جنگ بندی کے بعد پاکستان اور اسرائیل کے مابین جنگ کا آغاز

 

 

 

امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کے بعد پاکستان اور اسرائیل کے درمیان لفظی محاذ آرائی سے سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایک جانب پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اسرائیل کو ’کینسر زدہ ریاست‘ قرار دے دیا تو دوسری جانب اسرائیل کے وزیرِ خارجہ جدعون ساعر نے اس بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا مؤقف ناقابلِ قبول ہے، خصوصاً اس حکومت کی جانب سے جو خود کو غیر جانبدار ثالث کے طور پر پیش کرتی ہو۔

 

تاہم یہ بیان دینے والے صیہونی وزیر خارجہ بھول گئے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے دو ریاستی فارمولے کی حمایت کرتا ہے۔ یہ پس منظر پاکستان اور اسرائیل کے مابین کشیدگی کو مزید حساس بنا دیتا ہے کیونکہ پاکستانی عوام کی اکثریت فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے اور اسرائیلی پالیسیوں کی مخالف ہے۔

 

یاد رہے کہ خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ اسلام آباد میں سفارتی بات چیت کے دوران اسرائیل نے لبنان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں اور ’نسل کشی‘ جاری رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ، ایران اور اب لبنان میں معصوم شہری مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔ اسی بیان میں انہوں نے اسرائیل کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’کینسر زدہ ریاست‘ قرار دیا، تاہم بعد ازاں یہ پوسٹ ایکس سے ہٹا دی گئی۔

 

لیکن اس بیان کے کچھ ہی گھنٹوں بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا، جس میں کہا گیا کہ پاکستانی وزیرِ دفاع کی جانب سے اسرائیل کی تباہی کی طرف اشارہ انتہائی اشتعال انگیز ہے اور اسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی کہا گیا کہ یہ بات خاص طور پر اس لیے زیادہ سنجیدہ ہے کہ یہ مؤقف ایک ایسے ملک کی طرف سے سامنے آیا ہے جو خود کو امن کا غیر جانبدار ثالث قرار دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل کے وزیرِ خارجہ جدعون ساعر نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی ریاست کو ’کینسر زدہ‘ کہنا دراصل اس کی تباہی کی خواہش کے مترادف ہے اور اسرائیل ایسے بیانات کے باوجود اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ان عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا جو اس کے وجود کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

 

دوسری طرف خطے میں جاری کشیدگی صرف بیانات تک محدود نہیں رہی۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام سے رابطہ کر کے اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی، جبکہ اسرائیلی قیادت کا مؤقف ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے باوجود اس کی سکیورٹی صورتحال خاص طور پر لبنان اور حزب اللہ کے تناظر میں بدستور حساس ہے۔ بنیامن نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیل اپنے شہریوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کا جواب دے گا اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک شمالی سرحدی علاقوں میں مکمل سکیورٹی بحال نہیں ہو جاتی۔

 

ادھر اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے بعد سفارتی سطح پر پاکستان کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل اسلام آباد میں ہونے والے کسی بھی مذاکراتی عمل میں شریک نہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا امریکہ پر اعتماد برقرار ہے۔ اسی طرح بھارت میں تعینات اسرائیلی سفیر رووین آزار نے پاکستان کو ثالثی کے لیے ’ناقابلِ اعتماد ملک‘ قرار دیا اور کہا کہ امریکہ نے اپنی حکمت عملی کے تحت پاکستان کو اس عمل میں شامل کیا ہے۔اسرائیل کے اندر بھی اس معاملے پر اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ اپوزیشن رہنما یائر لاپڈ نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو سیاسی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں اسرائیل کو نظر انداز کیا گیا ہے، جس سے ملک کی سکیورٹی پالیسی پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت اسرائیل کو بحرانوں سے نکالنے کے بجائے مزید بحرانوں میں دھکیل رہی ہے۔

 

عالمی میڈیا میں بھی ایران امریکہ جنگ بندی معاہدے اور خطے کی صورتحال پر بحث جاری ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی کارروائیاں وقتی طور پر روک دی ہیں، تاہم لبنان میں اس کی کارروائیاں جاری ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل صلاحیتوں جیسے معاملات اب بھی غیر واضح ہیں، جو مستقبل میں دوبارہ کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال صرف ایک وقتی سفارتی تناؤ نہیں بلکہ ایک وسیع تر علاقائی تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہی ہے، جس میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق ترکی جیسے ممالک کا کردار بڑھ سکتا ہے جبکہ امریکہ کی مرکزی حیثیت نسبتاً کمزور ہو سکتی ہے۔

یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ اسرائیلی قیادت کے اندر بعض حلقے اس معاہدے کو ایک محدود کامیابی جبکہ بعض اسے ایک موقع کے ضائع ہونے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اسی تناظر میں سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں ایک نیا اتحاد ابھر رہا ہے جس میں ترکی اور بعض دیگر علاقائی قوتیں شامل ہو سکتی ہیں، جو مستقبل میں اسرائیل کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔

 

جنگ بندی کے بعد اگرچہ ایک بڑا عسکری محاذ وقتی طور پر پرسکون ہو گیا ہے، لیکن پاکستان اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی نے ایک نیا سیاسی تناؤ پیدا کر دیا ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کے اندرونی سیاسی اور عوامی جذبات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، جہاں فلسطین کے مسئلے کی وجہ سے اسرائیل کے بارے میں رائے عامہ عمومی طور پر منفی ہے، اور یہی عنصر مستقبل میں پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اسرائیل کے ساتھ کسی بھی ممکنہ سفارتی تعامل کو مزید حساس بنا دیتا ہے۔

Back to top button