فوج کے پاس عمران سے نمٹنے کے لیے کون سے 2 راستے ہیں؟

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا ہے کہ اس وقت عمران خان سے نمٹنے کے لیے طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پاس دو ہی ممکنہ راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ عمران کی سزا موخر کر کے 2026 میں فارم 47 یا RTS طرز کے الیکشن کروا دے، یعنی پی ٹی آئی کے بغیر الیکشن کروا کر اگلی حکومت قائم کر دے۔

نیازی کے مطابق دوسرا راستہ یہ ہے کہ عمران خان کے خلاف قائم کیسز کو عدالتی فیصلوں کے ذریعے انجام تک پہنچاتے ہوئے انہیں عمر بھر کے لیے قید میں ڈال دیا جائے۔ ان کے مطابق اگر یہ دونوں راستے اختیار نہ ہو پائے تو عام انتخابات کو 5 سے 7 سال یا غیر معینہ مدت تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ مگر حفیظ اللہ نیازی کے خیال میں جو بھی راستہ اختیار کیا گیا، اس سے پاکستانی مفاد پس منظر میں چلا جائے گا اور ذاتی مفادات آگے آ جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکمران فیصلے کرنے کے معاملے میں شدید کنفیوژن کا شکار ہیں۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ ریاست اسی وجہ سے بے یقینی کی کیفیت میں ہے اور عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے گلے کی ایسی ہڈی بن چکے ہیں، جسے نہ اگلا جا سکتا ہے اور نہ نگلا جا سکتا ہے۔ نیازی کہتے ہیں کہ پاکستان کے فیصلہ ساز اس وقت ایسے مخمصے میں پھنسے ہوئے ہیں جس کے باعث ملک آگے بڑھنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق راولپنڈی کی اڈیقلہ جیل میں بند عمران خان بھی شدید ترین کنفیوژن میں مبتلا ہیں۔ غیر معمولی مقبولیت نے عمران خان کے ذہن اور انکے اعصاب پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اگرچہ ان کی عوامی مقبولیت اب بھی برقرار ہے، لیکن سیاسی سمجھ بوجھ کی کمی نے انہیں ایک بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔

 

حفیظ اللہ نیازی کے مطابق عمران کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک ہی وقت میں مخالفت اور پھر مفاہمت کی کوششوں کی پالیسی سمجھ سے باہر ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان ایک دوسرے سے کافی دور ہو چکے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ عمران خان کو جیل میں بند ہونے کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ وہ لاکھوں لوگوں کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھڑا کر چکے ہیں۔ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے عوام کو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھڑا کر کے اپنا بدلہ پورا کر لیا ہے۔ ان کے مطابق عمران چاہے رہیں یا نہ رہیں، انہوں نے ملکی سیاست کو مفلوج کر دیا ہے۔

 

حفیظ اللہ خان نیازی لکھتے ہیں کہ جس عمران خان کو وہ جانتے ہیں، وہ موجودہ صورت حال سے مطمئن ہوگا، کیونکہ اس کی نظر میں پہلے اپنی ذات مضبوط کرنا ضروری ہے اور بعد میں ملک کی مضبوطی آتی ہے۔

عمران خان نے اپنے فوج مخالف بیانیے کے ذریعے ملک میں جس طرح کی کشیدہ صورتحال پیدا کر رکھی ہے وہ اس کی سیاست کو سوٹ کرتی ہے۔ ہر جانب ایک بے یقینی کی کیفیت ہے۔ آئے دن سیاسی اور نیم سیاسی خبروں کے شوشے چھوڑے جا رہے ہیں۔ کبھی عمران کی راولپنڈی سے کسی اور جیل پر منتقلی کی بات ہوتی ہے، کبھی جنرل فیض حمید کو سزا کی خبریں سامنے آتی ہیں، کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ عمران خان کو جنرل فیض کے کورٹ مارشل میں بطور گواہ شامل کیا جانے والا ہے۔ یعنی فیصلہ سازوں کی جانب سے منصوبے بنائے جاتے ہیں اور پھر ڈراپ کر دیے جاتے ہیں۔

 

گزشتہ کچھ دنوں سے وی لاگرز لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل مکمل ہونے، انہیں عمر قید کی سزا دینے اور اسکے ممکنہ نتائج بارے خبریں چلا رہے ہیں۔ لیکن حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ وہ اب ایسی باتوں کو اہمیت نہیں دیتے کیونکہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔ انہوں نے کہا کہ عمران کی مقبولیت ریاست کے لیے نیا تجربہ نہیں۔ اس سے پہلے 1970 میں بھٹو دور میں بھی سیاست میں مقبولیت اور قبولیت کا ٹکراؤ دیکھا جا چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ پچھلے دو برس سے سن رہے ہیں کہ جنرل فیض حمید کا ٹرائل آخرکار عمران تک جائے گا لیکن ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہوا۔ پچھلے دو سال سے یہی کیفیت ہے کہ بھائی لوگوں کی جانب سے طرح طرح کے ارادے باندھے جاتے ہیں، لیکن پھر توڑ دیتے ہیں۔ آج بھی صورتحال کوئی مختلف نہیں ہے۔

حکومت کی جانب سے کالے جادو پر پابندی لگانا ضروری کیوں ہے؟

حفیظ اللہ نیازی کے مطابق آنے والے مہینوں میں عمران اور ملکی نظام دونوں کے مستقبل پر بے یقینی ہی کا راج رہے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ عمران خان کا ممکنہ ملٹری ٹرائل بھی تذبذب کا شکار رہے گا اور اسی سوچ بدلنے کے عمل نے موجودہ نظام کو غیر مستحکم رکھا ہوا ہے۔ انکے مطابق سیاسی تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے فیصلہ ساز اپنے اصل ارادوں کو عملی شکل دینے میں ناکام رہیں گے کیونکہ حالات کے جبر سے راستے خود بن جاتے ہیں۔

https://www.youtube.com/watch?v=svgwug5UGHM

Back to top button