آرمی چیف آصف جنجوعہ کی موت قدرتی تھی یا انہیں زہر دیا گیا

پاکستان کی تاریخ میں بعض اموات صرف سانحات نہیں ہوتیں بلکہ سوال بن جاتی ہیں۔ ایسے سوال جو وقت گزرنے کے ساتھ مدھم پڑتے کی بجائے مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔ سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کی اچانک موت بھی انہی میں سے ایک ہے۔ جو تین دہائیاں گزرنے کے باوجود ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ ایک حاضر سروس آرمی چیف، جو سیاسی انتشار، آئینی کشمکش اور کراچی میں فوجی آپریشن کے نازک ترین دور میں فوج کی قیادت کر رہا تھا، اچانک دنیا سے رخصت ہو گیا۔ سرکاری بیانیہ اسے دل کا دورہ قرار دیتا ہے، مگر طاقت کے ایوانوں میں گونجنے والی سرگوشیاں، بے نام خطوط، امریکی فرانزک رپورٹس اور خود خاندان کے شکوک تاحال اس موت کو محض ایک طبعی واقعہ ماننے سے انکاری ہیں اور اس بات پر بضد ہیں کہ کہ سابق آرمی چیف کو سلو پوائزنگ کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے مارشل لا کی مبینہ پیشکش مسترد کرنے والے سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ نہ صرف فوج کی سیاست میں مداخلت کے مخالف تھے بلکہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف، صدر غلام اسحاق خان، ایم کیو ایم اور ریاستی اداروں کے درمیان جاری ٹکراؤ کے بھی سخت ناقد تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنرل جنجوعہ کی وفات سے صرف ایک شخص نہیں مرا، بلکہ پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ایک ایسا خلا پیدا ہوا جس نے آنے والے وقت میں ملک کے اندر آئینی بحران، کاکڑ فارمولے اور طاقت کے توازن کو نئی شکل دی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جنرل آصف نواز جنجوعہ کے اہم سیاسی و عسکری فیصلے، نواز شریف حکومت سے کشیدہ تعلقات، مارشل لا کی گردش کرتی افواہیں اور کراچی آپریشن کے حساس تناظر نے ان کی موت کو محض ایک طبعی واقعہ نہیں رہنے دیا، تین دہائیاں گزر جانے کے باوجود ان کی موت آج بھی ایک معمہ ہے۔ آٹھ جنوری 1993 کو جنرل آصف نواز جنجوعہ کی وفات نے پاکستان کے پورے نظام کو ہلا دیا تھا کیونکہ یہ ایک ایسے شخص کی پراسرارموت تھی جو طاقت کے مرکز میں موجود تھا۔ جس کے فیصلے مستقبل کا رخ متعین کر سکتے تھے۔
آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کی موت کے بعد افواہوں کا ایک طوفان امڈ آیا۔ تاہم عوامی اور سیاسی سطح پر کی جانے والی چہ میگوئیوں کو اُس وقت آواز ملی جب جنرل آصف نواز جنجوعہ کی بیوہ نے بھی یہ شبہ ظاہر کر دیا کہ اُن کے شوہر کی موت طبعی نہیں تھی۔اس دعوے کے بعد عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا، امریکی لیبارٹری سے نمونوں کے ٹیسٹ ہوئے لیکن آخرکار جنرل آصف نواز کی موت کو طبعی قرار دے دیا گیا۔ تاہم اس کے باوجود آج تک جنرل آصف نواز کی موت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے
جنرل آصف نواز جنجوعہ کے بھائی شجاع نواز کی کتاب ’کراسڈ سورڈز‘ میں دی جانے والی معلومات کے مطابق جنرل آصف نواز جنجوعہ تین جنوری 1937 کو ضلع جہلم کے علاقے چکری راجگان میں پیدا ہوئے۔ 1957 میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا اور پیشہ ورانہ مہارت کی بنیاد پر فوج کے اہم ترین عہدوں تک پہنچے۔ وہ پاکستان آرمی کے آخری سربراہ تھے جنھوں نے سینڈہرسٹ سے تعلیم حاصل کی، اور بعد ازاں ملٹری اکیڈمی کاکول کے کمانڈر بھی رہے۔
اگست 1991 میں جنرل اسلم بیگ کی ریٹائرمنٹ کے بعد آصف نواز جنجوعہ کو آرمی چیف مقرر کیا گیا۔ اگرچہ سینیارٹی میں وہ دوسرے نمبر پر تھے، تاہم جنرل شمیم عالم خان کو چیئرمین جوائنٹس چیفس آف اسٹاف کمیٹی بنانے کے بعد جنرل جنجوعہ کو آرمی چیف مقرر کر دیا گیا۔ مبصرین کے مطابق یہ تقرری اس لحاظ سے غیر معمولی تھی کہ جنرل آصف نواز ضیاء الحق کے بعد پہلے آرمی چیف تھے جنھیں مکمل طور پر ایک سویلین حکومت نے منتخب کیا، اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ملک سیاسی عدم استحکام کے عروج پر تھا۔
