کیا نواز شریف دل پر پتھر رکھ کر فوج کا ساتھ دے رہے ہیں؟

 

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ عالمی اور داخلی ایشوز پر نواز شریف کی سوچ بالکل مختلف ہے لیکن موجودہ حالات میں وہ اپنے اصل خیالات سے بالکل متضاد پالیسیاں اپنائے ہوئے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ وقتی مصلحتیں نواز شریف کی اصل سوچ پر غالب آئی ہوئی ہیں۔ جب آپ مصلحتوں کا شکار ہو کر اصل سوچ پر کمپرومائز کرتے ہیں تو لازماً تضاد پیدا ہوتا ہے اور نواز شریف کی آج کی سیاست میں یہ تضاد نمایاں ہے۔

روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ نواز شریف جنوبی ایشیا کے سینئر اور تجربہ کار ترین سیاسی رہنما ہیں۔ تین بار کے وزیراعظم اور موجودہ نظام کے اہم شریک کار ہونے کے علاوہ وہ چار دہائیوں میں فوج اور سول حکمرانوں کے درمیان دوستیوں اور لڑائیوں کے اہم ترین گواہ بھی ہیں۔ نوازشریف بہت ہی گہرے آدمی ہیں۔ ان کی مرضی کے بغیر آپ اُن سے دل کی بات نکلوا نہیں سکتے۔ نواز شریف کا عرصۂ دراز سے یہ خواب تھا کہ بھارت سے لڑائی اور دشمنی ختم کر کے دونوں ملک اپنی معاشی ترقی پر توجہ دیں، اس حوالے سے انہوں نے بھارتی وزیراعظم واجپائی اور پھر وزیراعظم نریندر مودی کو پاکستان مدعو کیا وزیراعظم واجپائی نے پاکستان آنا تھا تو اس وقت کی فوجی قیادت اور دائیں بازو کی جماعتوں نے ان کیخلاف محاذ قائم کرلیا، جب بھارتی وزیراعظم لاہور پہنچے تو جماعت اسلامی کے حامیوں نے توڑ پھوڑ کی، لاٹھی چارج ہوا، آنسو گیس چلی مگر نواز شریف ڈٹے رہے۔ تیسری بار وزیراعظم بنےتو جنرل مشرف کا کارگل مس ایڈونچر ان کے ذہن میں تھا، اس لئے انہوں نے بھارت کے اندر ہونے والی دہشت گردی کے واقعات پر اسوقت کے انٹلیجنس بیورو سے آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائیں تو اشارہ ملا کہ کارروائی اپنی ہی ہے۔

سینیئر صحافی بتاتے ہیں کہ اسی حوالے سے وزیراعظم اور فوجی قیادت کے مابین ہونے والی ایک میٹنگ کی اندرونی کہانی کو ڈان لیکس‘کا نام دیا گیا۔ بالآخر اس وقت کی فوجی اور انٹیلی جینس قیادت نے اختلاف کی بنا پر نواز شریف کو اقتدار سے نکال باہر کیا۔ اس سے پہلے نواز شریف نے جنرل باجوہ کو آرمی چیف بنانے کا بڑا فیصلہ بھی اس لئے کیا تھا کہ باجوہ بھی میاں صاحب کی طرح بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کے حامی تھے۔ لیکن آج کی صورت حال میں نواز شریف نے بھارت سے جنگ جیتنے پر فوج اور وزیر اعظم کو مبارکباد بھی دی ہے اور عرصہ دراز سے کبھی بھارت سے دوستی کی بات بھی نہیں کی۔ ایسے میں سوال یہ یے کہ کیا نواز شریف نے مودی اور بھارت بارے اپنی رائے پر نظرثانی کرکے فوج کا نظریہ اپنا لیا ہے کہ جب تک بھارت ہماری برابری تسلیم نہیں کرتا تب تک جیسے کو تیسے والی پالیسی ہی اپنائی جائے گی؟

