جنرل باجوہ گھر میں گر کر زخمی ہوئے یا ان پر حملہ کیا گیا؟

 

 

 

حالانکہ فوجی ترجمان نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے زخمی ہونے کی وجہ گھر میں پھسل کر گرنا بتائی ہے، لیکن وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ وہ کسی حملے کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں۔ سابق وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ ابتدائی شبہات کی بنیاد پر ایسا کہہ رہے ہیں لہذا جنرل باجوہ کے زخمی ہونے کی اصل وجہ جاننے کے لیے مزید تحقیقات ضروری ہیں۔ یاد رہے کہ جنرل باجوہ کو گزشتہ رات شدید زخمی حالت میں راولپنڈی کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ انتہائی نگہداشت یونٹ میں داخل ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق سابق آرمی چیف کو اپنی رہائش گاہ پر گرنے کی وجہ سے چوٹیں آئیں اور وہ فی الحال اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ ان کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ صبح ساڑھے چار بجے اپنے گھر کے باتھ روم میں پھسل گئے، جس کے نتیجے میں ان کے سر سمیت جسم کے کچھ حصوں پر چوٹیں آئیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق سر پر لگنے والی شدید چوٹ کے باعث انہیں دماغی ضرب لگی اور اندرونی بلیڈنگ بھی ہوئی۔

 

بتایا جا رہا ہے کہ ان کے سر پر لگنے والی چوٹ کافی گہری تھی جس کے نتیجے میں وہ تقریباً 18 گھنٹے تک بے ہوش رہے۔ ایک مرحلے پر ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو نازک قرار دیا، جس کے بعد ان کے اہلِ خانہ اور قریبی رشتہ دار بڑی تعداد میں ہسپتال پہنچ گئے تھے۔ تاہم بعد ازاں انہیں ہوش آ گیا اور انہوں نے اپنے اہلِ خانہ کو بھی پہچانا، تاہم وہ ابھی تک مکمل طور پر خطرے سے باہر نہیں اور مسلسل مانیٹرنگ میں رکھے گئے ہیں۔ سابق آرمی چیف کے بہنوئی نعیم گھمن نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ قمر باجوہ ننگے پاؤں تھے لہٰذا پھسل گئے اور ان کے سر پر چوٹ آئی۔ انہوں نے بتایا کہ تمام ضروری طبی معائنہ اور ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں اور ان کی حالت خطرے سے سو فیصد باہر ہے، البتہ احتیاط کے طور پر انہیں آئی سی سی یو میں رکھا گیا ہے۔ لیکن ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ کی حالت کو خطرے سے باہر قرار نہیں دیا جا سکتا چونکہ ان کے سر پر گہری چوٹ آئی ہے۔

 

حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں بھی گردش کرنے لگیں، بعض حلقوں نے واقعے کی نوعیت پر سوالات اٹھائے۔ اسی دوران تحریکِ انصاف سے وابستہ وی لاگر شہباز گل کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں انہوں نے سابق آرمی چیف کے لیے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے ان کی فوری موت کے بجائے تکلیف دہ انجام کی دعا کی۔ موصوف کے اس بیان پر سوشل میڈیا کے مختلف حلقوں، صحافیوں اور صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے اور اسے غیر اخلاقی اور گھٹیا طرزِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود کسی کی بیماری یا حادثے پر ایسی گھٹیا خواہش ظاہر کرنا تحریک انصاف اور اس کی قیادت کا خاصہ ہے۔

 

یاد رہے کہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ اور تحریکِ انصاف کے درمیان کشیدگی کا پس منظر عمران خان کی حکومت کے آخری دور سے جڑا ہوا ہے۔ 2018 کے انتخابات کے بعد عمران خان وزیرِاعظم بنے تو اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا کہ جنرل باجوہ کی فوجی اسٹیبلشمنٹ میں دھاندلی زدہ الیکشن کے ذریعے انہیں وزیر اعظم بنوایا، ابتدا میں تحریکِ انصاف اور جنرل قمر باجوہ کے درمیان اچھی ورکنگ ریلیشن شپ قائم رہی اور ان کی مدت ملازمت میں توسیع بھی کی گئی، لیکن بعد ازاں عمران اور باجوہ کے اختلافات سامنے آئے۔ جب اختلافات مزید بڑھے تو عمران کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمی سے فارغ کر دیا گیا ۔ عمران خان نے حکومت کے خاتمے کے بعد جنرل باجوہ کو میر جعفر اور میر صادق کے القابات سے نوازا اور مؤقف اختیار کیا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں باجوہ نے اہم کردار ادا کیا۔ لیکن عمران کی مخالف جماعتیں اور ناقدین اس بیانیے کو سیاسی مؤقف قرار دیتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہی پس منظر تحریکِ انصاف کے بعض حامی حلقوں میں جنرل باجوہ کے خلاف شدید جذبات کی بنیاد بنا، تاہم ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ 2018 میں فوج کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار لینے والے عمران خان اقتدار سے فارغ ہونے کے بعد مکمل طور پر اسی فوجی قیادت کو موردِ الزام کیسے ٹھہرا سکتے ہیں۔ انکا کہنا یے کہ جنرل باجوہ نے تو اپوزیشن کو عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل کروانے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔

جاتی امرا میں مقیم نواز شریف آخر خاموش کیوں ہیں؟

یاد رہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر 2016 سے 29 نومبر 2022 تک آرمی چیف کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، انکی مدت ملازمت میں 2019 میں عمران خان حکومت کی جانب سے توسیع بھی کی گئی جس کے بعد وہ 2022 کے آخر میں ریٹائر ہوئے۔

Back to top button