ہم نے مارشل لا کے دوران آنکھ کھولی، اب تو ججز بھی نہیں رہے، جسٹس محسن اختر کیانی

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جامعات کے بی پی ایس اساتذہ کی ترقیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے سیکریٹری خزانہ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو آئندہ سماعت پر اساتذہ کی پروموشن سے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم 80 کی دہائی کی نسل سے ہیں جنہوں نے مارشل لا کے دور میں آنکھ کھولی۔ ایسے اساتذہ بھی موجود ہیں جنہیں 17 سے 18 سال تک مستقل نہیں کیا گیا۔
عدالت نے مزید حکم دیا کہ چیئرمین ایچ ای سی کی تعیناتی کے 15 روز کے اندر پروموشن پالیسی کا اجلاس بلا کر اس حوالے سے رپورٹ جمع کروائی جائے۔
جسٹس محسن کیانی کا کہنا تھا کہ اگر اساتذہ ہی مایوس ہوں گے تو اس کا اثر طلباء پر بھی پڑے گا۔ اساتذہ اور طلباء دونوں نے ہی ملک کے دفاع میں کردار ادا کرنا ہے۔ یہ بات شاید ابھی سمجھ نہ آئے، لیکن مشکل وقت میں اس کی اہمیت واضح ہو جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کے طلبا نے ہی آگے جا کر قیادت سنبھالنی ہے۔ حال ہی میں ملک کے دفاع کی ایک قابلِ مثال صورت دیکھی گئی ہے۔ اساتذہ کو اپنے شعبے میں مضبوط مقام پر ہونا چاہیے۔ “اب تو ججز بھی زیادہ نہیں رہے، صرف اساتذہ ہیں جو کھڑے ہیں۔”
عدالت نے سیکریٹری خزانہ اور ایچ ای سی کو ہدایات جاری کرتے ہوئے سماعت کو جنوری تک ملتوی کردیا۔
