ضمنی انتخابات میں فتح نون لیگ کیلئے چیلنج کیوں بن گئی؟

ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی مہنگائی، پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور ریلیف کی عدم فراہمی کی وجہ سے ضمنی الیکشن میں فتح نون لیگ کیلئے چیلنج بن چکی ہے تاہم مسلم لیگ ن کے رہنما میاں مرغوب احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ ’خالی ہونے والی نشستیں ان کے امیدواروں کی ہیں اور اب بھی انہی کے امیدوار کامیاب ہوں گے۔‘دوسری جانب پی ٹی آئی پنجاب کی صدر یاسمین راشد کے بقول، ’پہلے بھی عوام نے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کو کامیاب کرایا اب بھی وہ سنی اتحاد کونسل کے امیدواروں کو کامیاب کرائیں گے۔‘
تاہم تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق، ’یہ ضمنی انتخاب بھی حالیہ عام انتخابات کا ہی عکس ہوگا۔ لیکن عوام میں کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ لوگ سیاسی جماعتوں کی کارکردگی سے مایوس نظر آتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ آٹھ فروری کے عام انتخابات میں امیدواروں کی ایک سے زیادہ نشستوں پر کامیابی کے بعد خالی نشستوں پر انتخاب ہو رہا ہے جس کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے 21 اپریل کو ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری کیا جاچکا ہے۔اس حوالے سے ملک بھر میں انتخاب کی تیاریاں جاری ہیں جبکہ پنجاب کے متعلقہ اضلاع میں دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد ضمنی الیکشن کے دوران امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے فوج اور رینجرز کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا یے۔
خیال رہے کہ پنجاب میں سب سے زیادہ تین قومی اور 10 صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر ضمنی الیکشن ہو رہا ہے۔پنجاب میں بیشتر نشستیں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے جیت کر چھوڑی ہیں جبکہ ملتان میں ایک قومی اسمبلی کی سیٹ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی نے خالی کی ہے۔زیادہ نشتوں پر مسلم لیگ ن کے امیدواروں کے مد مقابل روایتی حریف پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوار ہیں۔تمام نشستوں پر سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدوار میدان میں اتار دیے ہیں۔ضمنی الیکشن میں چند دن باقی ہیں لیکن جن حلقوں میں الیکشن ہو رہا ہے وہاں روایتی جوش وخروش اور سیاسی کارکن زیادہ متحرک دکھائی نہیں دے رہے۔
مبصرین کے مطابق پنجاب کے ضمنی انتخاب میں سب سے سخت مقابلہ ملتان میں این اے 148 پر ہو رہا ہے۔اس نشست پر یوسف رضا گیلانی نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار بیرسٹر تیمور ملک کو چند سو ووٹوں سے ہرایا تھا۔اب ان کے مد مقابل یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی قاسم گیلانی ہیں۔
لاہور میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کی خالی کی گئی نشست این اے 119 پر ن لیگ کے علی پرویز ملک کا مقابلہ سنی اتحاد کونسل کے میاں شہزاد فاروق سے ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کی خالی کی گئی قصور سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 132 پر ن لیگ کے ملک رشید احمد خان کا مقابلہ سنی اتحاد کونسل کے سردارمحمد حسین ڈوگر سے ہوگا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی لاہور میں خالی کی گئی دو صوبائی اسمبلی کی سیٹوں میں سے ایک پی پی 158 پر ن لیگ کے چوہدری نواز کے مد مقابل سنی اتحاد کونسل کے چوہدری مونس الٰہی ہیں۔
لاہور میں وفاقی وزیر علیم خان کی خالی کردہ نشت پی پی 149 سے استحکام پاکستان پارٹی کے شعیب صدیقی کے مد مقابل سنی اتحاد کونسل کے حافظ ذیشان رشید ہیں۔
گجرات میں وفاقی وزیر چوہدری سالک کی خالی کردہ صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 32 پر حکمران اتحاد کے موسیٰ الہی اور سنی اتحاد کونسل کے امیدوار سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی میں مقابلہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح پنجاب کی دیگر سیٹوں پر مختلف پارٹی امیدوار مد مقابل ہیں۔
دوسری جانب ضمنی انتخابات بارے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما میاں مرغوب احمد کا کہنا یے کہ ’پنجاب میں ہماری قیادت کو ہمیشہ سے مقبولیت حاصل رہی ہے۔ ’ان ضمنی الیکشنز میں بھی ہمارے امیدوار کامیاب ہوں گے۔ زیادہ گہما گہمی اس لیے دکھائی نہیں دے رہی کہ لوگ ضمنی انتخاب میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔‘انہوں نے کہا کہ ’جہاں بھی الیکشن ہو رہا ہے وہاں پہلے بھی بیشتر سیٹیوں پر ہمارے امیدوار ہی کامیاب ہوچکے ہیں۔ جہاں تک مہنگائی اور حکومتی کارکردگی کا تعلق ہے تو ہماری حکومت نے پنجاب میں ایک ماہ کے دوران ہی کھانے پینے کی اشیا سستی کیں۔‘ روٹی 20 سے 16 روپے کی ہوگئی ہے۔ امید ہے کی عوام نون لیگ کی ایک بار پھر فتح یقینی بنائیں گے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی پنجاب کی صدر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ جس طرح عوام نے ہمیں عام انتخابات میں کامیابی دلوائی اور ریکارڈ ووٹ کاسٹ کیے۔ وہ اب بھی عمران خان کی قیادت پر اعتماد کرتے ہیں۔’سنی اتحاد کوسنل کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے والے پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں۔ پہلے تو آزاد حیثیت میں ہی ہمیں عوامی حمایت ملی اب زیادہ ملے گی۔‘
دوسری جانب تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے ’عام انتخابات میں لوگوں کو امید تھی کہ نئی حکومت آئے گی تو حالات تبدیل ہوں گے۔ لیکن موجودہ صوبائی یا وفاقی حکومت نے ابھی تک موثر کارکردگی نہیں دکھائی جس سے لوگ مایوس ہیں۔ جس طرح عام انتخابات میں پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو مہنگائی نے متاثر کیا اب صورت حال زیادہ خراب لگتی ہے۔‘سلمان غنی کے مطابق’تمام سیاسی جماعتیں اب بھی پہلے کی طرح اقتدار میں ہیں لیکن عوام کی مشکلات کم نہیں ہو رہیں۔ یہ سب جماعتوں کے لیے فکر کی بات ہے کہ لوگوں کو جمہوریت کے ثمرات نہیں مل رہے۔ لوگوں کا انتخابی عمل سے اعتماد اٹھتا جارہا ہے نہ معاشی صورت حال قابو میں ہے نہ گڈ گورننس کی طرف کوئی ٹھوس اقدام نظر آتا ہے۔ ایسے حالات میں لوگ انتخابی عمل میں کیسے دلچسپی لے سکتے ہیں۔‘سلمان غنی کے مطابق:’حکمران اتحاد کے حامی ریلیف نہ ملنے پر پریشان ہیں پی ٹی آئی کے حمایتیوں کو پنجاب یا وفاق میں حکومت بنتی دکھائی نہیں دیتی لہذا دونوں طرف ہی لوگ مخمصے کا شکار ہیں۔‘ اس سے لگتا ہے کہ ضمنی الیکشن میں بھی نتائج وہی آئیں گے جو عام انتخابات میں آئے تھے۔
