امریکی اسلحہ پاک فوج کے خلاف استعمال ہونے کی تصدیق

امریکی حکام نے اس پاکستانی دعوے کی تصدیق کر دی ہے کہ افغانستان سے انخلا کے وقت امریکی افواج نے پیچھے جو جدید اسلحہ چھوڑا تھا اسے تحریک طالبان کے دہشت گرد پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں استعمال کر رہے ہیں۔

امریکی نگراں ادارے ’’سپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن‘‘ نے اپن رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران چھوڑا گیا اربوں ڈالرز مالیت کا اسلحہ، فوجی سازوسامان اور سکیورٹی انفراسٹرکچر اب افغان طالبان کی سکیورٹی مشینری کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔ اس کا بڑا حصہ طالبان کے قبضے میں چلا گیا، جبکہ ایک حصہ پاکستان مخالف دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان تک پہنچ چکا ہے، جو اب پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس نے 2002 سے 2021 تک افغانستان کی تعمیرِ نو اور جمہوری ڈھانچے کی تشکیل کے لیے مجموعی طور پر 144 ارب ڈالرز فراہم کیے، مگر دو دہائیوں کی کوشش کے باوجود نہ تو افغانستان مستحکم ہوا اور نہ ہی وہاں ایک جمہوری ڈھانچہ قائم ہو سکا۔ 137 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ طالبان کے اچانک افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد امریکی افواج کی جانب سے پیچھے چھوڑے گے جنگی سازوسامان کی نگرانی کا کوئی سسٹم نہ بن پایا اور تمام تر اسلحہ طالبان کے ہاتھ لگ گیا۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق انخلا کے وقت تقریباً 7 ارب ڈالرز مالیت کا فوجی سامان پیچھے رہ گیا تھا جس میں ہزاروں فوجی گاڑیاں، لاکھوں چھوٹے ہتھیار، نائٹ وژن آلات اور 160 سے زائد طیارے شامل تھے۔ امریکی انسپیکٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد وہ افغان فوج کے مراکز یا فوجی ساز و سامان کا جائزہ لینے سے مکمل طور پر محروم ہو گئے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹیں اور یو این مانیٹرنگ ٹیم کے مشاہدات اس امریکی رپورٹ کی تائید کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے حال ہی میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں پکڑے گئے کم از کم 63 امریکی نژاد اسلحے کے سیریل نمبر وہی ہیں جو امریکہ نے افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سکیورٹی فورسز کو دیے تھے۔ پاکستانی حکام کے مطابق یہ رائفلیں اور آٹومیٹک کاربائنز اس اسلحے سے کہیں زیادہ جدید ہیں جنہیں TTP جنگجو ماضی میں استعمال کرتے تھے، اور یہی جدید ہتھیار اب پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی 36ویں مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق TTP اس وقت افغانستان کے صوبوں غزنی، ہلمند، قندھار، کنڑ، ارزگان اور زابل میں تقریباً 6 ہزار جنگجوؤں کے ساتھ القاعدہ سے تربیت حاصل کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق القاعدہ کے جنگجوؤں کو اب بھی افغان طالبان حکومت سے مسلسل لاجسٹک سپورٹ مل رہی ہے۔

اس سے قبل UN رپورٹوں میں تفصیل سے بیان کیا گیا تھا کہ افغان طالبان نے TTP کے لیے مہمان خانے، سفری اجازت نامے، اسلحے کے پرمٹ، نقل و حرکت کی سہولتیں اور گرفتار نہ کیے جانے کی گارنٹیاں فراہم کیں، جس کے بعد یہ گروہ افغان سرزمین پر مزید گہرے قدم جما چکا ہے۔

امریکی انسپیکٹرز کی 2025 کی سہ ماہی رپورٹوں میں افغانستان سے سرحد پار پاکستان میں دہشتگردی کے متعدد واقعات کا ذکر بھی کیا گیا ہے جن میں وزیرستان میں درجنوں پاکستانی سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی ہتھیاروں کا افغانستان میں رہ جانا صرف ایک انتظامی غلطی نہیں بلکہ پورے خطے کی سکیورٹی کے لیے شدید خطرہ بن چکا ہے۔ امریکہ نے گزشتہ برسوں میں افغان فورسز کے لیے 96 ہزار زمینی گاڑیاں، 4 لاکھ 27 ہزار ہتھیار، 17 ہزار 400 نائٹ وژن ڈیوائسز اور 162 طیارے خریدے تھے۔ جولائی 2021 تک افغان فضائیہ کے پاس 131 امریکی طیارے فعال تھے، جو اب تقریباً تمام طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔ مزید 11.5 ارب ڈالر افغانستان بھر میں فوجی اڈوں، ہیڈکوارٹرز اور ٹریننگ تنصیبات کی تعمیر پر خرچ کیے گئے، جن میں سے اکثر اب طالبان کے قبضے میں ہیں یا امریکی نگرانی سے مکمل طور پر باہر ہیں۔

امریکی انسپیکٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی تعمیر نو کا امریکی منصوبہ ابتدا ہی سے غلط مفروضوں اور کمزور اتحادیوں کی وجہ سے کمزور بنیادوں پر کھڑا تھا۔ رپورٹ میں اظہار افسوس کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں موجود ایسے طاقتور اور بدعنوان مافیاز کی پشت پناہی کی جو انسانی حقوق کی پامالیوں اور کرپشن میں ملوث تھے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی عوام کے ٹیکسوں سے اکٹھے کیے گئے تقریبا 28 ارب ڈالرز افغانستان میں کرپشن کی وجہ سے ضیاع کا شکار ہوئے۔

رپورٹ میں انسانی نقصان کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کے مطابق دو دہائیوں میں ہزاروں افغان شہری اور 2 ہزار 450 سے زائد امریکی فوجی مارے گئے، لیکن اس کے باوجود آخرکار طالبان دوبارہ اقتدار میں آگئے اور اب وہی اسلحہ استعمال کر رہے ہیں جو امریکہ نے ان کے مخالفین کے لیے خریدا تھا۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں بننے والی عبوری طالبان حکومت کو اب بھی سب سے زیادہ امدادی عطیہ امریکہ ہی دے رہا ہے۔ امریکہ اگست 2021 سے اب تک افغانستان کی طالبان حکومت کو 4 ارب ڈالرز سے زیادہ کی ترقیاتی امداد فراہم کر چکا ہے، تاہم واشنگٹن اب بھی اس مخمصے میں ہے کہ انسانی ہمدردی کے تحت افغان حکومت کو دی جانے والی امداد کو کیسے سکیورٹی خدشات کے ساتھ جوڑے۔

Back to top button