کیا کابل کے فضائی حملے میں TTP چیف نور ولی محسود مارا گیا؟

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نور ولی محسود کابل میں جمعرات کی شب ہونے والے ایک فضائئ حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ کابل کے مقامی شہریوں نے شہر کے مختلف حصوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دیتے ہوئے انہیں فضائی حملے قرار دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ حملے کابل میں عبدالحق چوک کے قریب رہائشی عمارت پر ہوئے، تاہم درست جگہ کے بارے میں ابھی تک کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔
افغان طالبان کے مرکزی ترجمان نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکی تحقیقات جاری ہیں۔ کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ فضائی حملے پاکستانی فضائیہ کے طیاروں نے کیے جن کا مرکزی ہدف تحریک طالبان کا سربراہ نور ولی محسود تھا۔ تاہم افغان حکومت حملوں کی تفصیلات دینے سے انکاری ہے اور یہ بھی تصدیق نہیں کر رہی کہ نور ولی محسود مارا گیا ہے یا نہیں۔
26 جون 1978 کو جنوبی وزیرستان کے علاقے گرگرے میں پیدا ہونے والے 47 سالہ نور ولی محسود پاکستان کے سب سے مطلوب جنگجوؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ 2018 میں اپنے پیش رو ملا فضل اللہ کی افغانستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد ٹی ٹی پی کے چوتھے امیر بنے تھے۔ یاد رہے کہ تحریک طالبان کے بانی امیر بیت اللہ محسود اور ان کے پیش رو حکیم اللہ محسود وزیرستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں میں مارے گئے تھے۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق نور ولی محسود نے 2003 میں سزیرستان کے محسود قبیلے کے طالبان گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ یہ طالبان گروپ افغانستان میں طالبان حکومت کے زمانے میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ابھرا اور بعد میں 2007 میں ٹی ٹی پی کے بانی بیت اللہ محسود کی قیادت میں ٹی ٹی پی میں ضم ہو گیا۔ 2013 تک نور ولی محسود نے ٹی ٹی پی کی تنظیم سازی میں اہم مقام حاصل کر لیا تھا۔ وہ کراچی میں ٹی ٹی پی کی دہشت فرد کارروائیوں کی نگرانی کرتے تھے، ان کے کارندے بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کے ذریعے تنظیم کے لیے فنڈز اکٹھے کرتے تھے۔ شمالی وزیرستان کے میران شاہ سے کارروائیاں کرتے ہوئے، وہ مبینہ طور پر کراچی کے پختون تاجروں کو کاروباری تنازعات طالبان عدالتوں میں لے جانے پر مجبور کرتے تھے اور انکار کرنے والوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا۔
ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود پاکستان اور افغانستان کے درمیان نقل و حرکت کرتے رہتے تھے اور پاکستانی شہریت رکھتے تھے۔ باخبر ذرائع کے مطابق جمعرات کی شب کابل میں ہونے والا فضائی حملہ ایک کمپاؤنڈ پر کیا گیا، تاہم اس کارروائی کے پیچھے کون سا ملک تھا، اس بارے میں ابھی تک کچھ واضح نہیں۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب طالبان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی بھارت کے دورے پر ہیں، جہاں وہ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی سے متعلق اعلیٰ سطحی بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کا پہلا باضابطہ بھارتی دورہ ہے۔
بھارت اور پاکستان دونوں ہی افغانستان میں عسکریت پسند سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔ اسلام آباد مسلسل الزام عائد کرتا رہا ہے کہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی جنگجوؤں کو افغان سرزمین استعمال کرنے دیتی ہے تاکہ وہ پاکستان میں سرحد پار حملے کر سکیں۔ تاہم افغان طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں وزیر اعظم شہباز شریف نے طالبان کی جانب سے بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات کے بعد افغان حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ فیصلہ کرے کہ اس نے طالبان کا ساتھ دینا ہے یا پاکستان کا۔ اگر جمعرات کی شب کابل میں ہونے والا فضائی حملہ پاکستان نے کیا تھا تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تو نور ولی محسود قابل میں ہونے والے حملے میں مارا گیا ہے تو یہ تحریک طالبان کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا، کیونکہ وہ نہ صرف تنظیم کے تجربہ کار سربراہ تھے بلکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس کے درمیان اہم لنک بھی تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی ممکنہ موت کی صورت میں ٹی ٹی پی کی آئندہ کی حکمت عملی اور قیادت کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔
