از خود نوٹس مخصوص حالات میں ہی بیدار کیوں ہوتا ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ اگر دستور میں آرٹیکل 95 موجود ہے تو تحریک عدم اعتماد کے بعد سے پارلیمنٹ ہوا میں کیوں معلق ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس سے متعلق آئین کا آرٹیکل 184 (3) مخصوص حالات میں بیدار ہوتا ہے اور پھر خراٹے لینے لگتا ہے۔ ٹھیک اسی نمونے پر جیسے انتہا پسندی کو بڑے دھارے میں لانے کی خود کاشتہ تحریک لبیک مخصوص وقفوں سے متحرک ہوتی ہے۔
اپنے ایک کالم میں وجاہت مسعود لکھتے ہیں کہ عدلیہ میں اختلافات اور قومی سلامتی کے معاملات کوچہ و بازار میں زیربحث ہیں۔ دو ووٹ کی اکثریت والی حکومت پارلیمنٹ کو موثر نہیں بنا سکتی۔ دو صوبوں میں نگران حکومتوں کے ہوتے ہوئے بنیادی معاشی فیصلے نہیں ہو سکتے۔ مستقل انتظامیہ موجودہ بے یقینی میں مفلوج ہو چکی ہے۔ اگلے چار مہینے میں آٹھ ارب ڈالر ادا کرنا ہیں. ملک کو سنگین ترین معاشی بحران کا سامنا ہے اور سیاسی بساط کا کوئی مہرہ اپنے مقام پر استوار نہیں۔
موجودہ حکومت پر تنقید آسان ہے، اسحاق ڈار پر دشنام سہل ہے، شہباز شریف کی گریز پائی پر تنقید دشوار نہیں، عمران خان کی انتشار پسند سیاست پر تبریٰ کیا جا سکتا ہے لیکن ایسا کرنے سے موجودہ بحران کے تانے با نے واضح نہیں ہو سکتے۔ پچھلے پچاس برس میں ہم نے کوئی ایسا بجٹ پیش نہیں کیا جس میں خسارے کی خبر نہ سنائی گئی ہو۔ کیسے ممکن ہے کہ ایک ملک بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لئے قرض لیتا ہو اور پھر قرض کی ادائی مزید قرض سے کرتا ہو۔ اور پھر نوحہ کناں ہو کہ قرض جی ڈی پی کے 78فیصد تک جا پہنچا۔
وجاہت مسعود کا کہنا ہے کہ معیشت تو پیداوار، تجارت اور راہداری کا نام ہے۔ مشرق اور مغرب میں سرحدیں گرم رکھنے سے تو معیشت پر توجہ نہیں دی جا سکتی۔ یہ نسخہ کس وید نے تجویز کیا تھا کہ ہم 1979، 1989، 2001 اور پھر 2021 میں افغانوں کے گلے میں باہیں ڈالے رکھیں گے۔ کابل کے ہوٹل میں ’لذیذ چائے‘ سے لطف اندوز ہونے والے دراصل قوم کے حلق میں آب تلخ کا پیالہ اتار رہے تھے۔ اگر ہر ماہ پچاس لاکھ ڈالر ہمارے ملک سے افغانستان منتقل ہو رہے ہوں تو ہم اپنی کرنسی مستحکم نہیں کر سکتے۔ کھاد، گندم اور چینی وغیرہ کی اسمگلنگ الگ معاملہ ہے۔
عمران خان کی مفروضہ سیاست کے حامی قوم کو مطلع کریں کہ2008 سے 2021 تک کس نے حقیقی سیاسی قوتوں کو دیوار سے لگایا۔ میمو گیٹ اسکینڈل کس کی سازش تھا؟ کیا پاناماا سکینڈل نواز شریف کو سیاسی میدان سے ہٹانے کا ہتھکنڈہ نہیں تھا۔ دنیا کے کس ملک میں انتخابات سے قبل غیر منتخب نگران حکومتوں کا تصور پایا جاتا ہے؟ کیا نیب کا سابق چیئرمین اپنے طور پر مخصوص سیاسی رہنمائوں کو قید کر رہا تھا۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف جیسے رہنماؤں کو بار بار جلاوطن کیوں ہونا پڑتا ہے؟ آصف زرداری کی پندرہ ماہ پر محیط جلاوطنی اور علی وزیر کی بائیس مہینے قید کس کی انا کو تسکین پہنچاتی تھی۔
وجاہت مسعود پوچھتے ہیں کہ ٹھارہویں آئینی ترمیم کو چھ نکات سے زیادہ خطرناک قرار دینے والے یہ کیوں نہیں سمجھے کہ عدالت عظمیٰ کے حکم پر شق 175 (الف) کے تجاوز سے تین بنیادی دستوری اداروں میں سے ایک ادارہ پارلیمانی احتساب سے بے نیاز ہو جائے گا۔ عمران خان کہتے ہیں کہ توسیع دینے کے بعد جنرل ( ر) قمر باجوہ کا رویہ بدل گیا۔ کیا عمران ایسے ہی سادہ ہیں کہ قمر باجوہ کے مفادات میں جوہری تبدیلی سے بے خبر تھے۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ عمران خان کو مسیحا تسلیم کرنے والے ان کی سفارتی ناتجربہ کاری سے نظر کیوں چراتے رہے۔
آخر میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ اب بھی وقت ہے کہ ملک کے اندر اور باہر خیرخواہ آوازوں پر کان دھرا جائے۔ معاشی مشکلات کا بوجھ عوام پر ڈالنے کی بجائے بنیادی معاشی ترجیحات پر نظرثانی کی جائے۔کمرہ عدالت، نادیدہ ایوانوں اور خارجہ معاملات میں شفافیت اختیار کی جائے۔ خرابی ہمارے ستاروں میں نہیں۔ ہم بالشتیے ہیں اور ماضی کے مزاروں پر سر رکھے بلبلا رہے ہیں۔
