امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو اہم نان نیٹو اتحادی قرار دیدیا

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کو اہم نان نیٹو اتحادی قرار دیدیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا بھرپور اور پُرتپاک استقبال کیا، جب وہ اپنے اہم اور معاہدوں سے بھرے دورے پر پہلی بار وائٹ ہاؤس پہنچے۔
جنوبی لان میں منعقد ہونے والی اس استقبالیہ تقریب کی قیادت خود ٹرمپ نے کی، جس میں فوجی گارڈ آف آنر، توپوں کی سلامی اور امریکی جنگی طیاروں کی فلائی پاسٹ بھی شامل تھی۔
یہ ملاقات دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت اور دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک کے درمیان اس اسٹریٹجک تعلق کو اُجاگر کرتی ہے، جسے ٹرمپ نے اپنی دوسری مدتِ صدارت میں اہم ترین ترجیح قرار دیا ہے—خصوصاً اس وقت جب سعودی ناقد صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر عالمی ردعمل وقت کے ساتھ کم ہوتا چلا گیا ہے۔
منگل کو اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے محمد بن سلمان نے 2018 میں واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار کے قتل کو "ایک نہایت بڑی غلطی” قرار دیا۔
سعودی ایجنٹس کے ہاتھوں ہونے والے اس واقعے پر انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی تکلیف دہ اور افسوسناک معاملہ تھا، اور سعودی قیادت کوشش کر رہی ہے کہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔
تاہم ٹرمپ نے اپنے مہمان کا دفاع کرتے ہوئے خاشقجی کو "انتہائی متنازع شخصیت” قرار دیا۔
ایک رپورٹر کے سوال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "آپ کو ہمارے مہمان سے ایسا سوال کر کے انہیں شرمندہ نہیں کرنا چاہیے۔ بہت سے لوگ اس شخص کو پسند نہیں کرتے تھے… جو ہوا سو ہوا، لیکن شہزادہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔”
واضح رہے کہ خاشقجی کو 2018 میں استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا تھا، جس سے شدید سفارتی بحران پیدا ہوا۔ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارت میں اس پر تنقید تو کی، تاہم سعودی حکام نے بعد ازاں اس کارروائی کو قیادت کے علم سے ہٹ کر ایک "بغاوتی” آپریشن قرار دیا۔
اوول آفس میں گفتگو کے دوران ٹرمپ نے محمد بن سلمان کو "ایک بہترین دوست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ولی عہد نے انسانی حقوق سمیت کئی محاذوں پر "ناقابل یقین کام” کیا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ طے پا چکا ہے، تاہم اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ سعودی عرب کو جدید ترین امریکی اے آئی چِپس کی فروخت کی منظوری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے بتایا کہ ابراہم معاہدوں کے حوالے سے بھی ان کی محمد بن سلمان سے مثبت نوعیت کی گفتگو ہوئی ہے۔
ابراہم معاہدوں میں شمولیت—محمد بن سلمان کی خواہش
محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے ٹرمپ کے ابراہم معاہدوں کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن اس سے قبل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک واضح راستہ ضروری ہے۔
اوول آفس میں بیٹھے ہوئے انہوں نے کہا: "ہم ابراہم معاہدوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں، مگر ساتھ ہی ہم یہ بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ دو ریاستی حل کی طرف واضح پیش رفت ممکن ہو۔ ہم مناسب حالات بنانے پر کام کریں گے۔”
ٹرمپ نے ایسے کسی بھی مفادات کے ٹکراؤ کی تردید کی، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مذاکرات پر اُن کے بیٹوں کی حالیہ سعودی رئیل اسٹیٹ ڈیل کا اثر ہو سکتا ہے۔
اپنے روزانہ کے سفارتی پروگرام کے دوران، ولی عہد محمد بن سلمان کابینہ روم میں ظہرانے میں شریک ہوں گے اور شام کو ایک بلیک ٹائی ڈنر میں شرکت کریں گے—جس سے اس دورے کو تقریباً سرکاری ریاستی دورے جیسا پروٹوکول حاصل ہو گیا ہے۔
