امریکی بحریہ نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیئے، ٹائٹن کی تلاش ناممکن

ٹائی ٹینک کا ملبہ دیکھنے کے لیے زیر سمندر جانے والی آبدوز کی تلاش ناممکن دکھائی دے رہی ہے، امریکی بحریہ نے بھی سمندر کی انتہائی حد تک جانے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہو سکتا جبکہ آبدوز میں آج شام چار بجے تک کی آکسیجن موجود ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق اتوار کو لاپتا ہونے والی آبدوز کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے اور روبوٹ سے لیس فرانسیسی جہاز اٹلانٹا لاپتا ٹائٹن کی تلاش کے مقام کے قریب پہنچ گیا ہے۔
:max_bytes(150000):strip_icc():focal(724x466:726x468)/oceangate-submersible-titan-062023-3-b5ad9a0a57304210aec4dd91f831d4bf.jpg)
برطانوی میڈیا کے مطابق فرانسیسی جہاز پر موجود روبوٹ 6 ہزار میٹر تک ڈائیو کر سکتا ہے اور سمندر کی تہہ میں اٹکی چیز کو نکال سکتا ہے، روبوٹ ٹائٹن جیسی بھاری شے کو سمندر کی تہہ سے اوپر نہیں لا سکتا۔
دوسری جانب امریکی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ ٹائٹن کی تلاش کے دوران گزشتہ روز 2 بار زیرِ سمندر آوازیں سنی گئی تھیں جس کے بعد آوازوں کے اطراف کے علاقے کی تلاشی کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق ریسکیو ٹیمیں ٹائٹن کو تلاش کرنے کی انتھک کوششیں کر رہی ہیں، اس حوالے سے غیرملکی خبر ایجنسی کا بتانا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور فرانس کی ٹیمیں آبدوز کی تلاش میں مصروف ہیں۔
واضح رہے کہ ٹائی ٹینک کا ملبہ دکھانے کے لیے ٹائٹن سیاحتی مشن پر اتوار کو گہرے سمندر میں جانے کے بعد لاپتا ہوگئی تھی۔
