مغربی دنیا کا پاکستان میں مقیم افغانوں کو پناہ دینے سے انکار

مغربی ممالک کی بدلتی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی بیرون ملک منتقلی کی امیدیں دم توڑ گئیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر معینہ مدت کے لیے پناہ گزینوں کے داخلے پر پابندی سے اڑان بھرنے کے لیے تیار تقریباً 15 ہزار افغان اسلام آباد میں ہی پھنس کر رہ گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق مغربی ممالک کی ہر گزرتے دن کے ساتھ تبدیل ہوتی ہوئی پالیسیوں نے افغان پناہ گزینوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے۔ اب نہ تو ان کے پاس آگے جانے کا کوئی راستہ باقی بچا ہے اور نہ ہی وہ افغانستان واپس جانے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستان کی جانب سے ملک بدری کی لٹکتی تلوار نے افغان مہاجرین کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ حکام کے مطابق اگر مغربی ممالک نے پاکستان میں مقیم افغانوں کو ویزے دینے سے انکار کر دیا تو ان کو واپس بھجوانے کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہیں بچے گا۔
خیال رہے کہ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد، ہزاروں افغان پاکستان آئے تاکہ مغربی سفارت خانوں میں پناہ اور حفاظت کے لیے درخواستیں جمع کرا سکیں، ان میں سے بہت سے لوگ امریکی قیادت میں نیٹو فورسز یا مغربی این جی اوز کے ساتھ کام کر چکے تھے جب کہ دیگر کارکن، موسیقار یا صحافی تھے۔ چار سال گزر جانے کے بعد بھی ہزاروں افغان افراد زیادہ تر اسلام آباد یا اس کے مضافات میں منتظر ہیں کہ کوئی سفارت خانہ آگے بڑھے گا اور انہیں محفوظ پناہ دے گا۔تاہم ان کی امیدیں پوری نہیں ہو سکیں۔ حالیہ عرصے میں یورپ، برطانیہ اور امریکہ سمیت مغربی دنیا کی پالیسیوں میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر معینہ مدت کے لیے پناہ گزینوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے، جس کے باعث اسلام آباد سے اڑان بھرنے کے لیے تیار بیٹھے 15 ہزار سے زائد افغان شہری پھنس گئے۔ امریکی فیصلے نے پہلے سے موجود بے یقینی کی صورتحال کو جہاں مزید پیچیدہ بنا دیا ہے وہیں افغان پناہ گزینوں کے لیے مغربی دنیا تک رسائی مزید محدود کر دی۔
کیا پاک سعودی دفاعی معاہدہ آپریشن سیندور کا نتیجہ ہے ؟
اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صرف رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ ملین ہے، جبکہ لاکھوں غیر رجسٹرڈ افراد بھی پاکستان میں مقیم ہیں۔ پاکستان میں قایم پذیر افغانوں میں سے بڑی تعداد ایسے خاندانوں کی ہے جو مغربی ممالک کے ری سیٹلمنٹ پروگرامز میں شامل ہو کر ایک محفوظ مستقبل کی امید لگائے بیٹھی تھی۔ لیکن سخت پالیسیوں، ویزہ پروسیسنگ میں سست روی اور مختلف پروگرامز کے بند ہونے سے یہ خواب حقیقت کا روپ نہیں دھار سکا۔ اس دوران پاکستان نے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے کو تیز کیا، جس نے یہاں مقیم پناہ گزینوں کے لیے ایک اور دباؤ پیدا کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق مغربی پالیسیوں میں تبدیلی کے تین بڑے عوامل ہیں۔ پہلا، یورپ اور برطانیہ میں اندرونی سیاسی دباؤ اور انتخابی سیاست، جس میں ہجرت کو ایک مرکزی بحث بنایا گیا ہے۔ اس دباؤ نے دوبارہ آبادکاری کے پروگرامز کو یا تو محدود کر دیا ہے یا مکمل طور پر روک دیا ہے۔ جبکہ مغربی ممالک کی خارجہ پالیسی اور سیکیورٹی ترجیحات بدل رہی ہیں، جہاں طالبان یا علاقائی قوتوں کے ساتھ براہ راست رابطوں کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ واپسی کے انتظامات کیے جا سکیں۔ یہ رویہ بظاہر وقتی سیاسی ضرورت ہے مگر انسانی حقوق کے لیے خطرناک نتائج مرتب کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی سطح پر وسائل کی کمی اور دیگر بحرانوں کی وجہ سے مغربی ممالک میں افغان پناہ گزینوں کے لیے دوبارہ آبادکاری کی گنجائش مزید محدود ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق مغربی ممالکی کی ان بدلتی پالیسی تبدیلیوں کا براہِ راست اثر پاکستان میں مقیم عام افغان خاندانوں پر پڑ رہا ہے۔ کئی پناہ گزین برسوں سے بند کمروں اور عارضی رہائشوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ روزگار کے مواقع محدود ہیں، صحت اور تعلیم تک رسائی مشکل ہے، اور بچوں کا مستقبل اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ ایسے خاندانوں کے لیے ویزہ کلیئرنس اب محض ایک خواب بن کر رہ گیا ہے، اور روز بروز بڑھتی مایوسی اُن کے حوصلے توڑ رہی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اس غیر یقینی صورتحال نے افغان پناہ گزینوں کو ایک ایسے کونے میں دھکیل دیا ہے جہاں نہ وہ واپس جا سکتے ہیں اور نہ ہی آگے بڑھنے کا کوئی راستہ ان کے لیے کھلا ہے۔ انسانی حقوق کے ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر بڑے پیمانے پر جبری واپسی یا ڈی پورٹیشن کا سلسلہ بڑھا تو اس کے سنگین انسانی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
