بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان کا لاہور کنیکشن کیا یے؟

بہت کم پاکستانی جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے نو منتخب وزیر اعظم طارق رحمان کا یوں پاکستان سے گہرا اور تاریخی تعلق بنتا ہے کہ وہ نومبر 1965 کو لاہور کے ایک فوجی ہسپتال میں پیدا ہوئے تھے اور تب انکے والد جنرل ضیاء الرحمان پاک فوج میں خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق طارق رحمان کا یہ ذاتی اور خاندانی پس منظر مستقبل میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے سفارتی تعلقات بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں حلف اٹھانے کے بعد طارق رحمان باضابطہ طور پر وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھال چکے ہیں۔ وہ ایک منفرد سیاسی مثال ہیں کیونکہ ان کی والدہ خالدہ ضیا ماضی میں ملک کی وزیر اعظم اور ان کے والد جنرل ضیاالرحمان صدر کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ ان کی جماعت، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی تقریباً دو دہائیوں بعد دوبارہ اقتدار میں آئی ہے۔ طارق رحمان کی پیدائش کے حوالے سے مختلف معلومات سامنے آتی رہی ہیں، تاہم ان کے والد کے فوجی ساتھیوں اور بعض پاکستانی ذرائع کے مطابق وہ لاہور میں پیدا ہوئے۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران ان کے والد نے بطور کمپنی کمانڈر بی آر بی سیکٹر لاہور میں خدمات انجام دیں اور بہادری پر ستارۂ جرات حاصل کیا۔ بعد ازاں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد وہ ملک کے صدر بنے۔
جنرل ضیاء الرحمان کا خاندان قیامِ پاکستان کے بعد کلکتہ سے کراچی منتقل ہوا تھا۔ انہوں نے کراچی کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی اور بعد میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے کمیشن لیا۔ اس طرح طارق رحمان کی خاندانی تاریخ کا ایک بڑا حصہ پاکستان سے جڑا ہوا ہے، جسے سفارتی حلقے علامتی مگر اہم عنصر قرار دیتے ہیں۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی اور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے ادوار میں بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی واضح طور پر پاکستان مخالف اور بھارت نواز رہی۔ ان ادوار میں بنگلہ دیش کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری اور بعض مواقع پر کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی، خصوصاً 1971 کے واقعات سے متعلق عدالتی کارروائیوں اور سزاؤں کے تناظر میں یہ تناؤ شیخ حسینہ واجد کے ملک سے فرار تک برقرار رہا۔ انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے پاکستان مخالف فیصلوں نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی فاصلہ مزید بڑھایا۔
تاہم اب بنگلہ دیش میں نئی حکومت کے قیام کے بعد اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں کی نظریں ڈھاکہ کی خارجہ ترجیحات پر مرکوز ہیں۔ وزیراعظم طارق رحمان کی تقریبِ حلف برداری میں پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر احسن اقبال نے کی اور نو منتخب وزیراعظم کو دورۂ پاکستان کی دعوت بھی دی گئی، جسے مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی این پی تاریخی طور پر عوامی لیگ کی نسبت پاکستان کے لیے نسبتاً نرم مؤقف رکھتی آئی ہے۔ بنگلہ دیش میں پاکستان کے سابق سفیر مہدی افراسیاب کے مطابق مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی رشتے دونوں ممالک کو قریب لا سکتے ہیں، اگرچہ جغرافیائی اور تجارتی حقائق بنگلہ دیش کو بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم طارق رحمان کی کابینہ میں شامل کئی شخصیات کے پاکستان سے ذاتی یا خاندانی روابط بھی توجہ کا مرکز ہیں۔ مثال کے طور پر لبریشن وار افیئرز کے وزیر میجر (ریٹائیرڈ) حفیظ الدین ماضی میں پاکستان آرمی سے وابستہ رہے اور پاکستان کی قومی فٹبال ٹیم کے کپتان بھی رہ چکے ہیں۔ اسی طرح کچھ ارکانِ پارلیمنٹ کے خاندانوں کا تعلق پاکستان سے جڑا رہا ہے، جن میں سابق سپیکر قومی اسمبلی فضل القادر چودھری کا خاندان بھی شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی شخصیات کا ذاتی پس منظر اکثر سفارت کاری میں علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت کا حجم شاید فوری طور پر بہت زیادہ نہ بڑھے، تاہم عوامی سطح پر موجود گرمجوشی اور ثقافتی اشتراک دونوں ممالک کو قریب لا سکتے ہیں۔ پاکستانی ڈراموں اور موسیقی کی بنگلہ دیش میں بڑھتی مقبولیت کو بھی ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں نے سارک کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ اس علاقائی تنظیم کا تصور خود طارق رحمان کے والد صدر جنرل ضیاء الرحمان نے پیش کیا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ طارق رحمان کی نئی حکومت اگر سارک کو فعال بناتی ہے تو جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
سفارتی ماہرین کا خیال ہے کہ طارق رحمان کا پاکستانی پس منظر تعلقات میں فوری اور ڈرامائی تبدیلی کا ضامن تو نہیں، مگر یہ ایک ایسا نرم پہلو ضرور فراہم کرتا ہے جسے دونوں ممالک مثبت سفارت کاری کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن بنگلہ دیش کی نئی قیادت کو بھارت کے ساتھ توازن برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کا چیلنج درپیش ہوگا۔
