انڈین آرمی چیف کے پاکستان پر الزام کے بعد لفظی جنگ شروع

انڈین آرمی چیف جنرل اوپیندر دِویدی کی جانب سے پاکستان پر جموں کشمیر میں دراندازی کرتے ہوئے دہشت گرد بھیجنے کے الزام کے بعد دونوں ممالک میں لفظی جنگ چھڑ گئی ہے۔ پاکستانی فوجی ترجمان نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشتگردی کا مرکز قرار دینا حقائق کے منافی ہے اور بھارتی فوجی سربراہ کو مودی کی خوشنودی کی خاطر جھوٹے الزامات لگانے سے پرہیز کرنا چاہیئے۔ فوجی ترجمان نے کہا کہ انڈین آرمی چیف کا الزام انڈین مؤقف کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
واضح رہے کہ چند روز پہلے انڈین آرمی چیف جنرل دِویدی نے کہا تھا کہ پاکستان اب بھی انڈیا کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں عسکریت پسندوں کو بھیج رہا ہے۔ فوجی ترجمان نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈین آرمی چیف کے ریمارکس انڈیا کی کشمیر میں بربریت اور اقلیتوں پر جبر سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ بیان کے مطابق ایسے سیاسی اور غلط بیانات انڈین فوج کی سیاست زدہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں اور پاکستان ایسے بے بنیاد بیانات اور دعووں کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
کرپشن کیس میں عمران کی القادر یونیورسٹی بھی حکومتی تحویل میں چلی گئی
اس سے قبل انڈین فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دِویدی کے دعوے کی پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق ’جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے، جس کی حتمی حیثیت کا تعین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا ہے۔ ’اس تناظر میں انڈیا کے پاس جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں پر فرضی دعوے کرنے کی کوئی قانونی یا اخلاقی بنیاد نہیں۔‘
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ انڈین قیادت کی جانب سے اس طرح کی بیان بازی سے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور انڈیا کے غیر قانونی اقدامات سے عالمی توجہ کو نہیں ہٹایا جا سکتا۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا کہ انڈیا دوسروں پر بے بنیاد الزامات لگانے کی بجائے غیر ملکی سرزمین میں ٹارگٹڈ قتل، تخریب کاری کی کارروائیوں اورریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں اپنی ثابت شدہ شمولیت کا جواب دے۔
اس سے پہلے اپنی پریس کانفرنس میں انڈین آرمی چیف جنرل دِویدی نے دعویٰ کیا تھا کہ کشمیر میں سال 2024 میں مارے گئے 73 دہشت گردوں میں سے 60 فیصد پاکستانی تھے جبکہ اس وقت جو دہشتگرد سرگرم ہیں ان میں 80 فیصد پاکستانی ہیں۔ انڈین فوج کے سربراہ کے مطابق لائن آف کنٹرول پر موٴثر جنگ بندی کے باوجود مسلح عسکریت پسندوں کی دراندازی کا سلسلہ جاری ہے اور ’دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ‘ اب بھی موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر مسلح گروپوں کو پاکستان کی حمایت جاری رہی تو ایل او سی پر دراندازی کا سلسلہ جاری رہے گا تاہم سرحدی علاقوں میں 15 ہزار اضافی فوجیوں کی تعیناتی کے بعد مسلح تشدد میں معنی خیز کمی آئی ہے۔ فوجی سربراہ نے مزید کہا کہ کشمیر میں ’ٹیرراِزم کی جگہ اب ٹوراِزم نے لے لی ہے۔‘
یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا ماضی میں تین باقاعدہ بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں اور اس کے علاوہ متعدد ایسے مواقع بھی آئے جب یہ دونوں چوتھی باقاعدہ جنگ کے دہانے سے واپس پلٹے۔ دونوں ممالک کے حکام ایک دوسرے پر دہشتگردی پھیلانے کے الزامات بھی عائد کرتے رہے ہیں۔
گذشتہ برس دسمبر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے دعویٰ کیا تھا کہ اس برس انڈیا نے 25 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی۔ تجزیہ کار اور مبصرین انڈین فوج کے سربراہ جنرل دِویدی کے بیان کو وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے بیانیے کی ہی ایک کڑی قرار دے رہے ہیں۔
خیال رہے وزیر اعظم مودی کی حکومت نے اگست 2019 میں انڈین آئین سے آرٹیکل 370 کو حذف کردیا تھا جس کے تحت اس کے زیرِ انتظام کشمیر کو نیم خودمختار حیثیت اور خصوصی اختیارات حاصل تھے۔ اس شق کے خاتمے کے بعد انڈیا کے تمام مرکزی قوانین ریاستی اسمبلی کی منظوری کے بغیر کشمیر میں نافذ ہو گئے تھے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ انڈیا کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی اگلے روز دعوی کیا کہ ’ہم نے آرٹیکل 370 کو ہٹا کر جموں کشمیر سے دہشت گردی کو ختم کیا اور مارچ 2026 تک انڈیا سے نکسل ازم کا بھی صفایا کیا جائے گا۔‘ لیکن اکثر مبصرین کہتے ہیں کہ گزشتہ چند برس کے دوران انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایل او سی کے قریبی علاقوں یہاں تک کہ ہندو اکثریتی علاقوں میں مسلح حملوں کے بعد انڈین سکیورٹی فورسز میں تشویش پائی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ 2024 میں جموں کے 10 میں سے آٹھ اضلاع میں مسلح حملے ہوئے جن میں 18 فوجیوں اور 13 عسکریت پسندوں سمیت 44 افراد مارے گئے۔ اس دوارن انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی چند حملے ہوئے لیکن وادی میں مجموعی طور پر حالات پرسکون ہی رہے۔ انڈین فوجی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایسے حملے پاکستان کی جانب سے مسلح دراندازی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