سہیل وڑائچ کے بقول، بظاہر یہی لگتا ہے کہ فی الحال بڑے میاں صاحب نے اس فارمولے کی مخالفت نہیں کی مگر ایک تشکیک پسندکو یہی لگتا ہے کہ نواز شریف کے پاک بھارت تعلقات پر اصل خیالات وہی پرانے ہیں اور آج کل ان کی خاموشی وقتی مصلحت ہے۔
اصل سوچ اور وقتی مصلحت کا دوسرا نکتہ، نواز شریف کی ملکی معیشت کو ترجیح دینے کی پالیسی ہے۔ وہ ہمیشہ سے ملک کی ترقی، مضبوطی اور خوشحالی کی کنجی معیشت کو سمجھتے ہیں۔ وہ شہباز حکومت کو بھی بار بار یہی تلقین کرتے ہوں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ اڑھائی سال سے ریاست اور حکومت کی پہلی ترجیح سیکورٹی اور دفاع ہے اور دوسری ترجیح خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے۔ ریاست کو ان دو حوالوں سے خاصی کامیابیاں بھی ملی ہیں جس کا اعتراف نواز شریف بھی کرتے رہتے ہیں۔

پاکستانی معیشت میں اگرچہ کافی حد تک استحکام آیا ہے لیکن نہ کارخانوں کا پہیہ چلا ہے، نہ بیرونی سرمایہ کاری آئی ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں برآمدات بڑھنے یا شرح نمو میں نمایاں اضافےکے امکانات ہیں۔ نواز شریف ہمیشہ سے نتائج کے قائل رہے ہیں اسلئے وہ معاشی پالیسیوں پر وقتی مصلحت کا شکار ہیں۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے یا نہیں ہو پا رہا یہ انکی اصلی سوچ سے بالکل میچ نہیں کرتا۔
نواز شریف نےاپنے طویل سیاسی کیریئر میں دو سیاسی جماعتوں سے براہ راست سیاسی جنگ کی ہے۔ پہلے انکا ہدف پیپلز پارٹی رہی اور اب ان کامسئلہ عمران خان اور تحریک انصاف سے ہے۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ ایک طویل جنگ میں انہوں نے اپنی شخصیت کے عین مطابق دباؤ اور پہار یعنی گاجر اور چھڑی دونوں سے کام لیا اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کا صفایا کرکے چھوڑا۔

سہیل وڑائچ کے مطابق، جنرل ضیاء کے پسندیدہ نیلی آنکھ والے نواز شریف نے پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کی کوششوں میں جسٹس ملک قیوم کے ذریعے بے نظیر بھٹو کو نااہل بھی کروا دیا۔ لیکن جب جسٹس قیوم والا بدنام زمانہ فیصلہ سنایا گیا تو یہ یقینی بنایا گیا کہ بے نظیر بھٹو بیرون ملک ہوں، تاکہ وہ گرفتار نہ ہوں مگر نااہل رہیں۔
انکے مطابق یہ معاملہ نواز کی سوچ کے عین مطابق تھا کیونکہ ان کی سیاست کے کمرے کے دو دروازے ہیں۔ ایک دروازے سے وہ حملہ آور ہوتےہیں جب کہ دوسرے دروازے سے مصالحت کا پیغام بھیج رہے ہوتے ہیں۔ لیکن تحریک انصاف کے ساتھ ان کی نون لیگی حکومت کا رویہ نواز شریف کی اصل سوچ اور طریق کار سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ ماضی میں عمران کے ساتھ نواز کا رویہ مصالحانہ ہوتا تھا۔ وہ ان کے گھر بنی گالہ بھی گئے تھے، تاہم اس مرتبہ وہ عمران کو کوئی راستہ دینے کو تیار نہیں، شاید اس کی وجہ خان کی طرف سے حد سے بڑھے ہوئے سوقیانہ حملے ہیں یا پھر فوج کیساتھ ہم آواز ہونے کیلئے انہوں نے وقتی مصلحت اپنا رکھی ہے؟ بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ عمران کے معاملے میں ان کے خیالات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور وہ کھل کر فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ تاہم کبھی کبھی نواز شریف کے زوردار بیانات ہمیں حیران بھی کر دیتے ہیں۔

سینیئر صحافی کے مطابق نواز شریف کی فوج قیادت کیساتھ وقتی مصالحت تو چل رہی ہے مگر یہ انکی سیاسی وراثت کیلئے ایک چیلنج بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ ایک پاپولر جمہوری رہنما کے طور پر یاد رکھے جانے کو ترجیح دیتے ہوں گے اور وقتی مصالحت کا طوق اتار پھینکنا چاہتے ہوں گے، مگر یہ طوق آج دن تک ان کے گلی کی ہڈی بنا ہوا ہے۔

Back to top button