جنگ ہارنے کے بعد انڈیا پاکستان کے خلاف کیا سازش رچا رہا ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ آپریشن سندور میں پاکستان کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کھانے کے بعد مودی سرکار اب 1970 جیسا ایک اور سانحہ برپا کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اور بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اسی سازش کا شاخسانہ ہے۔

نصرت جاوید اپنے سیاسی تجزیے میں لکھتے ہیں کہ پاک بھارت جنگ کے دوران مودی سرکار کی بڑھکوں کا مزاحیہ خاکوں سے پول کھولنے کے بعد پاکستانی عوام کی اکثریت اس حقیقت سے نا آشنا نظر آرہی ہے کہ وزیر اعظم مودی نے چند روز پہلے بھارتی پارلیمنٹ سے خطاب میں بڑی رعونت سے اس نکتے پر زور دیا کہ پاکستان کے خلاف برپا کئے ’’آپریشن سندور‘‘ میں ابھی صرف ’’وقفہ‘‘ آیا ہے اور جنگ بندی کے باوجود یہ آپریشن اپنی جگہ برقرار ہے۔ لہذا انکا موقف تھا کہ پاکستان اور بھارت حالت امن میں نہیں۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ حالیہ پاک-بھارت جنگ کے دوران اپنے ازلی دشمن کی ہزیمت کے بعد ہم بحیثیت قوم پاک-بھارت تنازعہ کے بارے میں یہ سوچتے ہوئے غفلت برتنا شروع ہوگئے ہیں کہ ہم نے اپنے ازلی دشمن کو 87 گھنٹوں کی جنگ کے دوران بالآخر جنگ بندی پر رضا مندی کو مجبور کر دیا۔ بھارت کے جدید ترین طیاروں کی تباہی نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا۔ امریکی صدر کی مصالحانہ کاوشوں نے بھی جنگ کے شعلوں کو مزید بھڑکانے سے بچانے میں حتمی کردار ادا کیا۔ اپنے تئیں ٹھوس وجوہات کسی حد تک جاننے کے باوجود پاک-بھارت تنازعہ کے بارے میں اپنے عوام اور خاص کر صحافی دوستوں کی اکثریت کی جانب سے اپنائی گئی غفلت مجھے پریشان کررہی ہے۔ لیکن ہم اس وجہ سے مطمئن محسوس کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے بھارت سے اس کے ملک آنے والی اشیاء پر 25 فی صد ڈیوٹی لاگو کر دی ہے۔ یہ ڈیوٹی لاگو کرتے ہوئے اس نے اپنے ہاتھ سے جو پیغام لکھا وہ بھارت کو ’’دوست‘‘ ٹھہرانے کے باوجود اس کی کڑے الفاظ میں دھنائی کرتا سنائی دیا۔ لیکن اس دھنائی ہی نے مجھے 1971ء کی یاد دلانا شروع کر دی۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ’’لمحہ موجود‘‘ کی لذتوں سے لطف اندوز ہوتی نوجوان نسل کو یاد دلانا ہوگا کہ 1971 میں بھارت نے ’’مکتی با ہنی‘‘ کی پشت پناہی کے بعد بالآخر اپنی افواج کو براہ راست ان دنوں مشرقی پاکستان کہلاتے پاکستانی حصے میں داخل کر دیا تھا۔ اسی فوجی مداخلت کی بدولت بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا۔ سرد جنگ کی وجہ سے دنیا ان دنوں امریکی اور روسی کمپنیوں میں منقسم تھی۔ پاکستان 1950 کی دہائی سے امریکی کیمپ میں داخل ہو چکا تھا۔ لیکن انڈیا غیر جانبدار رہنے کا ڈرامہ رچاتا رہا۔ لیکن مشرقی پاکستان پر حملہ آور ہونے سے قبل اس نے سوویت یونین یعنی روس کے ساتھ باہمی دفاع اور سلامتی کا 25-سالہ معاہدہ طے کر لیا۔ یوں بھارت نے پاکستان کو توڑنے کے لئے روس کی مکمل پشت پناہی یقینی بنا لی۔ ٹرمپ نے حال ہی میں بھارت پر جو سخت گیر پابندیاں عائد کی ہیں اس کی وجہ روس سے تیل کی خریداری کو بتایا گیا ہے۔ ٹرمپ نے تیل کے علاوہ بھارت کی جانب سے روس سے فوجی سامان خریدنے کا ذکر بھی کیا ہے۔

