیہ پر اثرانداز ہو سکتا ہے؟ بظاہر ایسا ممکن نظر نہیں آتا، اور اس کی بنیادی وجہ صدر ٹرمپ اور پاکستان کے فیصلہ ساز حلقوں کے درمیان موجود خوشگوار اور قریبی تعلقات ہیں۔

پاکستانی حکومت یا فوجی ترجمان کی جانب سے امریکی قانون سازوں کے اس خط پر تاحال کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم ماضی میں اس نوعیت کے الزامات کو پاکستانی فوج اور شہباز حکومت سختی سے رد کرتی رہی ہیں اور انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق بیرونی الزامات کو بے بنیاد اور بےہودہ قرار دے کر پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتی رہی ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے 44 ارکانِ کانگریس نے امریکی وزیرِ خارجہ کے نام خط لکھ کر پاکستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال اور مبینہ ریاستی جبر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی فوجی قیادت کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ خط امریکی ایوان نمائندگان کی ارکان پرمیلا جے پال اور کریگ کاسر نے تحریر کیا ہے، جس پر انکے 42 ساتھی ارکانِ کانگریس کے دستخط بھی موجود ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکی قانون سازوں نے پاکستان کی سیاسی صورتحال، انسانی حقوق کے معاملات یا ریاستی اداروں کے کردار پر کھل کر تنقید کی ہے۔ پاکستانی فوج اور حکومت ماضی میں بھی ایسے الزامات کی سختی سے تردید کرتی رہی ہے۔

جن ارکان کانگریس نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو خط ارسال کیا ہے ان میں دو مسلمان ارکانِ کانگریس الہان عمر اور راشدہ طلیب بھی شامل ہیں۔ خط میں پاکستان کی سول حکومت اور فوجی قیادت دونوں پر تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی فوجی حمایت یافتہ حکومت پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے ور اس حوالے سے آواز اٹھانے والوں کو مسلسل دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستانی فوجی قیادت کا احتساب کرے، اسے جوابدہ ٹھہرائے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث فوجی اہلکاروں کے خلاف عملی اقدامات کیے جائیں۔ خط میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت دیگر فوجی عہدیداروں پر ویزہ پابندی اور مالی پابندیوں کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

خط میں سابق وزیر اعظم عمران خان سمیت دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور پاکستان میں عدلیہ کی آزادی سے متعلق ابھرتے ہوئے خدشات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ خط میں امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافی احمد نورانی اور گلوکار سلمان احمد کی مثالیں دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ان کے اہلخانہ کو ہراساں کرنے کے واقعات پیش آئے ہیں اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کو دھمکیوں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام اقدامات آزادی اظہار کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہیں اور شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے آرٹیکل 19 سے متصادم ہیں، جس پر امریکہ اور پاکستان دونوں نے دستخط کر رکھے ہیں۔

خط میں امریکی حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف ٹارگٹڈ اقدامات کرے، ان کے ویزوں پر پابندی عائد کرے اور ان کے اثاثے منجمد کیے جائیں۔ اس کے علاوہ خط میں ورجینیا میں مقیم تحقیقاتی صحافی احمد نورانی کے اہلخانہ کے اغوا کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا کہ احمد نورانی فوج میں بدعنوانی سے متعلق رپورٹنگ کرتے رہے ہیں جس کے بعد ان کے خاندان کو پاکستان میں بارہا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اس معاملے میں کسی ریاستی ادارے کے ملوث ہونے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی اس حوالے سے متعلقہ حکومتی ادارے کا کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی قانون سازی یا خطوط وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں مگر عملی طور پر یہ کبھی زیادہ آگے نہیں بڑھتے۔ ٹیکساس کی لیمار یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر اویس سلیم کے مطابق امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی، خصوصاً پی ٹی آئی سے وابستہ حلقے، عرصہ دراز سے واشنگٹن میں لابنگ کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ایسے خط سامنے آتے رہتے ہیں مگر امریکی حکومت اس معاملے میں دلچسپی نہیں لیتی۔ ان کے مطابق رواں برس جنوری میں پاکستان سے نان نیٹو اتحادی کا درجہ واپس لینے کا بل پیش کیا گیا تھا، جبکہ مارچ میں عمران خان کی رہائی اور پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت کی امریکہ میں داخلے پر پابندی کا بل پیش کیا گیا تھا۔ تاہم یہ تمام بل ایوان کے ریکارڈ تک محدود رہے اور ان پر کوئی عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔ اسی طرح ستمبر میں بھی اس نوعیت کا ایک بل سامنے آیا تھا جسے دونوں جماعتوں کے ارکان کی حمایت حاصل تھی، لیکن اس کے باوجود ان بلز پر کوئی کارروائی نہ ہو سکی۔

پروفیسر اویس سلیم کے مطابق جب ایوان میں پیش کیے گئے بل ہی آگے نہیں بڑھے تو صرف ایک خط سے کسی بڑی تبدیلی کی توقع کرنا بھی غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوان نمائندگان میں کسی بھی بل پر بحث ہوتی ہے، پھر وہ کمیٹیوں میں جاتا ہے، اس پر ووٹنگ ہوتی ہے اور اس کے بعد صدر کو بھجوایا جاتا ہے۔ پاکستان سے متعلق جتنی بھی قراردادیں یا بل پیش کیے گئے، وہ کبھی اس عمل کے آخری مراحل تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ امریکی قانون سازوں میں پاکستان کے حوالے سے کوئی خاص دلچسپی یا جوش و خروش موجود نہیں ہے۔

پاکستانی تجزیہ کاروں کے مطابق رواں برس جس طرح فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی واشنگٹن آمد کے دوران ان کی آؤ بھگت ہوئی، اسکے بعد امریکی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف کوئی سخت قدم اٹھائے جانے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ میں سیاسی حلقے اور انسانی حقوق کے کارکن پاکستان کی طرزِ حکمرانی پر سوالات اٹھاتے رہتے ہیں، لیکن امریکی ریاستی پالیسی خطے اور مشرقِ وسطیٰ سے متعلق معاملات میں پاکستان کو ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھتی ہے اور اس میں تبدیلی کا امکان فی الحال نظر نہیں آتا۔

Back to top button