جنگ آخری آپشن ہے لیکن دفاع کا حق محفوظ ہے، صدر زرداری کا پارلیمنٹ سے خطاب

صدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ پاکستان کےلیے آخری آپشن ہے،تاہم اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاع کا حق محفوظ ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ بطور 2 بار منتخب صدر یہ اُن کا پارلیمنٹ سے 9واں خطاب ہے اور ہر خطاب جمہوری تسلسل اور قومی ذمہ داری کی یاد دہانی ہوتا ہے۔

صدر پاکستان آصف زرداری نے نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر خود مختاری کے تحفظ، آئین کی حکمرانی اور معاشی استحکام کو قومی ترجیحات قرار دیا۔

صدر آصف علی زرداری کے خطاب کے دوران اپوزیشن اراکین کی جانب سے ’گو زرداری گو‘ اور ’قیدی نمبر 804، وزیر اعظم عمران خان‘ کے نعرے لگاتے ہوئے شور شرابہ بھی کیا گیا۔

صدر آصف زرداری نے کہا کہ قوموں کا امتحان صرف بحران میں نہیں بلکہ اہم موڑ پر بھی ہوتا ہےاور پاکستان کی طاقت آئین،عوامی ثابت قدمی،پارلیمنٹ و حکومت کی ذمہ داری اور مسلح افواج کے حوصلے میں مضمر ہے۔

صدر مملکت نے قائد اعظم کے جمہوری وژن، شہید ذوالفقار علی بھٹو کے متفقہ آئین اور محترمہ بےنظیر بھٹو کی جمہوریت کےلیے قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے پارلیمنٹ کی بالادستی پر اپنے غیرمتزلزل یقین کا اعادہ کیا۔

صدر پاکستان کاکہنا تھاکہ ماضی میں صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کرنا اسی عزم کا عملی اظہار تھا اور 18ویں ترمیم نے وفاقی وحدت کو مضبوط کیا۔گزشتہ 10 ماہ میں قوم نے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کیااور جب بھی قومی خود مختاری کو چیلنج کیاگیا،پاکستان نے تحمل اور مضبوط عزم کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ دونوں سرحدوں پر بلا اشتعال حملوں کا افواج نے پیشہ ورانہ انداز میں جواب دیا اور ’معرکۂ حق‘ میں بھارتی جارحیت کو تاریخی تذویراتی فتح میں بدلا گیا۔26 فروری کی رات مغربی سرحد پر حملوں کا ذکر کرتےہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے فیصلہ کن کارروائی کرکے واضح کردیا کہ کسی دراندازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

صدر نے شہداء اور ان کے اہلِ خانہ کو خراج عقیدت پیش کرتےہوئے کہاکہ ریاست اُن کی باعزت کفالت کی پابند ہے۔

صدر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک رپورٹ میں افغانستان سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کو علاقائی ہی نہیں بلکہ عالمی خطرہ قراردیا گیا ہے۔القاعدہ، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت متعدد گروہوں کو افغان سر زمین پر محفوظ ٹھکانے میسر ہیں اور دوحہ معاہدے کے وعدے فراموش کیے جارہے ہیں۔

صدر آصف زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان کےلیے جنگ آخری آپشن ہے،تاہم اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاع کا حق محفوظ ہے۔

صدر نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کےلیے مذاکرات ناگزیر ہیں،تاہم جارحیت کی صورت میں پاکستان دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنےکے بھارتی اقدامات کو ’آبی دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے کہاکہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

صدر پاکستان کاکہنا تھاکہ پاکستان اتحاد اور قانون کی طاقت سے اپنے آبی حقوق کا دفاع کرے گا۔

صدر مملکت نے ایران کی خود مختاری کی حمایت کا اعادہ کرتےہوئے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اور امریکا کے درمیان سٹریٹجک تعاون کی نئی راہیں کھل رہی ہیں جبکہ چین کے ساتھ تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچ چکے ہیں۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے صدر شی جن پنگ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ سی پیک فیز 2 بنیادی ڈھانچے میں انقلاب لائے گا۔خلیجی ممالک، آذربائیجان اور ترکی کے ساتھ تعلقات کے فروغ کو بھی اہم قرار دیا گیا۔

آپریشن غضب للحق: خوست میں طالبان رجیم کا ایمونیشن ڈپو تباہ

صدر نے کہا کہ 2022 کےبعد حکومتی اقدامات سے اہم معاشی اشاریے مستحکم ہوئے،تاہم اب توجہ جامع ترقی،روزگار اور براہِ راست ریلیف پر مرکوز ہونی چاہیے،انہوں نے ٹیکس نظام میں شفافیت،ٹیکس دائرہ کار کی توسیع اور ادارہ جاتی اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا۔

صدر آصف علی زرداری نے توانائی اصلاحات،کلین انرجی، زرعی پالیسی، آبی انتظام اور ماحولیاتی انصاف کو سٹریٹجک ترجیحات قراردیتے ہوئے کہاکہ بی آئی ایس پی کے ذریعے سماجی تحفظ کو مضبوط بنایاجائے گا اور خواتین کو ڈیجیٹل رسائی و مالی خود مختاری دی جائے گی۔

 

Back to top button