گوشت خور بیکٹیریا انفیکشن میں دوگنا اضافے کا خطرہ

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 20 سالوں میں امریکا کےمشرقی ساحل سے جڑی ہر ریاست میں گوشت کھانے والا بیکٹیریا شہریوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا کے محققین کے مطابق 2040 تک موسمیاتی تغیر کے سبب گرم ہوتے سمندروں کی وجہ سے ’وائبریو وُلنیفیکس‘ نامی بیکٹیریا کےسالانہ کیسز کی تعداد میں دُگنا اضافہ ہوسکتا ہے۔
انسانوں میں اس بیکٹیریا کے انفیکشن اتنے عام نہیں لیکن موسمِ گرما میں انفیکشن کے کیسز کی تعداد اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ لوگ جسم پر لگے کٹ یا دیگر زخموں پر سمندر کا پانی لگنے سے اس انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں۔تاہم، یہ انفیکشن بغیر پکی مچھلی کھانے سے بھی ہوسکتا ہے۔
یہ انفیکشن انسانوں میں تیزی سے پھیلتا ہے اور خطرناک حد تک گوشت کو نقصان پہنچا سکتا ہے لیکن یہ انفیکشن ایک انسان سے دوسرے کو نہیں لگتا ہے۔
اس انفیکشن کی علامات میں پیچش، متلی، الٹی اور بخار کے ساتھ ٹھنڈ لگنا، جلد پر زخم ہونا اور بلڈ پریشر کا انتہائی گرجانا شامل ہیں۔
