امریکہ کاایران کےساتھ جنگ پریومیہ خرچ 1ارب ڈالرتک پہنچ گیا

امریکا کا ایران کے ساتھ جنگ کے دوران یومیہ خرچ ایک ارب ڈالر سے بھی تجاوز کرگیا۔

دی اٹلانٹک میگزین سے منسلک امریکی صحافی نانسی یوسف نے ایکس پر اپنی حالیہ  رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پینٹا گون کے اندزوں کے امریکہ ایران کیخلاف جنگ پر یومیہ ایک ارب ڈالر خرچ کر رہاہے۔

رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں "لامتناہی جنگوں” کی مخالفت کی تھی، لیکن اب ایک نئی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کا اندازہ ہے کہ ایران کے خلاف جنگ پر یومیہ ایک ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔

ڈیلی ایکسپریس یو ایس کے مطابق اگرچہ اس رپورٹ کی ابھی تک باقاعدہ تصدیق نہیں ہوئی، تاہم اس کے اعداد و شمار دیگر پالیسی اداروں اور بجٹ ماہرین کے اندازوں سے ملتے جلتے ہیں۔

مثال کے طور پر غیر جانب دار پالیسی ادارے سنٹر فار امریکی پراگریس نے براون یونیورسٹی کی  جنگی اخراجات نامی  رپورٹ کی بنیاد پر اندازہ لگایا کہ 28 فروری سے 2 مارچ تک اخراجات 5 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزارت خزانہ کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ کے پہلے ہفتے میں اسرائیلی معیشت کو تقریباً 9 ارب شیکل (تقریباً 3 ارب ڈالر) سے زیادہ کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وزارت خزانہ نے کہا کہ اگر پابندیاں کم رہیں تب بھی معیشت کو فی ہفتہ تقریباً 4.3 ارب شیکل نقصان ہوسکتا ہے۔

جنگ کی وجہ سے اسرائیل میں اسکول بند ہیں، عوامی اجتماعات پر پابندی ہے اور زیادہ تر ملازمین گھر سے کام کر رہے ہیں۔

حکومت نے عوام سے کہا ہے کہ وہ غیر ضروری سرگرمیوں میں حصہ نہ لیں تاکہ خطرات سے بچا جا سکے۔

Back to top button