عمران خان کے لانگ مارچ کی کامیابی کا کتنا امکان ہے؟

سابق وزیرِ اعظم عمران خان اپنے اقتدار سے بے دخلی کے بعد فوری الیکشن کا مطالبہ لیکر حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کر چکے ہیں جس نے پاکستانی سیاست میں ایک نئے تلاطم کا آغاز کر دیا یے۔ ایسے میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا عمران خان کا یہ لانگ مارچ بھی 2014 کے لانگ مارچ کی طرح ناکام ہو جائے گا حالانکہ تب کا موسم اور حالات آج کے مقابلے میں زیادہ سازگار تھے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی سیاسی جماعت مئی اور جون کے گرم ترین موسم میں لانگ مارچ کرنے نکلی ہے لہذا اس کی کامیابی کا امکانات کم نظر اتے ہیں۔ ماضی قریب میں جب عمران حکمران تھے تو اپوزیشن جماعتیں فوری الیکشن کا مطالبہ کر رہی تھیں لیکن عمران ایسا کرنے سے انکاری تھے، لیکن اب وہ خود فوری الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔عمران خان کے مطابق نئے الیکشن کی تاریخ کے اعلان تک اس مارچ کے شرکا اسلام آباد میں ہی رہیں گے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے فوری ایکشن کا مطالبہ رد کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی بات ماننے سے بھی انکار کر دیا ہے اور عمران کے لانگ مارچ کو سختی سے کچلنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ انہوں نے خون خرابے کی دھمکی دی ہے۔
لیکن عمران خان کا اصرار ہے کہ وہ لانگ مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچیں گے اور نئے الیکشن کا مطالبہ تسلیم ہونے تک دھرنا دیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا عمران اسلام آباد پہنچ کر دھرنا دینے میں کامیاب ہوں گے اور اگر وہ ایسا کر لیتے ہیں تو یہ دھرنا کتنے دن برقرار رہے گا؟ اسی سے جڑا ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا دھرنے کی طوالت کے لیے درکار معاشی وسائل تحریک انصاف کے پاس موجود ہیں۔ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ مجوزہ دھرنا پی ٹی آئی کی جیب پر کتنا بھاری پڑ سکتا ہے؟پاکستان میں دھرنوں اور لانگ مارچ کی حالیہ سیاسی تاریخ میں 2014 میں ہونے والا تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کا دھرنا بے حد اہمیت کا حامل ہے جس کا ایک پہلو دھرنے کا دورانیہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ دھرنا 126 دن جاری رہا تھا جس کا آغاز بھی ایک لانگ مارچ کی صورت میں لاہور سے 14 اگست کو ہوا اور 15 اگست اسلام آباد پہنچنے کے بعد 18 اگست کو عمران نے وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں داخل ہونے کا اعلان کیا تھا۔ تحریکِ انصاف کے 2014 کے دھرنے کے شرکا کے کھانے پینے کے انتظامات اور اخراجات اٹھانے والوں میں جڑانوالہ سے تعلق رکھنے والے خان بہادر ڈوگر بھی شامل تھے جنھوں نے 2018 میں جڑانوالہ کے صوبائی حلقہ پی پی 100 سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا۔ جب اِن سے پوچھا گیا کہ 2014 کے دھرنے میں روازنہ کی بنیاد پر کھانے پینے کی مد میں کتنا خرچہ ہو رہا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’جس وقت میں نے یہ ذمہ داری سنبھالی تو شرکا کی تعداد 35 سے 40 ہزار کے درمیان تھی جن کے کھانے پینے کا خرچہ لگ بھگ 20 لاکھ روپے روزانہ کی بنیاد پر ہو رہا تھا۔ لیکن آخری دِنوں میں عوام کی تعداد کم ہونے سے روزانہ کا خرچہ کم ہو گیا تھا۔
