بے عزتی امریکی صدر ٹرمپ کی ہوئی یا یوکرینی صدر زلنسکی کی؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر زیلنسکی کی اوول آفس میں ملاقات سے قبل کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ دو اتحادی ممالک کے رہنما ایک دوسرے پر میڈیا کے سامنے اس طرح انگلیاں اٹھائیں گے۔ امریکی میڈیا کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس ملاقات میں صدر ٹرمپ نے یوکرینی صدر کی بےعزتی کی۔ تاہم کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دراصل یوکرینی صدر نے دنیا کے طاقتور ترین شخص کو چلتے کیمروں کے سامنے ترکی بہ ترکی جواب دینے کے ہمت کر کے اسکی عزت کا جنازہ نکال دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے فوری طور پر یوکرین کی فوجی امداد بند کر دی ہے۔
یاد رہے کہ کیمروں کے سامنے بٹھاکر امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے نائب صدر کی معاونت سے یوکرین کے صدر زلنسکی کیساتھ جو گفتگو کی وہ دنیا بھر میں زیر بحث ہے۔ اس حوالے سے سینئرصحافی نصرت جاوید اپنے تازہ تجزہے میں کہتے ہیں کہ ایک کلیدی نکتہ جس پر لوگوں نے توجہ نہیں دی وہ یہ یے کہ بے عزتی زلنسکی کی نہیں بلکہ سابق صدر بائیڈن کی ہوئی۔ ٹرمپ کو صدارتی انتخاب جیتے ہوئے تین سے زیادہ ماہ گزرچکے ہیں۔ لیکن اس کی جبلت میں شامل منتقم المزاج شخص اپنے پیشرو صدر کو ابھی تک بھولنے اور انہیں بخشنے کو تیار نہیں۔ ٹرمپ سابق صدر بائیڈن کو امریکی تاریخ کا ’’احمق ترین صدر‘‘ گردانتا ہے۔ اسے گماں ہے کہ اگر 2020ء کا انتخاب اس سے ’’چرایا‘‘ نہ گیا ہوتا تو پوٹن کبھی یوکرین پر حملہ آور نہ ہوتا۔ روسی صدر نے درحقیقت ’’نالائق‘‘ بائیڈن کی وائٹ ہائوس میں موجودگی کا فائدہ اٹھایا۔
لیکن نصرت جاوید کے بقول روس کے یوکرین پر حملے کا ذمہ دار ’’احمق بائیڈن‘‘ کو ٹھہرانا سراسر زیادتی ہے۔ اسی باعث یوکرین کا صدر اسے یاد دلانے کو مجبور ہوا کہ روس نے یوکرین میں دراندازی اوبامہ کے دورِ صدارت ہی میں شروع کردی تھی اور ٹرمپ اس کے بعد صدر منتخب ہوا، تب بھی اس نے یوکرین کی ہتھیائی زمین اسے واپس نہیں لوٹائی۔ جو رقبہ روس نے ہڑپ کیا تھا اس میں کریمیا کا جزیرہ بھی شامل ہے۔ یہ جزیرہ کبھی خلافت عثمانیہ کا حصہ تھا۔ اس کے زوال کے بعد روس اس پر قابض ہوگیا تھا۔ لیکن ہم روسی شہنشاہیت اور خلافت عثمانیہ کی تاریخ فی الوقت بھلادیتے ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ زلنسکی سے کیمروں کے روبرو مباحثہ کرتے ہوئے بنیادی طورپر امریکہ کا صدر اور نائب صدر بائیڈن کو حقارت کا نشانہ بن رہے تھے۔ کیمرہ ٹرمپ کی کمزوری ہے۔
کاروباری اعتبار سے بہت ذہین اور کامیاب نہ ہونے کے باوجود ٹرمپ نے نیویارک کے میڈیا میں ’’دوست‘‘ تلاش کئے۔ مقامی اخبارات میں امیر لوگوں کی دعوتوں کے بارے میں جو کالم لکھے جاتے ہیں ٹرمپ اپنے دوستوں کی بدولت اکثر ان میں نمایاں طورپر قابل ذکر رہتا۔ خود نمائی کی ہوس نے اسے ٹی وی کی دنیا تک پہنچادیا۔ وہاں وہ ایسے پروگرام کا میزبان بنا جس کے شرکاء کے مابین کامیاب کاروباری نسخے دریافت کرنے کا مقابلہ ہوتا۔ جو شریک پروگرام منافع بخش مگر قابل عمل منصوبہ پیش کرنے میں ناکام رہتا ٹرمپ اسے نہایت رعونت سے You Are Fired کہتے ہوئے پروگرام سے فارغ کر دیتا۔ یہ پروگرام پورے 16برس تک چلتا رہا۔ اسکی وجہ سے ٹرمپ کو میڈیامیں چھائے رہنے کا ہر ڈھب آتا ہے۔ ہنر ابلاغ پرکامل گرفت کی وجہ سے امریکی معاشرے کے قدامت پرست شمار ہوتے حلقوں میں وہ انتہائی غیر اخلاقی حرکتوں کے ارتکاب کے باوجود قابل قبول بن گیا۔