لیکن جو حقیقت ٹرمپ نے بیان نہیں کی وہ یہ ہے کہ روس نے بھارت میں بہت عرصے سے ایک ریفائنری لگا رکھی ہے۔ ریفائنری قائم ہونے کے چند برس بعد بھارت کے ایک مشہور سیٹھ نے بھی اس کے قریب ایک اور ریفائنری تعمیر کر لی۔ ان دو ریفائنریوں کی وجہ سے روس کی یوکرین پر مسلط کردہ جنگ کی وجہ سے بائیڈن انتظامیہ نے عالمی منڈی میں روسی تیل کی فروخت پر پابندی لگائی تو یورپ کی طرف جاتے روس کے خام تیل سے لدے جہاز کھلے سمندر ہی سے بھارت کی طرف مڑنا شروع ہو گئے۔بھارت میں قائم دونوں ریفائنریوں نے 24/7 کام کرتے ہوئے خام تیل کی بھاری بھرکم تعداد کو صاف کرنے کے بعد اپنی ضرورت سے زیادہ تیل خصوصاََ ڈیزل ’’میڈ اِن انڈیا‘‘ قرار دے کر یورپ کو بیچنا شر وع کردیا۔

امریکہ کا خیال تھا کہ روس پر لگائی گئی پابندیوں کے بعد اس کے یورپی ’’اتحادی‘‘ اپنی ضرورت کا تیل اب امریکی کمپنیوں سے خریدا کریں گے۔ یوں بھارت نے نہ صرف روس پر لگائی پابندیوں کو سبوتاژ کیا بلکہ امریکی تیل کمپنیوں کو بھی ممکنہ منافع سے محروم کرنا شروع کر دیا۔ میری دانست میں ٹرمپ کے بھارت پر غصے کی اصل وجہ یہ ہے۔ بظاہر جو حقائق میں نے بیان کئے ہیں وہ 1971ء کی یاد دلانے کے لئے کافی نہیں۔ البتہ میں شارٹ کٹ سے کام لیتے ہوئے عوام کو یاد دلانے پر مجبور ہوں کہ انڈیا کے روس سے دفاعی معاہدے سے چند ماہ قبل پاکستان نے امریکہ کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر ہنری کیسنجر کے چین کے ’’خفیہ دورے‘‘ کا بندوبست کیا تھا۔ صدر نکسن کے دور میں امریکہ -چین تعلقات کو گرم جوش بنانے میں کیسنجر کے پاکستان کی بدولت ہوئے وعدے نے اہم کردار ادا کیا۔ ہمیں گماں تھا کہ امریکہ کو چین کے قریب لانے میں کلیدی کردار ادا کرنے کی وجہ سے نکسن حکومت بھارت کو بنگلہ دیش بنانے سے روکنے کی کوشش کرے گی۔ کیسنجر اور نکسن نے اس ضمن میں زبانی کلامی کردار یقینا ادا کیا۔

لیکن بقول نصرت جاوید، ہونی ہو کر رہی۔ 2025 میں ایک بار پھر روس اور بھارت ایک ہوئے نظر آرہے ہیں۔ دوسری جانب چین اور امریکہ پاکستان کے قریب ہیں۔ تاریخ اگر خود کو دہراتی ہے تو پاکستان میں مودی سرکار ایک بار پھر 1971 مسلط کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ خاص طورپر ان دنوں جب مودی اپنے عوام کو یہ سمجھانے میں قطعاََ ناکام ہو رہا ہے کہ اگر وہ جنگ ’’جیت‘‘ رہا تھا اور جنگ بندی کے لئے ٹرمپ کو بھی خاطر میں نہیں لارہا تھا تو اس نے 6 مئی سے 10 مئی تک جاری رہنے والی جنگ بالآخر بند کیوں کی تھی؟

Back to top button