افغانستان سے جنگ: پاکستان کے بڑے شہر خطرے میں کیوں ؟

پاک افغان جنگ شروع ہونے کے بعد پاکستان کے بڑے شہروں میں دہشتگردی کے خدشات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، دفاعی ماہرین کے مطابق افغانستان محدود عسکری وسائل اور جدید فضائیہ نہ ہونے کی وجہ سے بھارت یا اسرائیل کے تعاون کے بغیر پاکستان کے خلاف کسی باقاعدہ فضائی کارروائی کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس لئے افغان طالبان ماضی کی طرح پراکسی وار شروع کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ذریعے ملک کے بڑے شہروں میں دہشتگردانہ کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے کون کون سے شہر خطرے میں ہیں؟ افغانستان کی عسکری صلاحیت کیا ہے؟ افغانستان کے پاس کون کون سے ہتھیار موجود ہیں؟

خیال رہے کہ 2021 میں امریکی انخلا کے بعد افغان طالبان کو بڑی مقدار میں اسلحہ اور فوجی سازوسامان ملا جو پہلے افغان نیشنل آرمی کے زیر استعمال تھا۔ اس میں ہلکے اور درمیانے ہتھیار، بکتر بند گاڑیاں، نائٹ وژن آلات اور محدود تعداد میں طیارے اور ہیلی کاپٹر شامل تھے۔تاہم ان میں سے بہت سارا ساز و سامان تکنیکی دیکھ بھال اور تربیت کے فقدان کے باعث مکمل طور پر فعال نہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق افغان طالبان کے ہاتھ لگنے والے اسلحہ کے ذخیرے میں کلاشنکوف اور امریکی ساختہ ایم 16 اور ایم 4 رائفلیں، ایم 249 طرز کی لائٹ مشین گنیں، پی کے ایم اور ایم 240 جیسی ہیوی مشین گنز، آر پی جی-7 اور اے ٹی فور جیسے راکٹ لانچر، گرینیڈ لانچر اور اینٹی ٹینک ہتھیار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ بکتر بند گاڑیاں، ہموی اور دیگر عسکری ٹرانسپورٹ بھی طالبان کے زیرِ استعمال ہیں، اگرچہ ماہرین کے مطابق ان میں سے متعدد گاڑیوں اور نظاموں کی تکنیکی حالت اور طویل المدتی آپریشنل استعداد واضح نہیں۔ تاہم طالبان انھیں استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ بھاری ہتھیاروں کی بات کی جائے تو طالبان نے 2024 میں بگرام ایئر بیس پر ایک فوجی پریڈ کے دوران سکڈ میزائل آر 17 اور البروس آر 300 کی نمائش کی تھی جن کی رینج تقریباً 300 کلومیٹر ہے۔ افغان طالبان اس کے ساتھ ساتھ نمائش میں  122 ملی میٹر ہووٹزر توپیں، گریڈ راکٹ لانچر اور کچھ پرانے سوویت ساختہ میزائل سسٹمز بھی سامنے لائے تھے تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ان نظاموں کی عملی جنگی تیاری اور مؤثر استعمال کی صلاحیت پر سوالات موجود ہیں، کیونکہ یہ ہتھیار طویل عرصے تک غیر فعال رہے یا ذخیرہ گاہوں میں پڑے رہے تھے۔

پاک فضائیہ کا ہدف افغان فوجی تنصیبات اور TTP کے ٹھکانے

دوسری جانب فضائی طاقت کے میدان میں طالبان کو نمایاں کمزوری کا سامنا ہے۔ اگرچہ انہوں نے امریکی افواج کی جانب سے چھوڑے گئے کچھ ایم آئی-17، ایم ڈی 530 اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں سمیت محدود تعداد میں طیاروں کو فعال بنانے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن ایک منظم اور جدید فضائیہ، فضائی دفاعی نظام اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے ہتھیاروں کی عدم موجودگی انہیں خطے کی روایتی فضائی برتری رکھنے والی قوتوں کے مقابلے میں کمزور بناتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اسی وجہ سے پاکستان کے ساتھ جنگ میں افغانستان کا زیادہ انحصاربڑے پیمانے کی روایتی فضائی جنگ کی بجائے زمینی، سرحدی یا غیر روایتی حکمتِ عملی پر ہو گا۔

عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی بڑے پیمانے کی روایتی جنگ میں فضائی برتری فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے، اور اس میدان میں پاکستان کو افغانستان پر واضح سبقت حاصل ہے۔ افغان طالبان امریکی اسلحے اور فوجی سازوسامان تک رسائی حاصل ہونے کے باوجود جدید لڑاکا طیاروں، مربوط فضائی دفاعی نظام اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی میزائل صلاحیت کے بغیر پاکستان جیسے ملک کے خلاف روایتی فضائی جنگ چھیڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ تاہم دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ افغانستان کی موجودہ عسکری قوت کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ماہرین کے بقول اگرچہ افغانستان کے پاس جدید فضائیہ موجود نہیں تاہم طالبان کے پاس بڑی تعداد میں تربیت یافتہ زمینی جنگجو، ہلکے اور درمیانے درجے کے ہتھیار، مارٹر، راکٹ لانچر، بکتر بند گاڑیاں اور بارودی مواد موجود ہے۔ وہ گوریلا طرزِ جنگ، سرحدی علاقوں میں دراندازی، اور محدود پیمانے کی جھڑپوں میں مہارت رکھتے ہیں۔ پہاڑی جغرافیہ اور سرحدی علاقوں کی پیچیدہ زمینی ساخت ایسے عناصر کو غیر روایتی کارروائیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔ دفاعی و انٹیلی جنس ماہرین کے مطابق افغانستان کی طرف سے پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج براہِ راست حملہ نہیں بلکہ پراکسی وار ہے۔ اسی لئے ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سرحدی کشیدگی بڑھنے کے بعد افغان طالبان کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہوں کو متحرک کر کے پاکستان کے بڑے شہروں، حساس تنصیبات یا عوامی مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

پاکستانی فورسز کا 5 افغان چیک پوسٹوں پر قبضہ،جھنڈالہرانے کی ویڈیو وائرل

ماہرین کے مطابق ممکنہ خطرات کی نوعیت میں خودکش حملے، بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگ، یا سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملے شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ پاکستان کی انٹیلی جنس صلاحیت اور انسدادِ دہشتگردی کا ڈھانچہ گزشتہ برسوں میں کافی مضبوط ہوا ہے، جس کے باعث ایسے کئی منصوبے بروقت ناکام بھی بنائے گئے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے حساس مقامات کی نگرانی، داخلی و خارجی راستوں کی چیکنگ اور مشکوک سرگرمیوں کی مانیٹرنگ میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس کے باوجود افغانستان غیر روایتی اور پراکسی حکمتِ عملی کے ذریعے لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد سمیت تمام بڑے شہروں میں دہشتگردانہ کارروائیاں کر کے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

پاک فضائیہ کا ہدف افغان فوجی تنصیبات اور TTP کے ٹھکانے

سیکیورٹی اداروں نے انہی خدشات کے پیشِ نظر ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اہم تنصیبات، سرکاری عمارات، حساس مقامات، تعلیمی اداروں، عبادت گاہوں اور تجارتی مراکز کی سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل سخت کر دیا گیا ہے جبکہ انٹیلی جنس ادارے بھی ممکنہ خطرات کی پیشگی اطلاع اور روک تھام کے لیے متحرک ہو گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

افغان جارحیت کے خلاف پاکستان کاآپریشن غضب للحق جاری،133طالبان ہلاک

دفاعی ماہرین کے مطابق افغانستان براہ راست روایتی جنگ میں پاکستان کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں، تاہم غیر روایتی حکمت عملی، پراکسی عناصر کے ذریعے دباؤ، اور سرحدی عدم استحکام پیدا کرنا ایسے ہتھکنڈے ہو سکتے ہیں جن کے ذریعے کابل اسلام آباد پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کرسکتا ہے۔ افغانستان کا کوئی بھی غیر روایتی اور غیر متوازن ردعمل خطے کے امن و استحکام کے لیے طویل مدتی چیلنج بن سکتا ہے۔

Back to top button