پاکستان نے غزہ جنگ بندی کی قرارداد پر امریکی ویٹو افسوسناک قرار دے دیا

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں مستقل جنگ بندی کی قرارداد پر امریکہ کی جانب سے ویٹو کےبعد پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے ردعمل دیتے ہوئے اسے فسوسناک  قرار دیاہے۔ انہوں نے کہاکہ اس ویٹو سے دنیا کو ایک انتہائی خطرناک پیغام جائےگا اور یہ عالمی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

سلامتی کونسل سے خطاب میں پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے سوال اٹھایاکہ غزہ میں جنگ بندی کےلیے اور کتنا وقت درکار ہے؟ انہوں نے کہاکہ فلسطین میں انسانی المیہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے، اور عالمی برادری کی خاموشی تاریخ میں سیاہ دھبہ بنے گی۔

مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہاکہ پاکستان کو غزہ جنگ بندی کی قرارداد ویٹو ہونے پر افسوس ہے، قرارداد مسترد ہونےسے خطرناک پیغام جائے گا۔

عاصم افتخار نے کہاکہ غزہ کے حالات بد سے بد ترین ہو چکے ہیں، 54 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں،جنگ بندی کی قرارداد مسترد ہونا عالمی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہاکہ سلامتی کونسل کی جانب سے جنگ بندی قرارداد کی ناکامی تاریخ میں یاد رکھی جائےگی۔

ان کاکہنا تھاکہ پاکستان فلسطینی عوام کی بھرپور حمایت جاری رکھےگا،غزہ میں مستقل جنگ بندی،آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتےہیں۔

یاد رہے کہ  امریکا نے سلامتی کونسل میں غزہ میں مستقل جنگ بندی اور امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کی قرارداد ویٹو کردی ہے۔سلامتی کونسل کے 15 میں سے 14 ارکان نے غزہ جنگ بندی مطالبے کے حق میں ووٹ دیا۔قرارداد کے حق میں ووٹ دینےوالوں میں پاکستان بھی شامل تھا۔

Back to top button