کیا سابق DIG حیدر اشرف کو سیاسی بنیاد پر برطرف کیا گیا؟

چار سال تک ڈی آئی جی آپریشنز کی حیثیت سے لاہور پولیس کی کمان سنبھالنے والے ڈاکٹر حیدر اشرف کو اپنی بیٹی کی جان بچانے کے لئے علاج کی خاطر بیرون ملک جانا مہنگا پڑ گیا، چھٹی کے دوران ڈاکٹر حیدر کو انکے عہدے سے معطل کر دیا گیا، چنانچہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ ان کی غیرقانونی برطرفی کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ حیدر اشرف کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی برطرفی کی وجہ ان کی ماضی میں مسلم لیگی نون کی قیادت کے سے قربت یے۔
سابق ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ڈاکٹر حیدر اشرف نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکریٹری افضل لطیف کے خلاف وزیر اعظم کو شکایتی اپیل دائر کی ہے اور کہا ہے کہ انہیں بغیر سنے اور بغیر کسی انکوائری کے قانون کو بلڈوز کرتے ہوئے برطرف کرنے کی سخت ترین سزا دی گئی جس کی ماضی میں کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ حیدر اشرف نے وزیراعظم کو آگاہ کیا ہے کہ ان پر ایک بڑا جرمانہ تب عائد کیا گیا جب ان کی بیٹی کی جان لیوا حالت میں بیرون ملک ایک پیچیدہ سرجری ہو رہی تھی جب کہ ان کی والدہ سٹیج تھری کے کینسر کا علاج کروا رہی تھیں۔
فی الوقت کینیڈا میں موجود ڈاکٹر حیدر اشرف نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان کو سرکاری ملازمت سے برطرف کرتے وقت ان تمام قانونی اور طبی بنیادوں کو نظر انداز کیا جو انہوں نے چھٹی کے وقت جمع کرائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حیرت انگیز طور پر ایک نئی مثال قائم کرتے ہوئے انہیں غیر قانونی طور پر 28 جنوری 2022 کو ایک خط کے ذریعے برطرف کر دیا گیا، جس سے انہیں اور ان کے خاندان کو شدید ترین ذہنی صدمہ پہنچا ہے۔
چار سال تک بطور ڈی آئی جی آپریشنز لاہور تعینات رہنے والے ڈاکٹر حیدر اشرف نے نکتہ اُٹھایا کہ انکی ملک سے باہر چھٹیوں کا معاملہ فیڈرل سروس ٹربیونل اسلام آباد میں بھی زیر سماعت ہے جس کی نشاندہی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو کی گئی تھی لیکن اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل صفدر شاہین پیرزادہ کے ذریعے چند روز قبل دائر کی گئی اپیل ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن پر پولیس کے حلقے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسران کے ساتھ مساوی سلوک نہ کرنے پر سخت تنقید کر رہے تھے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکریٹری افضل لطیف کی جانب سے اب تک حیدر اشرف کے الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
زیادتی بلوچ قوم پرست کر رہے ہیں یا ریاست پاکستان؟
ڈاکٹر حیدر اشرف کا کہنا ہے کہ وہ ابتدائی طور پر بیٹی کے علاج کے لئے ملک سے باہر گئے تھے جس کے بعد انہوں نے کینیڈا سے ایل ایل ایم کرنا کا فیصلہ کیا، انکامکہنا تھا کہ میری تعلیم، جسے حکومت کی جانب سے فنڈ نہیں کیا گیا تھا، کرونا وبا کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو گئی کیونکہ کینیڈا میں ادارے بند رہے۔ سابق ڈی آئی جی آپریشنز نے مذید بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکریٹری نے ان کی پاکستان سے باہر چھٹیوں میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی جو کہ قانون کے تحت ان کا بنیادی حق ہے، اس لیے فیڈرل سروس ٹربیونل اسلام آباد میں سروس اپیل دائر کی گئی۔
ڈاکٹر حیدر اشرف نے لکھا کہ معزز ٹریبونل نے 27 جنوری 2022 کے حکم نامے کے ذریعے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو اپیل کنندہ کی بیٹی کی بیماری، والدہ کی بیماری، ذاتی صحت کے مسائل اور کرونا کے سبب سفری پابندیاں اور تعلیمی منصوبوں میں تبدیلی کو مدنظر رکھنے کی ہدایت کی تھی۔
تاہم اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان بنیادوں پر غور نہیں کیا اور اگلے دن ہی بدانتظامی کے الزام میں ان کی برطرفی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا، ڈاکٹر حیدر اشرف نے کہا کہ طبی بنیادوں پر چھٹی مانگنا قانون کے مطابق بدانتظامی نہیں، انیون نے وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کی برطرفی کے غیر قانونی نوٹیفکیشن کو معطل کریں، انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری بحال کیا جائے اور انصاف کے تناظر میں انہیں تنخواہ کے ساتھ یا بغیر تنخواہ چھٹی کی اجازت دی جائے۔
دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر حیدر اشرف کی برطرفی قانون کے مطابق شوکاز نوٹس دینے کے بعد کی گئی ہے۔ وہ ن لیگ کے دور میں لاہور میں ڈی آئی جی آپریشنز کے اہم عہدے پر فائض رہے۔ حیدر اشرف کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان پر نون لیگ کے قریب ہونے کا الزام غلط ہے اور سچ تو یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے انہیں گریڈ 19 سے 20 میں ترقی دینے کی منظوری دی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ذرائع کے مطابق حیدر اشرف پر صرف بیرون ملک جا کر غائب ہو جانے کا الزام نہیں ہے بلکہ ان کے خلاف نیب کی انکوائری بھی چل رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ دوہری شہریت کے حامل ہیں اور انہوں نے کینیڈا میں 16 لاکھ ڈالرز مالیت کا گھر بھی خریدا ہے۔