واضح رہے کہ 19 اگست کو عمران خان اور طاہرالقادری نے اپنے کارکنوں سمیت پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیا اور 30 اگست کو دھرنے کے شرکا کی پولیس سے اس وقت جھڑپ ہوئی جب انھوں نے مبینہ طور پر پارلیمنٹ ہاؤس اور پی ٹی وی کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ناس دھرنے کے انتظامی اُمور دیکھنے والے ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’30 اگست کے واقعے کے بعد دھرنے کا زور ٹوٹ گیا تھا۔ اگلے دِن پی ٹی آئی کے لوگ دھرنے میں شریک ہوئے، مگر وہ لیڈروں کی تقریریں سننے کے بعد گھروں کو چلے گئے، پھر یہی معمول رہا۔ یوں دھرنے کے روزانہ کے خرچے میں بھی فرق آ گیا۔‘ صدر تحریک انصاف اسلام آباد ریجن علی نواز اعوان سے جب سنہ 2014 دھرنے پر روزانہ کے اخراجات سے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ’2014 کے دھرنے کے شروع میں شاید 20 لاکھ تک روزانہ، جبکہ آخری دنوں میں 5 لاکھ تک خرچ آتا تھا۔
شہبازشریف کی تیسری اہلیہ فرسٹ لیڈی بن گئیں؟
علی نواز اعوان کے بقول پی ٹی آئی کے جلسوں اور دھرنوں میں شامل ہونے والی عوام زیادہ تر اپنا خرچ خود اٹھاتے ہیں کیونکہ ’لوگ عمران خان سے پیار کرتے ہیں اور ان کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں۔‘ لیکن دھرنے میں کھانے پینے کا خرچ تو صرف ایک حصہ ہے۔ ایسے کئی اور عوامل بھی ہیں جو کسی بھی قسم کے بڑے سیاسی اجتماع کا لازم و ملزوم سمجھے جاتے ہیں اور خرچے کی بڑی وجہ بھی بنتے ہیں۔
ایسا ہی ایک معاملہ ساوئنڈ سسٹم کا بھی ہے جس کے بغیر کوئی بھی بڑا سیاسی اجتماع نامکمل تصور ہوتا ہے۔تحریک انصاف کے چھ سال قبل ہونے والے دھرنے میں آصف نذر یعنی ڈی جے بٹ نے ساؤنڈ سسٹم کے انتظامات سنبھالے تھے۔ ساؤنڈ سسٹم کا 126 دِن کا بِل کتنا بنا تھا؟ اس حوالے سے ڈی جے بٹ نے بتایا کہ ’یہ بِل 14 کروڑ کا تھا۔‘ تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق اسلام آباد مارچ اور ممکنہ دھرنے سے عوامی دباؤ کے نتیجے میں حکومت کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ جلد از جلد عام انتخابات کا اعلان کرے۔
اسلام آباد مارچ میں خدمات دینے والے ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’اگر 50 ہزار لوگ اسلام آباد میں اکھٹے ہو جاتے ہیں اور یہ دھرنا پانچ دِن تک رہتا ہے تو اس میں تمام اخراجات کا تخمینہ 15 کروڑ سے 20 کروڑ تک ہو سکتا ہے لیکن یہ محض اسلام آباد پڑاؤ ڈالنے کا خرچہ ہے۔ اُن گاڑیوں کے کرائے، پیٹرول و ڈیزل اور عملے کا خرچہ شامل نہیں جو منصوبے کے مطابق گلگت بلتستان، کشمیر، سندھ، پنجاب یا خیبر پختونخوا سے آنی ہیں۔اس مارچ اور دھرنے کے لیے ابتدائی پانچ دِن کے انتظامات میں محض ساؤنڈ سسٹم پر جو خرچہ آ رہا ہے، وہ روزانہ 1 کروڑ 73 لاکھ بنتا ہے۔
