26نومبراحتجاج کیس میں تحریک انصاف کی سینئرقیادت کےوارنٹ جاری

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے26نومبراحتجاج کیس کے3مقدمات میں سابق صدر عارف علوی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور سمیت دیگر رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔
عدم گرفتاری کے باعث عدالت نے ان مقدمات میں مطلوب رہنماؤں کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی۔
وارنٹ گرفتاری حاصل کرنے والوں میں عمر ایوب، اسد قیصر، شاہد خٹک، خالد خورشید، فیصل امین اور دیگر افراد شامل ہیں۔
پولیس کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور آج سے ہی چھاپوں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ 26 نومبر 2024 کو پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچ نے، جو عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کی قیادت میں خیبر پختونخوا سے اسلام آباد پہنچا، وفاقی دارالحکومت میں اس وقت ہنگامہ آرائی کی جب بیلاروس کے صدر پاکستان کے دورے پر موجود تھے۔
اس دوران مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں 2 رینجرز اہلکار جان سے گئے جبکہ درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ پی ٹی آئی نے بھی اپنے کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، تاہم اس حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے۔
احتجاج کے دوران بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور مظاہرہ چھوڑ کر روانہ ہو گئے، جس کے بعد احتجاج خود بخود ختم ہو گیا۔
مظاہرے کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف تھانوں میں عمران خان، بشریٰ بی بی، علی امین گنڈا پور سمیت متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف دہشت گردی اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔
ان مقدمات میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے، شاہراہیں بند کرنے اور پرتشدد کارروائیوں جیسے الزامات شامل ہیں، جو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے تھے۔
