ایران جنگ میں بطور ثالث پاکستان کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے؟

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کی جانب سے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ بند کرانے کی کوششیں کامیاب ہو گئیں تو امن کے نوبیل انعام پر سب سے پہلا حق پاکستان کا ہو گا۔ یوں پاکستان جنگ کے علاوہ امن کے میدان میں بھی سرخرو ٹھہرے گا۔

 

عمار مسعود اپنے تجزیے میں کہتے ہیں کہ مانیں نہ مانیں، یہ دنیا بدل گئی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے پہلے یہ دنیا مختلف تھی۔ یہاں کے قوانین، اصول، ضابطے، لہجے اور ڈھنگ مختلف تھے۔ اب نہ کوئی قاعدہ ہے نہ قانون، نہ کوئی ضابطہ ہے نہ اصول۔ انکے مطابق ایران پر حملے سے پہلے اقوامِ متحدہ کا کچھ بھرم تھا، دوسرے ممالک کی سرحدوں کا کچھ احترام تھا، انسانی حقوق کے نام پر کچھ ڈھکوسلے ہوتے تھے، جمہوریت کسی چڑیا کا نام تھی، کسی سپر پاور کے جارح ارادوں کے خلاف دنیا مزاحم ہوتی تھی، مگر اب کچھ نہیں۔ اب دنیا میں ایک جانب امریکا کی بدمست طاقت ہے اور دوسری جانب ہاتھی کے پاؤں تلے پسنے والی اقوام ہیں۔

 

عمار مسعود کہتے ہیں کہ اس دنیا میں سب کچھ نیا ہے۔ اب دنیا کو پتہ چل رہا ہے کہ سب سے بڑی قوت معیشت نہیں، عسکری طاقت ہے۔ سب سے زیادہ محترم انسانی حقوق نہیں، جنگی قوت ہے۔ سب سے ضروری تیل نہیں، میزائل ہیں۔ یہ دنیا اب شکست اور فتح کے فیصلے کے درمیان اٹکی ہوئی ہے۔ اب دنیا کے فاصلے راکٹ لانچرز کی رفتار سے ماپے جا رہے ہیں۔ اب کوئی درمیانی راستہ بچا ہی نہیں۔ اب صلح کے پرچم کی گنجائش ہی نہیں۔ اب فیصلہ کن انصاف نہیں، اسلحہ ہے۔

 

عمار مسعود کے مطابق پاکستانیوں کو شکر گزار ہونا چاہیے کہ ہم اس نئے ورلڈ آرڈر میں ایک ایٹمی طاقت ہیں۔ اس کے لیے ہمیں ذوالفقار علی بھٹو شہید اور نواز شریف کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کیونکہ یہ استعداد اس زمانے میں واحد قابلیت ہے جو ہمیں باقی مسلم امہ میں ممتاز کرتی ہے۔ یہ واحد پاکستانی تمغہ ہے جو سب مسلمان ممالک کی چھاتی پر پھبتا ہے۔ پاکستان کے پاس یہ ایٹمی اعزاز ہمارا دفاع بھی ہے، حوصلہ بھی۔ یہی خارجہ پالیسی بھی ہے اور یہی داخلی محاذ پر فتح کا جواز بھی۔

 

انکا کہنا ہے کہ سادہ لوح پاکستانی امید کر رہے ہیں کہ یہ جنگ مستقل بند ہو جائے گی اور بہتر دن آ جائیں گے۔ انکے خیال میں مشکل وقت گزر چکا ہے لیکن انہیں شاید حالات کی سنگینی کا ادراک نہیں۔ دنیا اب مختلف ہو گئی ہے، بلکہ ایک آتش فشاں بن چکی ہے، جس کو شاید آج قرار آ جائے مگر کل کو یہ آگ کسی اور جنگ کے نام پر پھر بھڑک سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یاد رکھیں کہ پیٹرول کی قیمتیں پھر کبھی نیچے نہ آ سکیں گی۔ اب شاید ماضی کی طرح آزادانہ سڑکوں پر گاڑیاں دوڑانے کا دور ہمیشہ کے لیے بیت چکا ہے۔ اب دبئی میں چھٹیاں منانے کا عہد ختم ہو چکا ہے۔

 

عمار مسعود کہتے ہیں کہ پاکستانیوں کو ادراک ہونا چاہیے کہ پیٹرول کی قیمت ابھی بہت کم بڑھی ہے۔ ہائی اوکٹین ابھی بھی دستیاب ضرور ہے لیکن اگر یہ جنگ جاری رہی تو پیٹرول ایک ہزار روپے لیٹر بھی ہو سکتا ہے، ہائی اوکٹین سونے کے بھاؤ بھی مل سکتا ہے۔ ڈیزل نایاب بھی ہو سکتا ہے۔ اشیائے خورو نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر سکتی ہیں۔ اگر جنگ جاری رہی تو کیا پتہ آنے والے دور میں دودھ، گوشت صرف امرا ہی خرید سکیں۔ ڈبل روٹی اور انڈے عیاشی تصور ہونے لگیں۔ سبزیاں کھیتوں میں ہی برباد ہو جائیں مگر ٹرانسپورٹ کا خرچہ برداشت کرنے والا کوئی نہ ہو۔ سکول اور کالج ہمیشہ کے لیے آن لائن ہو جائیں۔ یونیورسٹیاں ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں، تقریبات ختم ہو جائیں۔ اجتماعات پر پابندی لگ جائے۔ گاڑی میں اکیلے سفر کرنا جرم تصور کیا جائے۔ بڑے بڑے افسر موٹر سائیکل پر سفر کریں۔ پیٹرول گاڑیاں مالکان کے لیے عذاب بن جائیں۔ الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں بے پناہ اضافہ ہو جائے۔ ہر چیز کے لیے انٹرنیٹ لازمی ہو جائے۔ کاروباری فیصلے راستہ ماپ کر کیے جائیں۔ پیٹرول پمپوں پر تالے لگ جائیں۔ لوگ پیدل سفر کرنا شروع کر دیں۔