مبصرین کے مطابق 16 اگست 1991 کو بطور آرمی چیف اپنے پہلے حکم نامے میں جنرل آصف نواز نے واضح کیا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے اور جمہوریت بحال ہو چکی ہے۔ بظاہر یہ ایک واضح اور اصولی مؤقف تھا، مگر زمینی حقیقت یہ تھی کہ سیاست خود فوج کے دروازے تک آ چکی تھی۔ صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف آئینی اختیارات کی جنگ میں مصروف تھے۔ کراچی میں فوجی آپریشن جاری تھا، جناح پور جیسے متنازع دعوے سامنے آ چکے تھے، اور مارشل لا کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ ایسے ماحول میں آرمی چیف کا غیر سیاسی رہنا خود ایک سیاسی عمل بن چکا تھا۔
مبصرین کے مطابق آرمی چیف جنرل آصف نواز اور وزیراعظم نواز شریف کے تعلقات ابتدا ہی سے تناؤ کا شکار رہے۔ سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی اور شجاع نواز دونوں اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ شریف خاندان کی جانب سے آرمی چیف کو بی ایم ڈبلیو گاڑی بطور تحفہ دینے کی کوشش کی گئی، جسے جنرل آصف نواز نے دو مرتبہ شکریے کے ساتھ واپس کر دیا۔ یہ انکار محض ایک تحفہ رد کرنے کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے فوجی پیشہ ورانہ وقار اور سیاسی مداخلت سے دوری کا واضح پیغام تھا۔ شجاع نواز کے مطابق وزیراعظم فوج کے اندر ترقیوں اور تقرریوں میں بھی اپنی مرضی چاہتے تھے، جو آرمی چیف کو ناگوار گزرتا تھا۔ آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری پر بھی دونوں میں اختلاف کھل کر سامنے آیا جب نواز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل جاوید ناصر کو بغیر مشاورت کے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔ جنرل آصف نواز نے اس روایتی طریقہ کار سے ہٹنے پر حیرت اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
شجاع نواز کے مطابق امریکہ کے دورے کے دوران جنرل آصف نواز کی ملاقات امریکی وزیر دفاع ڈک چینی سے ہوئی۔ سابق سفیر عابدہ حسین کے مطابق اس ملاقات میں جنرل آصف نواز کو اقتدار سنبھالنے یعنی مارشل لا لگانے کا بالواسطہ اشارہ دیا گیا، جسے انھوں نے مسترد کر دیا۔ اسی دورے کے دوران پاکستانی تاجر یوسف ہارون اور نواز شریف کابینہ کے چند ارکان نے بھی مبینہ طور پر حکومت گرانے کے لیے آرمی چیف کو قائل کرنے کی کوشش کی، مگر جنرل آصف نواز کا مؤقف واضح تھا: تبدیلی اگر آنی ہے تو سیاسی نظام کے اندر رہتے ہوئے آئے اور مارشل لاء لگا کر کسی سیاسی تبدیلی کا حصہ نہیں بنیں گے۔
1992 میں کراچی میں آپریشن کلین اپ شروع ہوا، جس نے آرمی چیف اور وزیراعظم کے تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا۔ جناح پور کے مبینہ نقشوں کی برآمدگی اور ان کے میڈیا میں بھرپور چرچے نے ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن کے اتحاد کو شدید نقصان پہنچایا۔ شجاع نواز کے مطابق نواز شریف کو لگا کہ فوجی کارروائی ان کے سیاسی اتحاد کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
آٹھ جنوری 1993 کو جنرل آصف نواز آرمی ہاؤس میں ٹریڈمل پر ورزش کر رہے تھے کہ انھیں دل کا دورہ پڑا۔ فوری طبی امداد کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ملک میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں، لیکن معاملہ اس وقت سنگین ہوا جب ان کی اہلیہ نزہت آصف نواز نے دعویٰ کیا کہ ان کے شوہر کو آہستہ آہستہ زہر دیا گیا۔امریکی فرانزک لیبارٹری میں بالوں کے نمونوں کے تجزیے میں آرسینک کی غیر معمولی مقدار سامنے آئی، جس نے شکوک کو مزید تقویت دی۔ تاہم عدالتی کمیشن، غیر ملکی ڈاکٹروں کی آٹوپسی رپورٹس اور سرکاری تحقیقات نے موت کو قدرتی قرار دے دیا۔
مشرف کی کارگل جنگ پر طلبی نے نواز شریف کی چھٹی کیسے کروائی؟
اگرچہ عدالتی کمیشن نے سلو پوائزننگ کے شواہد کو ناکافی قرار دیا، مگر شجاع نواز اور خاندان آج تک اس سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ تحقیقات میں شفافیت کیوں نظر نہیں آئی، اور چین آف کسٹڈی جیسے بنیادی فرانزک اصولوں پر کیوں سمجھوتہ کیا گیا۔جنرل آصف نواز کی موت کے بعد آنے والے بے نام خطوط، مبینہ الزامات اور حکومتی خاموشی نے اس واقعے کو ایک مستقل معمہ بنا رکھا ہے۔ جنرل آصف نواز جنجوعہ کی موت سرکاری طور پر دل کے دورے سے ہوئی، مگر تاریخ میں یہ واقعہ ہمیشہ ایک سوال کے طور پر زندہ رہے گا کہ کیا آرمی چیف جنرل جنجوعہ طبعی موت مرے یا انھیں زہر دے کر قتل کیا گیا تھا؟
