عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈز کیس میں کن الزامات کا سامنا تھا ؟

احتساب عدالت نے جس 190 ملین پاؤنڈز کیس میں عمران خان کو سزا سنائی ہے اس کی ایف آئی آر کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض حسین نے سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے ضلع جہلم میں 458 کنال قیمتی زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں عمران خان نے ملک ریاض کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

نیب نے عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد اکتوبر 2022 میں اس معاملے کی تحقیقات شروع کی تھیں۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019 کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں ملک ریاض کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ یہ رقم برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔ عمران خان نے بطور وزیراعظم اعظم 26 دسمبر 2019 کو ریئل اسٹیٹ ڈیویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ایک ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم کابینہ کو اس حوالے سے اندھیرے میں رکھتے ہوئے فیصلے کی منظوری لی گئی۔

نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ ’اختیارات کے ناجائز استعمال، مالی فائدہ اور مجرمانہ بدیانتی کے الزامات کی انکوائری کے دوران معلوم ہوا ہے کہ بطور کابینہ ممبر آپ نے 3 دسمبر 2019 کو وزیراعظم آفس میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں شرکت کی جس میں آئٹم نمبر 2 پر فیصلہ کیا۔‘

نوٹس کے مطابق اس کابینہ اجلاس میں آئٹم نمبر 2 کا عنوان تھا ’احمد علی ریاض، انکے خاندان اور میسرز بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹس کا انجماد اور پاکستان میں فنڈز کی منتقلی کا حکم نامہ‘۔ اس معاملے پر ایجنڈا آئٹم وزیرِاعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب اور داخلہ شہزاد اکبر نے پیش کیا اور بریفنگ دی جس کے بعد کابینہ سیکرٹری کو ہدایت کی گئی کہ کابینہ میٹنگ کے اس ریکارڈ کو سیل کردیا جائے۔ نوٹس میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے بیٹے احمد ریاض بھی طلب کیا گیا تھا۔

190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان کو 14 اور اہلیہ کو 7 سال قید کی سزا

تفصیلات کے مطابق 2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض کے خلاف تحقیقات کیں جن کے نتیجے میں ملک ریاض نے ایک تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ این سی اے نے بتایا تھا کہ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت یہ رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اس اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کراچی کے ایک کیس میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی ایک تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کررہے ہیں۔ اس طرح نیب کے مطابق ایک ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔ نیب کی جانب سے عمران خان پر عائد کردہ الزامات ثابت ہونے کے بعد احتساب عدالت نے انہیں سزا سنا دی ہے۔

Back to top button