’لائٹس، ٹرک اورجنریٹر کا خرچہ الگ ہے۔ واضح رہے کہ ٹرکوں پر ساؤنڈ سسٹم انسٹال ہوتا ہے اور ہر ٹرک پر لائٹس لگائی جاتی ہے اور ایک جنریٹر بھی موجود ہوتا ہے۔‘ ’پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کے لیے لگ بھگ ایسے 122 ٹرک تیار کیے گئے ہیں اور ایک ٹرک کا خرچہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 24 ہزار روپے بنتا ہے۔ انکے مطابق یہ ٹرک پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع، جہاں سے اسلام آباد کی طرف قافلے آنے ہیں، بھیجے جائیں گے جن میں خیبر پختونخوا سے ڈی آئی خان، بنوں، کوہاٹ، پشاور، ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور چارسدہ جب کہ پنجاب سے چکوال، جہلم، گجرات، گوجرانولہ، سیالکوٹ، لاہور، اوکاڑہ اور ملتان شامل ہیں۔
دھرنے کے دوران بڑی تعداد میں جنریٹرز بھی استعمال ہوتے ہیں۔ممختلف دھرنوں، جلسوں اور اجتماعات میں جنریٹرز مہیا کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ ’ایک جنریٹر کا روزانہ کا کرایہ 15 ہزار تک ہوتا ہے۔ ایک بڑا جنریٹر فی گھنٹہ 20 لیٹر تیل استعمال کرتا ہے اور اس دھرنے میں ایک سو سے زائد جنریٹر استعمال ہو سکتے ہیں۔‘میہ پیسہ آئے گا کہاں سے؟ اس سوال پر صدر تحریک انصاف اسلام آباد ریجن علی نواز اعوان کا کہنا تھا کہ ’سارا خرچہ پارٹی کے چاہنے والے خود برداشت کر رہے ہیں اور ’نامنظور ڈاٹ کام‘ ویب سائٹ پر ہمارے پاس اس ضمن میں اچھی خاصی رقم جمع ہو چکی ہے۔‘
ڈی جے بٹ نے بتایا کہ ’جب دوسرے شہر میں جاتے ہیں تو کچھ دن پہلے روانہ ہونا پڑتا ہے۔ اُس شہر تک پہنچنے کے لیے اگر ایک دن کا سفر ہے تو ایونٹ سے تقریباً تین دن پہلے روانہ ہونا پڑتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس کا خرچہ زیادہ پڑتا ہے، لیبر کاسٹ بھی زیادہ آتی ہے، ٹرانسپورٹیشن کاسٹ بھی بڑھ جاتی ہے اور جو تین لاکھ روپے کا کام ہوتا ہے وہ چار سے پانچ لاکھ روپے پر چلا جاتا ہے۔ اگر لاہور سے اسلام آباد جا کر ساؤنڈ سسٹم نصب کیا جائے تو فی دِن خرچے کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ کتنا بڑا سسٹم لگنا ہے، کیونکہ یہ دیکھنا ہو گا کہ جلسہ کتنا بڑا ہے،عوام کی تعداد کتنی ہے۔
پی ٹی آئی جلسوں کے انتظامی اُمور دیکھنے والے ایک عہدیدار نے بتایا ’جس شہر میں جلسہ ہو رہا ہوتا ہے، اُس شہر کا کوئی شخص جب جلسہ گاہ یا دھرنے کے مقام پر پہنچے تو وہ خود اپنی جیب سے کھا پی رہا ہوتا ہے۔ لیکن جلسہ گاہ میں موجود ہر شخص اپنی جیب سے کھا اور پی نہیں رہا ہوتا۔‘ ان کے مطابق ’جلسہ گاہ اور دھرنے میں دوسرے شہروں سے آئے ہوئے لوگوں میں سے ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو انتظامیہ کا حصہ ہوتے ہیں، کوئی سکیورٹی پر مامور ہے، کوئی ڈرائیور ہے، تو اِن لوگوں کے کھانے پینے اور دیگر ضروری اشیا کا خرچہ کہیں سے کوئی اُٹھا رہا ہوتا ہے۔
