پاکستانی کمپنیوں پر امریکی پابندیوں سے دفاع متاثر ہونے کا خدشہ

امریکہ کی جانب سے 19 پاکستانی کمپنیوں پر برآمدی پابندیاں دفاعی اور صنعتی شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دی جا رہی ہیں کیونکہ اس سے پاکستان کو جدید ترین ٹیکنالوجی کے حصول میں سنجیدہ مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا۔ لیکن یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستانی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، ماضی میں بھی امریکہ کی جانب سے ایسی پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔ گزشتہ برس دسمبر میں پاکستان کے سرکاری ادارے نیشنل ڈیفنس کمپلیکس کو امریکہ کی جانب سے پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ادارہ پاکستان کے میزائل سسٹمز کا ذمہ دار ہے۔
بین الاقوامی تعلقات پر نظر رکھنے والے پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی امریکی پابندیوں سے پاکستان کے دفاعی منصوبے اور اس کے صنعتی ترقی کے اہداف بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ یہ معاملہ پاکستان کے لیے سفارتی لحاظ سے بھی کافی پریشان کن ہے کیونکہ اس سے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔ انکے مطابق عالمی برادری اور خاص کر مغربی ممالک میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان اب بھی جوہری اور دفاعی معاملات میں شفافیت سے اجتناب برت رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان ایسے کسی بھی تاثر کو ہمیشہ رد کرتا آیا ہے۔ اسکا یہ مؤقف رہا ہے کہ پاکستان کے جوہری اور میزائل پروگرام عالمی معیار کے مطابق محفوظ ہیں۔
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی کمپنیاں بار بار ایسی امریکی پابندیوں کی زد میں اس لیے بھی آتی ہیں کیونکہ ان کو حساس نوعیت کے کاروبار اور ٹیکنالوجیز کے حوالے سے واضح بین الاقوامی قواعد اور پابندیوں سے آگہی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات کمپنیوں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ جو کاروبار وہ کر رہی ہیں وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی میں ہو رہا ہوتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک واضح، مضبوط اور شفاف ریگولیٹری نظام قائم کرے اور اس پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ اگر پاکستان ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچا جا سکتا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کے تعلقات بھی بہتر ہوسکتے ہیں۔ بصورت دیگر پاکستان عالمی سطح پر مسلسل ایسے مسائل کا سامنا کرتا رہے گا جس سے ملک کے دفاعی، صنعتی اور سفارتی مفادات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔
یاد رہے کہ حالیہ امریکی پابندی کی زد میں آنے والی 70 کمپنیوں میں سے 19 پاکستانی جبکہ 42 چین کی ہیں۔ انکے علاوہ متحدہ عرب امارات، ایران، فرانس، افریقہ، سینیگال اور برطانیہ کی کمپنیاں بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آئی ہیں۔ امریکہ نے جن ممالک کی کمپنیوں اور اداروں کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے، انکے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ممالک امریکی قومی سلامتی یا خارجہ پالیسی اور امریکی مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ امریکی حکومت کا دعویٰ ہے کہ جن اداروں پر پابندیاں لگائی گئی ہیں وہ امریکی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے منافی کام کر رہے ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے 19 پاکستانی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں لگائے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے یہ اقدام یکطرفہ ہے۔ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کمرشل کمپنیوں پر امریکہ کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں یکطرفہ ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ یہ پابندیاں بنا ثبوت کے لگائی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ ایسا پہلی بار نہیں کہ امریکہ نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی کمپنیوں کو ‘قومی سلامتی کے لیے خطرہ’ قرار دیتے ہوئے ان پر پابندیاں عائد کی ہوں۔
اپریل 2024 میں بھی امریکہ نے چین کی تین اور بیلاروس کی ایک کمپنی پر پاکستان کے میزائل پروگرام کی تیاری اور تعاون کرنے کے الزام میں پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل دسمبر 2021 میں بھی امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری اور میزائل پروگرام میں مبینہ طور پر مدد فراہم کرنے کے الزام میں13 پاکستانی کمپنیوں پر پابندیاں لگا دی تھیں۔ 2018 میں بھی امریکہ نے پاکستان کی ان 7 انجینیئرنگ کمپنیوں کو سخت نگرانی کی فہرست میں شامل کیا تھا جو امریکہ کے بقول مبینہ طور پر جوہری آلات کی تجارت میں ملوث ہیں اور اُس کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے لیے خطرہ ہو سکتی ہیں۔
امریکی محکمہ تجارت کے بیورو آف انڈسٹریز اینڈ سکیورٹی کی رپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں کو اس فہرست میں شامل کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت فراہم کر رہی تھیں۔ بیورو آف انڈسٹریز اور سکیورٹی کی جانب سے جاری ہونے والی ایک دستاویز کے مطابق اب ان کمپنیوں پر امریکہ سے کسی بھی قسم کی ٹیکنالوجی، آلات یا سافٹ ویئر کی خریداری پر پابندی ہو گی۔ ان کمپنیوں کو امریکی منڈیوں میں بھی کاروبار کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو گا۔ اس فہرست میں شامل کمپنیوں میں سے کچھ کو جوہری سرگرمیوں میں معاونت فراہم کرنے جبکہ کچھ کو میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں مدد دینے کا الزام لگایا گیا ہے۔امریکی محکمہ تجارت کے مطابق یہ کمپنیاں پاکستان کے غیر محفوظ جوہری پروگرام کے لیے ضروری ٹیکنالوجی اور سازوسامان فراہم کر رہی تھیں۔ ان کمپنیوں پر الزام ہے کہ یہ ایسے حساس پرزے اور ٹیکنالوجی فراہم کر رہی تھیں جو پاکستان کے میزائل پروگرام کی ترقی میں استعمال ہو سکتی تھیں۔
امریکی قانون کے تحت ان کمپنیوں کو اب امریکہ سے کسی بھی قسم کی ٹیکنالوجی، آلات یا سامان درآمد کرنے کے لیے خصوصی اجازت یعنی لائسنس درکار ہو گا۔
پاکستانی ریاست نے عوام کی سچ تک رسائی ناممکن کیوں بنا ڈالی ؟
بیورو آف انڈسٹریز اور سکیورٹی کے مطابق لائسنس کے حصول کی درخواست ‘پریزمپشن آف ڈینائل’ کی بنیاد پر دیکھی جائے گی یعنی عام طور پر لائسنس دینے سے انکار کا قوی امکان رہے گا۔