نصرت کہتےنہیں کہ یوکرین کے صدر کی ڈانٹ ڈپٹ کرنے کے بعد ٹرمپ اسی تناظر میں یہ کہنے سے باز نہیں آیا کہ اسکی یوکرینی صدر سے ملاقات ایک ’’اچھا ٹی وی (شو)‘‘ بن گئی۔ لیکن ٹرمپ کی بائیڈن سے نفرت میرا درد سر نہیں۔ میں حیران تب ہوا جب سوشل میڈیا پر چھائے میرے بے تحاشہ ’’انقلابی‘‘ ہم وطن اس امر پر حسرت کا اظہار کرتے پائے گئے کہ جس وقت ٹرمپ اپنے نائب صدر کے ساتھ مل کر وائٹ ہائوس آئے مہمان کی بے عزتی کررہا تھا تو وہاں زلنسکی کے بجائے پاکستان کا کوئی اہم عہدے دار بیٹھا ہونا چاہیے تھا۔ جوانی میں یہ بدنصیب بھی ’’انقلابی‘‘ رہا ہے۔ اس لیے میں اپنے حکمران طبقات اور ہر نوع کی اشرافیہ کو آج بھی صدقِ دل سے خود غرض اور قابل تنقید محسوس کرتا ہوں۔ 2014ء سے بتدریج ہمارے ہاں صحافت کے روایتی ذرائع میں کھل کر لکھنے کی گنجائش ختم ہوچکی ہے اور پھونک پھونک کر لکھنے سے اکتاہٹ نہیں بلکہ شرمندگی محسوس ہوتی ہے لیکن ان جذبات کے باوجود میں نے نہایت دیانتداری سے اپنے کسی صدر، وزیر اعظم یا ریاستی ادارے کے سربراہ سے شدید نفرت کے باوجود کبھی اس خواہش کا اظہار نہیں کیا کہ اسے کسی دوسرے ملک کا طاقت ور صدر تذلیل کا نشانہ بنائے۔ مذکورہ خواہش کا اظہار کسی بھی حوالے سے’’حب الوطنی‘‘ کا دعویٰ نہیں ہے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ کسی غیر ملکی کے ہاتھوں اپنے حاکم کی بے عزتی سے حظ اٹھانا درحقیقت میری کمزوری ہی کو اجاگر کرے گا۔ انکا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے میسر گمنامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ’’انقلابی روپ‘‘ دھارنا میری دانست میں ’’احتیاط‘‘ نہیں بلکہ بزدلی ہے۔ ہمارے ہاں آزادی اظہار پر جو قدغنیں لگائی گئی ہیں میں نے انہیں کئی بار عبور کرکے نوکریاں گنوائی ہیں۔ لیکن میں ایک منتقم المزاج ا ور خود پرست غیر ملکی صدر کے ہاتھوں اپنے بدترین دشمن کی بھی تذلیل برداشت نہیں کرسکوں گا۔ میں اس گمان میں مبتلا ہونے سے قطعاََ گریز سے کام لوں گا کہ جیسے اس نے ’’میرا بدلہ‘‘ لے لیا ہے۔
نصرت کا کہنا ہے کہ نئی نسل کے ’’انقلابی‘‘ جن سے میرے بہت ہی پڑھے لکھے دوست خیر کی امیدیں باندھے ہوئے ہیں، ’’دوسروں‘‘ کے ہاتھوں‘‘ وہ سب ہوتا دیکھنے کے خواہاں ہیں جو بذاتِ خود کرنے کے قابل نہیں رہے۔ لہازا ایسے ’’انقلاب‘‘ کو دور سے سلام۔ انکا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے جس انداز میں یوکرین کے صدر کی بے عزتی کی ہے وہ دنیا میں ہیجان وخلفشار کو مزید بھڑکائے گا۔ امریکہ کے قریب ترین اتحادی بھی اب مشکل وقت میں خود کو کاملاَ تنہا محسوس کریں گے۔ برطانیہ امریکہ کا حاکم رہا ہے۔ لیکن 1980ء کی دہائی سے اسے واشنگٹن کی ہاں میں ہاں ملانے والے ادنیٰ کارندے کی طرح دیکھا جارہا ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم کی بھی ٹرمپ نے واشنگٹن میں کیمروں کے سامنے ’’کلاس‘‘ لینے کی کوشش کی۔ موصوف سفارت کارانہ مہارت سے بچ گئے۔ مگر واشنگٹن سے لندن لوٹتے ہی برطانیہ کے وزیر اعظم نے یوکرین کے صدر کو اپنے ہاں بلاکر روس کے خلاف مزاحمت پر ڈٹے رہنے کو سراہا۔ برطانیہ اور امریکہ کے مابین یہ تاریخی خلیج کا اظہار ہے اور اس کے اثرات سے دنیا کے کئی ممالک محفوظ نہیں رہ پائیں گے۔