 

عمار مسعود کہتے ہیں کہ یہ صورتِ حال صرف پاکستان کی نہیں، بلکہ پوری دنیا کی ہو سکتی ہے۔ ایسا ہو گیا تو پھر ملکوں کی پہچان انکی دفاعی اور عسکری صلاحیت سے ہو گی۔ یہی پیمانہ حتمی اور اٹل کہلائے گا۔ سوال یہ ہیں کہ اس نئی دنیا میں پاکستان کے لیے کیا راہیں متعین ہو سکتی ہیں؟ کیا راستے نکل سکتے ہیں؟ کون سے امکانات پوشیدہ ہو سکتے ہیں؟ اس حوالے سے ابھی سے غور و فکر کی ضرورت ہے۔

 

انکے مطابق ایسے ممکنہ بحران میں پاکستان کے لیے تین مواقع پوشیدہ ہو سکتے ہیں اور اگر ہم ان سے فائدہ اٹھائیں تو دنیا کا بھی فائدہ ہو گا اور ہمارا بھی۔ دنیا کی بھی بچت ہو گی اور ہماری بھی۔ انکا کہنا ہے کہ ایران کے خلیجی ممالک پر تابڑ توڑ حملوں سے یہ قلعی کھل گئی ہے کہ امریکا کسی ملک کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ وہ خلیجی ممالک جنہوں نے اپنے دفاع کی ساری ذمہ داری بھاری ہرجانے پر امریکا کے حوالے کی تھی، اس وقت ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہیں۔ سعودی عرب نے بہت دور اندیشی سے کام لیا۔ پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ نہ صرف ہماری مضبوط دوستی کی دلیل ہے بلکہ مسلم امہ کی اس دانش گاہ کی دور اندیشی کا بھی ثبوت ہے۔ آنے والے دور میں دوسرے خلیجی ممالک کو بھی سعودی عرب کی تقلید کرنا ہو گی۔

 

عمار کے مطابق، پاکستان کی دفاعی صلاحیت مضبوط تر بھی ہے اور مسلم امہ کا رشتہ بھی خلیجی ممالک سے قائم ہے۔ یہ وہ موقع ہے جس سے خلیجی ممالک کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اسی میں ان کی عافیت ہے، اس میں ان کی فلاح، ان کا دفاع پوشیدہ ہے۔ جتنی جلد وہ پاکستان سے دفاعی معاہدے کر لیں گے، اتنی جلد انکی زندگی، عوام، معیشت، مملکت محفوظ ہو گی۔ یہ موقع پاکستان کے لیے بھی اور باقی ماندہ خلیجی ممالک کے لیے بھی ہے۔

 

عمار مسعود کے مطابق موجودہ بحران کے نتیجے میں میں پاکستان بین الاقوامی سرمایہ کاری کا مرکز بن سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم فوری طور پر اپنے قوانین میں تبدیلی کریں، بین الاقوامی سرمایہ کاری کو ہر ممکن سہولت دیں۔ اپنے قوانین کو اتنا سہل کر دیں کہ پاکستان دبئی کی جگہ لے سکے۔ ہماری دفاعی صلاحیت پر کسی کو شک نہیں، ہماری معاشی اقدار پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے، حالات موافق کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک دفعہ ایسا ہو جائے تو دنیا کی اہم معیشت اس بحران میں پاکستان ہو سکتا ہے۔ ہمارا ڈنکا بھی دنیا میں بج سکتا ہے۔ نئے ورلڈ آرڈر میں معاشی اعتبار سے بھی پاکستان مسلم امہ کی قیادت کر سکتا ہے۔

کیا پاکستان امریکہ اور ایران کی جنگ بندی کروا پائے گا؟

انکا کہنا ہے کہ تیسرا ایک اور نادر موقع ہے۔ ساری دنیا اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تعریف کر رہی ہے۔ امریکا بھی ہمارے قصیدے پڑھ رہا ہے، ایران بھی ہماری تعریف کر رہا ہے، خلیجی ریاستیں بھی ہمارے بارے میں رطب اللسان ہیں۔ فیلڈ مارشل، شہباز شریف اور اسحاق ڈار کی شبانہ روز کوششوں سے امن کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ امن کے حوالے سے مذاکرات بھی پاکستان میں ہوں گے، جس میں امریکی نائب صدر کے شریک ہونے کی بھی توقع ہے۔ ایسا ہوا تو دنیا میں جنگ کے حوالے سے ہی نہیں، امن کے حوالے سے بھی پاکستان کا نام ہو گا۔ ایسی سنگین جنگ، جو کسی بھی لمحے تیسری عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے، اس سے دنیا کو نجات دلانا اس صدی کا سب سے بڑا کارنامہ ہو گا۔ اگر پاکستان کی بین الاقوامی امن کی یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے، اور عارضی جنگ بندی پاکستان کی کوششوں سے مستقل ہو جاتی ہے، تو یقین مانیے امن کے نوبل انعام پر سب سے پہلا حق پاکستان کا ہو گا۔ پاکستان جنگ کے علاوہ امن کے میدان میں بھی سرخرو ہو گا۔

 

Back to top button