اسی طرح جلسہ گاہ میں آنے والی گاڑیوں کا پیٹرول، ہیلی کاپٹر کا خرچہ، جنریٹرز، انٹرنیٹ ڈیوائسز، کنٹینرز کا عملہ اور اس میں بیٹھے ہوئے سوشل میڈیا کے لوگ یہ سب ایسے خرچے ہوتے ہیں جو دکھائی نہیں دیتے۔‘ تحریکِ انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کے اخراجات کا تخمینہ کیا ہو سکتا ہے؟ اس سوال کی کھوج میں سینٹرل میڈیا ڈیپارٹمنٹ، پی ٹی آئی، اسلام آباد کے سربراہ صبغت اللہ سے رابطہ کیا گیا تو اِن کا کہنا تھا کہ ’ تحریک انصاف کی ہر شہر میں سوشل میڈیا ٹیم ہے جو بغیر کسی معاوضے کے کام کرتی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’جلسے جلوسوں میں مجمع کی تعداد کے مطابق انتظامات کیے جاتے ہیں اور پی ٹی آئی اسلام آباد کی سوشل میڈیا انتظامیہ میں 50 ممبر ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد میں پریڈ گراؤنڈ 27 مارچ جلسے کے انتظامات سوشل میڈیا سکریٹری جو کہ امریکا میں رہتے ہیں، اپنے خرچ پر آئے اور یہاں انتظامات دیکھے۔
تاہم ان کی اس بات سے ہر کوئی اتفاق نہیں کرتا۔ اس ضمن میں ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ’کوئی اتنا فارغ نہیں ہوتا کہ مفت میں کام کرتا رہے۔ لازمی طورپر سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر کام کرنے والے لوگ معاوضہ لیتے ہیں۔‘ جھنڈے کسی بھی جلسے کا لازمی جزو ہوتے ہیں۔ مگر اِن جھنڈوں پر کتنی لاگت آتی ہے اور یہ کہاں تیار کیے جاتے ہیں؟ اس جانب عام لوگوں کا دھیان نہیں جاتا۔مجھنڈے تیار کرنے والے ایک کاریگر مطابق ’گذشتہ تین ہفتوں کے اندر پچاس لاکھ کے قریب جھنڈے تیار کیے گئے ہیں۔ تین ہفتے قبل کی لاگت فی جھنڈے پر 280 روپے بنتی ہے۔‘ جلسوں کی انتظامیہ میں سے ایک شخص کا کہنا تھا کہ ’جھنڈوں کا خرچہ اس طرح سے بھی بڑھ جاتا ہے کہ اگر بیس لاکھ جھنڈوں کا آرڈر دیا جائے تو وہاں سے کم جھنڈے تیار کیے جاتے ہیں کیونکہ اِن کی گنتی کرنا مشکل ہوتا ہے۔
27 مارچ 2023 کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں تحریک انصاف جلسے کے انتظامی اُمور کی نگرانی کرنے والے ایک شخص نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’اُس جلسے پر 2 کروڑ 35 لاکھ خرچہ آیا تھا۔ اس میں ہر چیز کی لاگت شامل تھی جس میں کرسیوں، صوفے، لائٹس، کنٹینر وغیرہ کا خرچہ شامل ہے۔ لیکن اس جلسے میں باہر سے آنے والی ٹرانسپورٹ، اس میں استعمال ہونے والا پیٹرول و ڈیزل اور عملے کا خرچہ شامل نہیں اور نہ ہی اس میں جڑواں شہروں میں لگنے والے پینافلیکس اور جھنڈوں کی لاگت شامل ہے۔‘ اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ میں 27 مارچ کے جلسے کے حوالے سے صدر تحریک انصاف اسلام آباد ریجن علی نواز اعوان کا کہنا تھا کہ ’اس پر لاگت لگ بھگ ایک کروڑ تک ہو سکتی ہے اور کراچی میں ہونے والے جلسے کی لاگت ایک کروڑ ساٹھ لاکھ تک آئی جب کہ لوگ زیادہ تر اپنا پیسہ خود خرچ کرتے ہیں۔
