ویڈیو سکینڈل:عثمان مرزا سمیت 5 ملزموں کو عمر قید

اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون کے ایک فلیٹ میں ایک جوڑے کی برہنہ ویڈیو بنانے اور انھیں جنسی عمل پر مجبور کرنے کے مقدمے میں عدالت نے مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت پانچ ملزمان کوعمرقید کی سزا سنا دی، ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے جمعے کی صبح مقدمے کا فیصلہ سنایا۔
کیس کے مرکزی ملزم ملزم عثمان مرزا،محب بنگش، ادارس قیوم بٹ،حافظ عطا الرحمن اور فرحان شاہین کو عمر قید جبکہ دو ملزموں عمر بلال مروت اور ریحان حسین کو بری کر دیا گیا، جنوری 2022 میں متاثرہ جوڑے نے عدالت کے سامنے اپنا بیان بدل لیا، مزید پیروی سے انکار کر دیا تاہم حکومت نے اس مقدمے کو لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔
واقعہ کا نوٹس وزیر اعظم عمران خان نے بھی لیا اوراس وقت کے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو طلب کر کے اس مقدمے کی تفتیش جلد از جلد اور مقدمے کا چالان متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا، مقدمے کے مرکزی ملزم سمیت تمام ملزموں کو پولیس تحویل میں نہانے اور کپڑے تبدیل کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی، 16 جولائی 2021 کو متاثرہ جوڑے نے اڈیالہ جیل میں تین ملزموں کو شناخت کیا۔
26 ستمبر 2021 کو پولیس نے اس مقدمے کا چالان متعلقہ عدالت میں پیش کیا، متاثرہ لڑکی نے مجسٹریٹ کو دیے گئے بیان میں کہا کہ کس طرح ملزمان نے متاثرہ جوڑے کو ملزمان کی موجودگی میں سیکس کرنے پر مجبور کیا گیا، متاثرہ لڑکی نے تفتیش کے دوران بتایا تھا کہ چونکہ ملزموں نے ان کی موجودگی میں اس کے منگیتر کا پاجامہ اتارا تھا جس کی وجہ سے وہ ڈر گئی تھی۔
اس مقدمے کے ایک ملزم عمر بلال نے مختلف اوقات میں ان کے منگیتر سے بارہ لاکھ روپے حاصل کیے اور یہ کہہ کر یہ رقم وصول کی گئی کہ اگر متاثرہ جوڑے نے یہ رقم نہ دی تو ان کی یہ ویڈیو ان کے گھر والوں کو دکھا دی جائے گی، 28 ستمبر 2021 کو تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کردی گئی تاہم ملزمان نے فرد جرم سے انکار کیا۔
مقدمے میں استغاثہ کی جانب سے 26 گواہان عدالت میں پیش کیے گئے، مقدمہ تھانہ گولڑہ کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا، سات ملزمان کی طرف سے اپنے دفاع میں ایک بھی گواہ عدالت میں پیش نہیں کیا اور اس مقدمے کے مدعی سب انسپیکٹر عاصم غفار نے اس مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کے جج کو بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس کے پاس اس واقعہ کا کوئی چشم دید گواہ نہیں۔
واضح رہے کہ نور مقدم قتل کے مقدمے میں بھی پولیس کے پاس اس واقعہ کا کوئی چشم دید گواہ موجود نہیں تھا تاہم فرانزک رپورٹس کی روشنی میں اس مقدمے میں تین ملزمان کو سزائیں سنائی گئیں۔
