ونڈر بوائے کے خوف نے شہباز شریف کو کس فیصلے پر مجبور کیا؟

 

 

 

 

معروف تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں قومی حکومت کی تشکیل اور ایک ‘ونڈر بوائے‘ کے روشن مستقبل سے متعلق بڑھتی ہوئی افواہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا تھا، چنانچہ انہوں نے اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے سیاسی عمل شروع کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔

 

نجم سیٹھی نے یہ بات ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انکا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر بننا خوش آئند ہے کیونکہ اس سے پارلیمانی عمل میں جمود ٹوٹے گا اور وہ معاملات جو تحریک انصاف کے کمیٹیوں سے واک آؤٹ کے باعث رکے ہوئے تھے، اب آگے بڑھ سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی بالاخر دو برس بعد یہی نتیجہ نکالا ہے کہ سیاست کرنے اور راستہ نکالنے کے لیے سب سے بہترین پلیٹ فارم پارلیمنٹ ہی ہے. انکے مطابق محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد تحریک انصاف قومی اسمبلی سے مکمل واک آؤٹ کی پوزیشن میں نہیں رہی اور اب یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ وہ پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آ جائے، جہاں الیکشن کمیشن سمیت کئی اہم قومی ایشوز پر بات چیت ہو سکتی ہے۔

 

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی جانب سے 8 فروری کے مجوزہ احتجاجی پلان کے پیچھے بھی ایک خاموش گیم چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پیپلز پارٹی پر حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مختلف معاملات پر دباؤ تھا جن میں این ایف سی ایوارڈ، لوکل گورنمنٹ اور پانی کے مسائل شامل ہیں۔ اسی دباؤ کے ردعمل میں پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے ساتھ مل کر اپنے سیاسی مسائل حل کرنے کی کوشش کی، تاہم بعد میں انہیں فیصلہ ساز حلقوں کی جانب سے یہ واضح پیغام ملا کہ ہی ٹی آئی کے ساتھ معاملات کو زیادہ آگے نہ بڑھایا جائے، جس کے بعد پیپلز پارٹی نے یوٹرن لے لیا۔

 

نجم سیٹھی نے کہا کہ اب یہی دباؤ مسلم لیگ (ن) پر بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ تین ماہ سے سیاسی حلقوں میں یہ باتیں گردش کر رہی تھیں کہ شہباز شریف حکومت کی ناقص کارکردگی کے پیش نظر ایک قومی حکومت بنانے کی تجویز ہے اور ایک ’ونڈر بوائے‘ لایا جا سکتا ہے، یاد رہے کہ معروف صحافی سہیل وڑائچ نے اپنی ایک حالیہ تحریر میں دعوی کیا تھا کہ اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں ایک ایسے ’ونڈر بوائے‘ کے حوالے سے سنجیدہ گفتگو ہو رہی ہے جسے مستقبل قریب میں قومی سیاست میں نمایاں کردار دیا جا سکتا ہے۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق ان حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ معاشی اور انتظامی چیلنجز سے نمٹنے میں مطلوبہ کارکردگی دکھانے میں ناکام ہو رہا ہے، جسکے باعث ایک ’قومی حکومت‘ یا ٹیکنوکریٹس پر مشتمل متبادل انتظامی ماڈل لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ سینئیر صحافی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس مجوزہ سیٹ اپ میں موجودہ حکومت کے چند اہم وزرا کو برقرار رکھتے ہوئے غیر سیاسی ماہرین کو کابینہ کا حصہ بنایا جا سکتا ہے، جبکہ اس تمام عمل کا مقصد سیاسی عدم استحکام کم کر کے معیشت کو سہارا دینا ہو گا۔

 

نجم سیٹھی کے مطابق یہ افواہیں بھی گردش میں تھیں کہ محمد اورنگزیب کی جگہ ایک نیا وزیر خزانہ لایا جائے گا، اور وفاقی کابینہ میں ٹیکنوکریٹس شامل کیے جائیں گے، فیصلہ ساز حلقوں کی جانب سے یہ گلہ کیا جا رہا تھا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری نہیں آ رہی، یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا تھا کہ سرمایہ کاری کے راستے میں ہماری اپنی بیوروکریسی رکاوٹیں ڈال رہی ہے اور حکومتی ڈیلیوری متاثر ہے۔ ان افواہوں کی وجہ سے حکومت دباؤ میں تھی۔

 

نجم سیٹھی کے مطابق یہ تمام باتیں دراصل حکومت کو پریشر میں لانے کا ایک طریقہ تھیں، کیونکہ نہ تو کوئی حکومت تبدیل ہونے جا رہی تھی اور نہ ہی وزیراعظم شہباز شریف کی جگہ کوئی نیا چہرہ لایا جا رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی دباؤ کو کم کرنے کے لیے اب اپوزیشن لیڈر کی تقرری کی گئی ہے اور محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ شہباز شریف نے یہ فیصلہ کیسے کیا، کیونکہ سپیکر قومی اسمبکی تو وزیراعظم کی مشاورت کے بغیر ایسا قدم نہیں اٹھا سکتے۔ نجم سیٹھی کے مطابق اس کی دو ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں: یا تو وزیراعظم نے اپنے بڑے بھائی نواز شریف سے مشاورت کی، یا پھر ’بڑے صاحب‘ سے بات کی گئی ہو گی، یا ممکن ہے دونوں سے مشورہ کیا گیا ہو۔

اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر بننے سے پی ٹی آئی کو فائدہ ہو گا یا نقصان؟

نجم سیٹھی نے کہا کہ ممکن ہے نواز شریف اس فیصلے سے خوش نہ ہوں کیونکہ وہ ماضی میں محمود خان اچکزئی پر سخت الزامات لگا چکے ہیں، تاہم امکان ہے کہ انہیں یہ یقین دہانی کرائی گئی ہو کہ محمود اچکزئی کو قائد حزب اختلاف بنانے کے بعد اپوزیشن کو قابو میں رکھا جائے گا، 8 فروری کا مجوزہ احتجاج ملتوی کرایا جائے گا اور اگر کوئی حکومت مخالف تحریک چلانے کی کوشش کی گئی تو اپوزیشن لیڈر کی تقرری کو چیلنج بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غالب امکان یہی ہے کہ محمود خان اچکزئی سے پہلے ہی بات کر لی گئی ہو کہ وہ 8 فروری 2026 کو احتجاج کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر بات چیت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اختلافی معاملات حکومتی اور اپوزیشن اراکین پر مشتمل کمیٹیوں میں حل ہونا شروع ہو جائیں تو سیاسی تعاون کی فضا بن سکتی ہے۔

Back to top button