علی امین گنڈاپور عمران خان کا غدار تھا یا انکا خیر خواہ ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ آج کی پاکستانی سیاست میں عمران خان کے سوشل میڈیا بریگیڈ سے وابستہ جوشیلے یوٹیوبر ہی اُن کے پُرخلوص اور سچے ساتھی شمار ہوتے ہیں، جبکہ علی امین گنڈا پور یا عمران کی سوچ سے اختلاف کرنے والے  پارٹی کے غدار سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا آج نظر آنے والی وفا داری کل عمران کو سیاسی فائدہ دے سکے گی یا نہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ بظاہر خان سے غداری کرنے والے گنڈا پور جیسے لوگ تاریخ میں درست ثابت ہونگےنیا غلط؟۔ وقت ہی سب سے بڑا امتحان ہے۔ گنڈا پور کی سیاست ختم ہو گئی یا اب شروع ہوگی، اس سوال کا جواب جاننے کے لیے بھی انتظار کرنا ہوگا …..!

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ سیاست اور معاشرت، وفا اور بے وفائی، محبت اور بے اعتنائی یہ سب ازل سے جاری ہے اور یوں ہی جاری رہےگا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک روز ان کی پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے ساتھ گپ شپ چل رہی تھی۔ سلمان تاثیر نے اپنے ایک بزنس مین دوست کی دولت اجاڑنے والی بے وفا محبوبہ کا قصہ سنانے لگے۔ حاضرین محفل بھی بے وفا محبوبہ کی مذمت کرنے لگے، سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ میں نے اس موقع پر یہ چورن پیش کیا کہ وفادار محبوبہ سے عشق کا مزا ہی کیا؟ اصل مزا تو بے وفا محبوبہ سے عشق لڑانے کا ہے، اسی لئے تو دنیا بھر کے شاعر بھی بے وفا محبوبہ پر صدیوں سے شاعری کرتے آئے ہیں، میری اس انوکھی بات پر رومان پرور سلمان تاثیر پھڑک اٹھے، میں نے مزہ لیتے ہوئے کہا، شاعر کو بے وفا زیادہ اچھے لگتے ہیں کہ انہیں بار بار لبھانا پڑتا ہے، کوشش کرنا پڑتی ہے، رقیبوں سے لڑنا پڑتا ہے اور محبوبہ کو اپنی جانب متوجہ کرنا پڑتا ہے، یہی تو عشق بازی ہے وگرنہ باوفا محبوبہ ہو تو اس کا انجام تو شادی ہے، پھر کہاں کا عشق اور کہاں کی بے وفائی؟

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ سیاست اور رومانس میں بے وفاؤں کو رد کرنے اور ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کو بہتر فیصلہ سمجھا جاتا ہے۔ گنڈاپور ہوں یا پرویز خٹک، انصافی اور عمرانڈو بے وفاؤں کی چھٹی پر ہونے پر خوش ہوتے ہیں۔ مگر کیا محبوب کی بے وفائی کا مزہ لینے والے میر تقی میر اور مرزا غالب بھی بے وفا کو اتنا ہی برا سمجھتے ہونگے۔ میرا خیال ہے کہ انہیں بے وفا اچھے لگتے تھے، وزیراعلی خیبر پختون خواہ علی امین گنڈا پور نے جیسے عمران خان کے کہنے پر جھٹ سے استعفیٰ دیا اس سے انکے بارے میں غلط فہمیاں دور ہونگی یا نہیں یہ فیصلہ تو مستقبل کا مورخ کرے گا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ گنڈاپور کی جگہ لینے والے سہیل آفریدی اپنے کپتان کے اعتماد پر پورا اتر پائیں گے یا نہیں۔ بظاہر گنڈا پور کے بعد خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کا مستقبل دوبارہ سے طے ہونے جا رہا ہے۔

سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ یہ دنیا فاتحوں، بہادروں، طاقت وروں اور دولتمندوں کی ہے، ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا ہارنے والوں، بزدلوں، کمزوروں اور غریبوں کیلئے کوئی جگہ نہیں؟ خدا نے تو یہ دنیا سب کیلئے بنا رکھی ہے مگر طاقت وروں نے کمزوروں کے لیے دنیا تنگ کر رکھی ہے۔ اگر کوئی بے وفا فاتحوں، طاقتوروں اور دولتمندوں کا ساتھ دے تو اس میں برا منانے کی کیا بات ہے۔ بے وفا محبوب نے بھی وہی کیا جو دنیا کی رِیت ہے مگر خدا نے کمزوروں اور ہارنے والوں کیلئے بھی دنیا میں بھرپور گنجائش چھوڑی ہے۔ بے وفاؤں نے بھی اسی دنیا میں رہنا ہے، لہذا ان کو بھی شاعروں کی طرح دل میں جگہ دینی چاہئے۔ سچے بادشاہ دوسرے بادشاہوں اور سچے گرو دوسرے گروؤں کیساتھ بادشاہوں جیسا سلوک کرتے ہیں، جیتنے والے، ہارنے والوں سے سکندر اور پورس جیسا تعلق کیوں نہیں بناتے، ہیر کی شادی کے باوجود رانجھا اس سے اپنا عشق اور بڑھا دیتا ہے ،بے وفا سے عشق پیچے کا مزہ کوئی مجنوں سے پوچھے، سوہنی جب کچے گھڑے پر چناب کی طوفانی لہروں میں ڈوب رہی تھی تو کیا اس نے وفا اور بے وفائی کا سوچا ہوگا؟ نہیں، بالکل بھی نہیں۔

سہیل وڑائچ کے بقول وفا اور بے وفائی کے معانی مختلف انوسع کے ہوتے ہیں۔ کئی بار آپ کے باوفا دوست اپنے خلوص کے باوجود آپ کو اندھے کنویں میں پھینک رہے ہوتے ہیں اور کئی مرتبہ بے وفا آپ کو جو راستہ دکھا رہے ہوتے ہیں وہ کامیابی اور سلامتی کا ہوتا ہے۔ گنڈا پور کی اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کی سوچ کچھ کیلئے خان سے بے وفائی پر مبنی تھی جبکہ شاید کچھ کیلئے اسکی یہ بے وفائی دانائی پر مبنی ہو اور بحران سے نکلنے کا ممکنہ حل ہو۔ کچھ کیلئے سہیل آفریدی کی وفاداری اسے وزیراعلیٰ بنانے کا انعام ہو مگر دوسروں کیلئے یہی وفاداری طاقتوروں سے بے وفائی اور غداری ہو گی۔

ایسے میں دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا وفا اور بے وفائی کے جذبے کو عقل اور نتائج سےماپنا ہے یا جذبات اور جوش کے جذبے سے۔ ایک ہی واقعے کو دو اینگلز سے دیکھنے اورجائزہ لینے سے نتائج قطعی مختلف نکلتے ہیں۔ آج کی پاکستانی سیاست میں عمران خان کے یوٹیوبر اُن کے پُرخلوص اور سچے ساتھی ہیں، گنڈاپور یا عمران کی سوچ سے اختلاف کرنے والے بے وفا اور غدار سمجھے ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا آج کی وفا داری کل عمران کو سیاسی فائدہ دے سکے گی یا عمران سے بظاہر بے وفائی کرنیوالے گنڈاپور تاریخ میں سچے اور پکے دوست ثابت ہونگے۔ وقت ہی سب سے بڑا امتحان ہے۔

Back to top button