ہم نے چیف جسٹس کو کہا کہ اپنا گھر بھی ٹھیک کریں : پی ٹی آئی

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کےبعد پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے چیف جسٹس کو بتایاکہ اپنا گھر بھی ٹھیک کریں، سینٹر شبلی فراز نے کہاکہ ہم نے بنیادی طور پر چیف جسٹس کو آگاہ کیا کہ جب تک ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی قائم نہیں ہوتی تب تک استحکام نہیں آسکتا۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کےبعد پی ٹی آئی کے رہنماؤں عمر ایوب، بیرسٹر گوہر، شبلی فراز،سلمان اکرم راجا اور دیگر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات، چیف جسٹس صاحب کی درخواست پر کی گئی، انہیں بتایا کہ آپ کے حکم پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے عدالتی ریفارمز کے حوالے سے ہم سے 10 نکاتی ایجنڈا شیئر کیا، ہم اپنی تجاویز چیف جسٹس کو دیں گے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے عمر ایوب نے کہاکہ میں نے عمران خان سے ملاقات کی تھی اور ان سے چیف جسٹس سے ملنےکی منظوری لی تھی،جس میں عمران خان نے کہاکہ ملاقات میں پی ٹی آئی کا مؤقف سامنے رکھاجائے۔

ہم نے چیف جسٹس کو بتایاکہ عمران خان کے مقدمات کی سماعت کی تاریخی بدلی جاتی ہیں۔عدالتوں کی اجازت کے باوجود عمران خان سےملاقات نہیں کروائی جاتی،نہ ہی ان کی بچوں سےبات کروائی جاتی ہے۔جیل مینوئل کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ فوجی عدالتوں کےحوالے سے بھی سلمان اکرم راجا نے چیف جسٹس سے بات کی،اسی طرح لاپتا افراد سےمتعلق بھی انہیں تفصیلی بریفنگ دی اور بتایاکہ بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا سے لوگوں کو غائب کیاجاتا ہے۔ بلوچستان میں حالات اتنے خراب ہےکہ لوگ وہاں آزادی کی بات کر رہے ہیں۔

عمر ایوب نے کہاکہ چیف جسٹس صاحب کے ساتھ معیشت کےحوالے سے بھی بات ہوئی۔ افراط زر،قوت خرید اور بےروزگاری کے حوالے سے بھی چیف جسٹس کو تفصیلات بتائیں۔ 9 مئی اور 26 نومبر کے عمران خان کے خطوط کے حوالے سے ان کےساتھ بات ہوئی،ہم نے کہا ہےکہ ہم لوگ 26 ویں آئینی ترمیم کو تسلیم نہیں کرتے،ان خطوط پر کمیشن بیٹھنےچاہییں۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھاکہ ہم نے بتایا ہمارےکارکنوں کو جعلی مقدمات میں ملوث کیا جارہا ہے۔ ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر پر عملدرآمد نہ ہونےکے حوالے سے بھی بات کی۔وکلا کو ملنےوالی دھمکیوں کے حوالے سے چیف جسٹس کو آگاہ کیاگیا ۔ اسی طرح ججز کے خط اورخفیہ اداروں کےمنفی کردار کا نکتہ ان کے سامنے رکھا۔

چیف جسٹس کو ہم نےبتایا کہ وکلا کو ڈرانےاور دھمکانے کےلیے ان پر کئی ایف آئی آر اور جعلی مقدمے درج کیے گئے ہیں۔پنجاب میں پولیس اور پولیس گردی  کےساتھ خفیہ اداروں کے منفی عمل سے متعلق بھی باور کروایا۔ ہم نےکہا کہ بحیثیت چیف جسٹس عدلیہ کا تحفظ آپ کی ذمےداری ہے قانون کی بالادستی کےلیے اقدامات آپ نے اٹھانے ہیں۔

لطیف کھوسہ کاکہنا تھاکہ ہم نے چیف جسٹس پاکستان کو بتایاکہ اپنا گھر بھی ٹھیک کریں، جب اپنا گھر ٹھیک ہو گا تو لوگوں کو انصاف ملےگا۔ ہم نے چیف جسٹس پاکستان کو کہا یہ کورٹ پیکنگ نہ کریں۔ ہم نے کہا ہائی کورٹ کے لکھے گئے 5 ججز کے خطوط پر نظرثانی کریں۔ہم نے انہیں بتایا ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے۔

ڈاکٹر بابر اعوان کاکہنا تھاکہ فارم 47 نے یقین دہانی کروائی تھی کہ کسی کو گھر سے جا کر نہیں اٹھایا جائےگا۔پہلے بلوچستان سے لوگوں کو لاپتا ہونےکا سنتے تھے اب یہاں پر بھی وہ سب کچھ ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا جارہا۔ 7 وزرائے اعظموں کا اوپن ٹرائل ہوا لیکن بانی پی ٹی آئی کا ٹرائل جیل میں ہورہا ہے۔

شبلی فراز نے شیر افضل کی پارٹی سے بے دخلی کے معاملے کو غیر اہم قرار دے دیا

سینٹر شبلی فراز نے کہاکہ ہم نے بنیادی طور پر چیف جسٹس کو آگاہ کیا کہ جب تک ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی قائم نہیں ہوتی تب تک استحکام نہیں آسکتا۔ سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آڈر نہیں جاری کیے جارہے۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے احتجاجاً سینیٹ کا سیشن اٹینڈ نہیں کیا۔ میں نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ وہ لوگ جو آپ کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کر رہے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

 

Back to top button