امریکا کا نیا عالمی تجارتی ٹیرف : پاکستان پر 19 فیصد، بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد

امریکا نے آج سے دنیا بھر کے ممالک پر تجارتی ٹیرف کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے، جس میں پاکستان کو بھارت کی نسبت نمایاں رعایت دی گئی ہے۔ پاکستانی مصنوعات پر 19 فیصد جوابی ٹیرف عائد کیا گیا ہے جب کہ بھارت پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ سے متعلق ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں۔ اس حکم کے تحت کینیڈا پر ٹیرف 25 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد، بھارت پر 25 فیصد، جبکہ بنگلادیش پر 20 فیصد، ترکیہ اور اسرائیل پر 15 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق جنوبی افریقا پر 30 فیصد اور سوئٹزرلینڈ پر 39 فیصد ٹیرف لاگو کیا گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکا کے قریبی اتحادی اسرائیل پر بھی 15 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ کینیڈا کے ساتھ پالیسی اختلافات کے باعث اس پر ٹیرف 10 فیصد اضافے کے ساتھ 35 فیصد کر دیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے بیان کے مطابق جن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف لاگو کیا گیا ہے ان میں برطانیہ، برازیل اور فاکلینڈ آئی لینڈز شامل ہیں۔

15 فیصد ٹیرف والے ممالک میں ترکیہ، اسرائیل، افغانستان، بولیویا، انگولا، بوٹسوانا، کیمرون، چاڈ، کوسٹا ریکا، کانگو، آئیوری کوسٹ، ایکواڈور، گنی، فجی، گھانا، گیانا، اردن، لیسوتھو، مڈغاسکر، آئس لینڈ، جاپان، ملاوی، نمیبیا، نورو، ماریشس، موزمبیق، نیوزی لینڈ، شمالی مقدونیہ، نایجیریا، ناروے، پاپوا نیوگنی، جنوبی کوریا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو، وناوتو، یوگنڈا، وینزویلا، زیمبیا اور زمبابوے شامل ہیں۔

نکاراگوا پر 18 فیصد، جب کہ پاکستان کے ساتھ ملائیشیا، انڈونیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا پر 19 فیصد ٹیرف لاگو کیا گیا ہے۔

سری لنکا، بنگلادیش، ویتنام اور تائیوان پر 20 فیصد، قازقستان، بھارت، تیونس اور مالدووا پر 25 فیصد، اور لیبیا، الجزائر، بوسنیا ہرزیگوینا و جنوبی افریقا پر 30 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔

میانمار اور لاوس پر 40 فیصد جب کہ شام پر سب سے زیادہ یعنی 41 فیصد ٹیرف نافذ کیاگیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو ٹیرف میں دی گئی رعایت،پاکستان کی مؤثر اور متوازن خارجہ پالیسی کا مظہر ہے۔

تجارتی معاہدہ مکمل، پاکستان ایک دن بھارت کو تیل فروخت کرے : ڈونلڈ ٹرمپ

یہ اقدام فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات، وزیر اعظم شہباز شریف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے روابط، وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ سے حالیہ ملاقات اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی وزیر تجارت سے مذاکرات کا نتیجہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس رعایت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے حکمت عملی سے کام لینا ہوگا۔

Back to top button