تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ اپریل میں لےجانے کا امکان

https://youtu.be/GheLv3hHLh0
قومی اسمبلی کے سپیکر کی بجائے وزیراعظم عمران خان کے ٹٹو کا کردار ادا کرنے والے اسد قیصر نے اب اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا عمل اپریل کے پہلے ہفتے تک لٹکانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ تاخیر کر کے وقت حاصل کرنا ہے تا کہ ناراض اتحادی جماعتوں اور باغی اراکین قومی اسمبلی کو راضی کیا جا سکے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ انہوں نے تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلالیا اور جلد فیصلہ ہوجائے گا۔ موصوف نے کہا کہ میں تحریک عدم اعتماد میں رکاوٹ نہیں بنوں گا اور اس پر ووٹنگ اپریل کے پہلے ہفتے تک ہو جائے گی۔ عمران خان کے ذاتی ملازم کا کردار ادا کرنے والے سپیکر نے اصرار کیا کہ وہ قومی اسمبلی کو آئین کے مطابق چلا رہے ہیں اور تحریک عدم اعتماد پر بھی آئین کے مطابق ہی عمل پیرا ہیں۔ دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق تحریک عدم اعتماد داخل ہونے کے بعد 14 روز کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانا اور اس پر رائے شماری کروانا لازمی ہوتا ہے۔

حالیہ کیس میں اپوزیشن نے آٹھ مارچ کو تحریک عدم اعتماد داخل کروائی تھی جس کے بعد 22 مارچ تک اس پر ووٹنگ کروانا لازمی تھا۔ تاہم اسپیکر نے آئین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ابھی تک اس معاملے کو زیر التواء ڈال رکھا ہے اور اب 2 اپریل تک ووٹنگ کروانے کی بات کر رہے ہیں جو کہ کھلی آئین شکنی کے مترادف ہے۔ ان حالات میں اپوزیشن کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا امکان بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

اپوزیشن کو خدشہ ہے کہ سپیکر اسد قیصر نہ صرف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ والے دن کاونٹنگ میں ڈنڈی مار سکتے ہیں بلکہ ووٹنگ کا عمل بھی مزید تاخیر کا شکار کرتے ہیں۔ انکا خیال ہے کہ 25 مارچ کو بلائے گے سیشن کو سپیکر رسمی کارروائی کے بعد ملتوی کر کے 28 مارچ تک ٹالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

حکومتی منصوبے کے مطابق 25 مارچ کو سپیکر ایک حکومتی رکن قومی اسمبلی کی وفات پر دعا کے بعد اجلاس ملتوی کر کے 28 مارچ کو بلائیں گے اور پھر قانون کے مطابق تحریک عدم اعتماد پر تین روز بحث ہونی ہے جسکا اختتام 30 مارچ کو ہو گا۔ چنانچہ سپیکر کا ارادہ ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ یکم اپریل کے بعد کسی بھی روز کروا لیں گے۔ تاہم سپیکر کا اب تک کا کنڈکٹ مکمل طور پر غیر آئینی قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب حکمران جماعت کے رہنماء رولز اور قانون کے حوالے دے کر کہہ رہے ہیں کہ اسپیکر کی رولنگ ہر معاملے میں حتمی ہوتی ہے اور اس پر عدالت میں سوال نہیں اٹھایا جاسکتا. لیکن دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپیکر کو کسی بھی صورت آئین شکنی کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور ان کے اختیارات لامحدود نہیں ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر قومی اسمبلی کا سپیکر چاہے بھی تو عدم اعتماد کی قرارداد پر ہونے والی ایوان کی کارروائی کو زیادہ دنوں تک مؤخر نہیں کر سکتا۔

پاکستان میں انتخابات اور پارلیمان پر گہری نظر رکھنے والے ادارے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے رولز اینڈ پروسیجر کے مطابق عدم اعتماد کی قرارداد جمع ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس 14 روز کے اندر اندر جب بھی بلایا جائے گا تو اجلاس کے پہلے دن کے ایجنڈے پر تحریک عدم اعتماد کی قرارداد بھی شامل ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی طرف سے جب قرارداد ایوان میں پیش کر دی جائے تو سپیکر پر یہ لازم ہوگا کہ اس پر ضابطہ کار کے مطابق کارروائی کرے۔

طریقہ کار بتاتے ہوئے احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ سپیکر قرارداد پیش ہونے کے بعد اس کی منظوری کے لیے ووٹنگ کروائے گا۔ ’اگر اس قرارداد کے حق میں زیادہ ووٹ آئے تو پھر اس قرارداد پر بحث کے لیے تین سے چار دن مقرر کیے جائیں گے جس میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے ارکان اس قرارداد کے خلاف اور حق میں اپنی تقاریر کریں گے۔‘

واضح رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق 25 مارچ کو ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس زیادہ دیر تک نہیں چل سکے گا کیونکہ یہ روایت رہی ہے کہ اگر قومی اسمبلی کا کوئی رکن وفات پا جائے تو فاتحہ خوانی کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا جاتا ہے۔

تحریک عدم اعتماد کی کارروائی آرٹیکل 95 کے تحت چلائوں گا

تاہم پلڈاٹ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک روایت ضرور رہی ہے کہ اگر کوئی رکن قومی اسمبلی وفات پا جائے تو اس اجلاس فاتحہ خوانی کے بعد ملتوی کردیا جاتا ہے لیکن قانون یا قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں ایسی کسی بات کا ذکر نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر قومی اسمبلی کا سپیکر چاہے تو فاتحہ خوانی کے بعد بھی اسمبلی کی کارروائی کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر پر یہ آئینی طور پر لازم ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش ہونے کے سات روز کے اندر اندر اس پر رائے شماری کروائے گا۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کو اور کتنا لٹکاتے ہیں؟

Voting on no-confidence motion likely to take place in April video

 

Back to top button