عید کے بعد تمام پاکستانیوں کیلئے ویکسینیشن کھولی جاسکتی ہے

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین کی سپلائی امید کے مطابق رہی تو عید کے بعد تمام پاکستانیوں کےلیے ویکسینیشن کھول دیں گے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک ویکسینیشن کی خریداری کےلیے ایک یا دو مینوفیکچررز کی جانب دیکھ رہے ہیں جس کی وجہ سے کھینچا تانی کی صورت حال جاری ہے۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ کورونا کی تیسری لہر میں احتیاط کی زیادہ ضرورت ہے روزانہ 60 سے 70 ہزار ویکسین لگائی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں پر بیماریوں کا زیادہ اثر نہیں ہوتا اور وہ کچھ روز میں ٹھیک ہوجاتے ہیں تاہم 60 سال کے بعد اس کے اثرات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن کے عمل کا جب آغاز کیا گیا تو سب سے پہلے ہیلتھ کیئر ورکرز کو ترجیح دی گئی کیوں کہ انہوں نے باقی کے 22 کروڑ عوام کی حفاظت کرنی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں 6 لاکھ 40 ہزار ہیلتھ کیئر ورکرز کی رجسٹریشن کی گئی تھی جس کے بعد ہم نے عمر کے حساب سے آہستہ آہستہ ویکسینیشن کے عمل کو کھولنا شروع کیا ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ویکسینیشن کی اگلی سپلائی کی ایک دو دن میں تاریخ سامنے آجائے گی جس کے حساب سے ہم ویکسینیشن کے عمل کےلیے مزید اعلان کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری امید کے مطابق ویکسین آئیں تو عید کے بعد تمام پاکستانیوں کےلیے اسے کھول دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت دنیا میں تمام ممالک ایک دو مینوفیکچررز کی جانب دیکھ رہے ہیں جس کی وجہ سے ایک کھینچا تانی کی صورت حال جاری ہے۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے آپ کی عمر کی ویکسین آتی جائے گی آپ کی اس حساب سے پہلے باری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں 17 لاکھ سے زائد 50 سال سے زائد عمر کے لوگوں نے اندراج کرایا ہے جو شاید اس عمر کے افراد پر مشتمل کُل آبادی کا 10 فیصد بھی نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کو ویکسین کی فراہمی کا انتظام کرنے کا مطالبہ سامنے آیا ہے تاہم اب تک کسی کو بھی استثنیٰ نہیں دی گئی ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ چند لوگوں نے بڑی تعداد میں بغیر باری کے ویکسین لگوائی بالخصوص ایک صوبے میں تاہم صدر پاکستان اور وزیر اعظم نے بھی اپنی باری کا انتظار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ویکسین خریدنے والی کمیٹی کا چیئرمین ہوں مگر میری باری نہیں آئی اس وجہ سے نہ مجھے ویکسین لگی ہے اور نہ ہی میری اہلیہ کو لگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بحیثیت قوم سوچیں تو سب کی بہتری اس میں ہے کہ جنہیں وبا کا خطرہ زیادہ ہے ان کےلیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اسد عمر اعلان کرچکے ہیں کہ حکومت عید کے بعد تمام شہریوں کےلیے کورونا ویکسین کی رجسٹریشن کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
