عمران حکومت نے PIA کو تباہ کرنے کیلئے کون سی سازش کی؟

برطانیہ نے پانچ سالہ پابندی کے بعد پاکستانی ایئر لائنز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت تو دے دی ہے لیکن ابھی تک اس شخص کا احتساب نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے پی ائی اے تباہی کے دہانے پر پہنچا اور 5 برس میں ملکی معیشت کو ڈھائی سو ارب روپے کا بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں معروف صحافی شکیل انجم کہتے ہیں کہ پی آئی اے کا شمار کبھی دنیا کی بہترین ائیر لائینز میں ہوتا تھا اور اسکے پائلٹ انتہائی پیشہ ور صلاحیتوں کی بنیاد پر عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ مغرب کے بعض ہوائی اڈوں پر پی-آئی-اے کے ماڈلز نمایاں طور پر رکھے ہوتے تھے، لیکن رفتہ رفتہ سیاسی اور انتظامی کرپشن اور نا اہلی کی وجہ سے پی-آئی-اے کے زوال کا آغاز ہوا۔ ہھر ایک وقت ایسا آیا کہ عمران خان کی حکومت نے ملک دشمن ایجنڈے پر عملدرآمد کرتے ہوئے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت قومی ائیر لائین کا مکمل تباہی کا شکار کر دیا۔
یاد رہے گا تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں وفاقی وزیر غلام سرور خان نے باقاعدہ سازش کے تحت قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دیا کہ ہمارے زیادہ تر پائلٹس کے لائسنس جالی ہوتے ہیں اور جن کے پاس اصلی لائسنس ہوتے ہیں ان کی جگہ دوسرے لوگوں نے امتحان دیا ہوتا ہے۔ اس کے بعد پی آئی اے کی فلائٹس کے امریکہ، یورپ اور برطانیہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ پچھلے پانچ برس میں اس پابندی سے ملکی خزانے کو ڈھائی سو ارب روپے کا بھاری مالی نقصان ہوا۔
شکیل انجم کا کہنا ہے کہ پاکستانی پروازوں پر پابندیوں سے نہ صرف ملکی آمدنی متاثر ہوئی بلکہ ہمارے پائلٹس کی نوکریاں بھی ضائع ہوئیں، ہمارے انشورنس اور آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہوا، اور پاکستانی ایوی ایشن ریٹنگ اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ لیکن اسکے باوجود اس کے ذمہ داروں کے خلاف نہ تو کوئی انکوائری ہوئی اور نہ ہی کسی کو جوابدہ ٹھہرایا گیا۔ اب پانچنبرس بعد برطانیہ نے پاکستانی پروازوں کے داخلے پر عائد پابندی اٹھالی ہے، جس سے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں بہتری کی امید ہے، لیکن یہ سوال ابھی باقی ہے کہ اس نقصان کا اصل ذمہ دار کون تھا اور قومی وقار کے ساتھ کس دشمن ملک کے اشارے پر کھلواڑ کیا گیا؟؟
شکیل انجم کہتے ہیں کہ عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت میں کوئی ایک ریاست دشمن اقدام نہیں کیا بلکہ بے شمار ایسے کام کئے جن سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ عمران حکومت مخصوص ایجنڈے پر کام کر رہی ہے، کئہ ایسے بڑے اقدامات کیے گے جنہوں نے پاکستان کی معیشت، سلامتی اور بین الاقوامی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ معاشی بدنظمی اور ریکارڈ قرضہ حاصل کرکے معیشت کے دیوالیہ کرنے کی راہیں ہموار کیں،قرض کے بے قابو پھیلاؤ کی صورت میں صرف 44 مہینوں میں وفاقی قرض میں کم ازکم 19.4 کھرب روپے کا اضافہ ہوا اور روپے کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں 124 روپے سے 187 روپے تک پہنچ گئی۔ اسی وجہ سے عمران خان کے دور میں مہنگائی کا تاریخی طوفان آیا اور افراطِ زر 12 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ کورٹ روم نمبر ایک سے صادق و امین کی سند حاصل کرنے والے عمران خا۔ نے قومی امانت میں خیانت کی اور برطانیہ سے بھیجی جانے والی 190 ملیئن پاؤنڈ کی رقم القادر ٹرسٹ کے ذریعے غبن کر لی۔ کرپشن پر قابو پانے کے دعووں کے باوجود ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے انڈکس میں پاکستان سال 2018 میں 117ویں نمبر سے گرتے ہوئے سال 2021 تک 140ویں نمبر پر چلا گیا۔ 2021 کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان تین درجے تنزلی کے بعد 145 ویں نمبر پر آ گیا۔
عمران خان کے دور اقتدار میں سفارتی محاذ پر پاکستان کو واضح ناکامیاں ہوئیں، وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے سخت بیان اور متبادل اسلامی بلاک کی تجویز پر ریاض برہم ہوا اور 1 ارب ڈالر قبل از وقت واپس مانگ لئے گئے۔کشمیر ڈپلومیسی کی شرمناک حد تک ناکامی سے قوم کے سر شرم سے جھک گئے۔ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پاکستان عالمی برادری کو متحرک نہ کر سکا؛ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر نے خود تسلیم کیا کہ حمایت حاصل کرنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ اپریل 2022 میں عدمِ اعتماد سے بچنے کیلئے وزیرِاعظم نے قومی اسمبلی تحلیل کر کے آئینی بحران پیدا کیا، جسے سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا۔ اسی دوران “سائفر” سازشی بیانیے نے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کی اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوا۔
شکیل انجم کہتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے عمران نے اپوزیشن میں جاتے ہی معیشت کی مکمل تباہی کے لئے IMF سے خفیہ رابطے کرکے قرض رکوانے کی سرتوڑ کوششیں کیں لیکن ناکام رہے، تاہم موصوف جاتے ہوئے ملکی معیشت کی بنیادوں میں بارود بھر گئے۔ خان نے آخری واردات یہ ڈالی کہ فوج میں بغاوت کروانے کے لیے ملک بھر میں عسکری تنصیبات پر حملے کروا دیے جن کے نتیجے میں آج وہ اڈیالہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں۔
