پی ٹی آئی کے بھگوڑے بیرونِ ملک بیٹھ کر ملک دشمنی کر رہے ہیں، خواجہ آصف

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے وابستہ بھگوڑے رہنما ملک کو نقصان پہنچا رہے تھے اور اب بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستانیوں سے رقم اکٹھی کرکے پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے چیلنج دیا کہ اگر ہمت ہے تو پاکستان آکر سیاسی جنگ لڑیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ عناصر یورپ میں پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس سہولت کے خلاف مہم چلا کر ملک دشمنی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی لڑائیاں پاکستان ہی میں لڑنی چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو شہید اور نواز شریف دونوں کو سیاسی میدان میں سخت آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ گرفتار ہوئے، ان کے اہلِ خانہ کو قید و بند کی صعوبتیں سہنا پڑیں، آمریت نے انہیں شدید نشانہ بنایا اور کارکنوں پر ظلم ڈھایا گیا، لیکن اس کے باوجود کسی نے بھی ریاستی مفادات کو نقصان پہنچانے کا خیال تک نہیں کیا۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اپنی سیاسی جدوجہد وطن کی سرزمین پر کی اور اس کی قیمت بھی ادا کی، لیکن کبھی ریاست یا قوم کو نشانہ نہیں بنایا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے اقتدار سے محرومی کے بعد پہلے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو خط لکھ کر پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی، اور اب ملک کی برآمدات کو نقصان پہنچانے کیلئے لابنگ کر رہے ہیں۔

وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ اگر اس طرح کی سازش بھارت کی جانب سے ہوتی تو سمجھ آتی، مگر خود کو پاکستانی کہنے والے ایسا کریں گے تو انہیں ننگِ وطن اور غدار ہی کہا جائے گا۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ طالبان ایک مفاد پرستوں کا گروہ ہے، ہمیں افغان طالبان سے اچھائی کی کوئی اُمید نہیں ہے۔ اس سے بڑی کوئی حماقت نہیں ہوگی کہ ان پر اعتبار کیا جائے۔

 

وفاقی وزیر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر ہم افغانستان میں کارروائی کریں گے تو واشگاف انداز میں کریں گے،ہم کارروائی میں شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے۔

خواجہ آصف نے کہاکہ ہمارے دوست چاہتےہیں کہ خطے میں امن ہو جس سے انہیں بھی فائدہ ہوگا اور اس کےلیے وہ بہت جلد مداخلت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان تنہا رہ جائیں گےجس کا نتیجہ ان کی تباہی کی صورت میں ہوگا،دہشت گردی کی فیکٹری ختم ہوگی تو حلال روزی کمانے کے مواقع پیدا ہوں گے،طالبان ایک مفاد پرستوں کا گروہ ہے، ان کی باتوں کو سنجیدہ لینا اور ان پر اعتماد کرنا بےسود ہے، ہمیں افغان طالبان سے اچھائی کی کوئی اُمید نہیں ہے،اس سے بڑی کوئی حماقت نہیں ہوگی کہ ان پر اعتبار کیا جائے ۔

 

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری فورسز انتہائی ڈسلپن ہیں،طالبان کا کوئی کوڈ آف کنڈکٹ نہیں،ہمیں طالبان سے اچھائی کی امید نہیں، دنیا کے کس مذہب و معاشرے میں ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی سرزمین پر رہےہوں اور وہاں خونریزی کریں،آگ لگائیں،طالبان کون سی شریعت کو ماننےوالے ہیں؟یہ کس شریعت کی بات کرتے ہیں۔

 راناثنااللہ کا بجٹ سے پہلے 28ویں ترمیم پیش ہونے کاعندیہ

انہوں  نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں امن ہو،خطے میں امن ہوگا تو سب ہی اس کے بینیفشری ہوں گے،افغانستان کو تجارت کےلیے کوئی متبادل راستہ اختیار کرنا ہے تو ضرور کرے، افغانستان اگر بھارت کےساتھ تعلقات رکھنا چاہتاہے تو ضرور رکھے۔

 

 

Back to top button