جنرل باجوہ نے لمز یونیورسٹی میں طلبہ سے کیا باتیں کیں؟

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حال ہی میں لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز یعنی لمز کے طلبا اور اساتذہ سے ساڑھے سات گھنٹے کی ایک تفصیلی نشست کے بعد خطاب بھی کیا اور اس دوران

فوج کے کردار کے حوالے سے کیے جانے والے سوالات کے بھی تفصیل سے جواب دئیے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق آرمی چیف کا یہ پروگرام تو محض دو گھنٹے کا تھا مگر وہ کہتے ہیں ناں کہ اگر بات نکلی تو پھر دور تلک جائے گی۔ ایسا ہی کچھ لمز میں آرمی چیف کے اس خطاب کے ساتھ ہوا۔ انھیں طلبا کے تند و تیز سوالات کے لیے ساڑھے سات گھنٹے رکنا پڑا۔ یوں دن 12 بجے شروع ہونے والا یہ پروگرام شام ساڑھے سات بجے اختتام پذیر ہوا۔

بی بی سی اردو نے اس پروگرام میں شریک ہونے والے متعدد طلبا اور اساتذہ سے تفصیل سے بات کی اور ان کا اس پروگرام سے پہلے اور بعد کا تاثر جاننے کی کوشش کی۔چونکہ تمام شرکا ہال میں ہونے والی باتیں باہر نہ بتانے کے پابند تھے، لہذا رپورٹ میں ان طلبا اور اساتذہ میں سے کسی کی بھی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی جنرل باجوہ کی تقریر کا متن بیان کیا گیا ہے۔ جن طلبا نے بات کی ان کی اکثریت کا مؤقف یہ ہے کہ آرمی چیف نے تسلی سے ان کے سوالات سنے اور انتہائی تحمل سے ان کے جواب دیے۔ اگر پھر بھی طلبا کی تسلی نہیں ہوئی تو انھوں نے مزید ضمنی سوالات بھی سنے جو عام طور پر ایسے پروگرامز میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ شریک طلبا کے مطابق فوج سے متعلق جتنے اعتراضات بھی اٹھائے جاتے ہیں ان پر کھل کر گفتگو ہوئی اور کسی نے کسی کو نہ تو ٹوکا اور نہ ہی سخت سوالات پوچھنے پر انتظامیہ کی طرف سے بھی کوئی سرزنش کی گئی۔

ایک طالبعلم نے بتایا کہ ’جب وہ اس پروگرام میں شریک ہونے کے لیے جا رہے تھے تو وہ یہ پلان کر کے گئے تھے کہ اگر آج فوج کے سربراہ نے ان کا جواب نہیں دیا تو وہ نہ صرف احتجاج کریں گے بلکہ نعرہ بازی بھی کریں گے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’میری توقعات کے برعکس میں نے جو کچھ بھی پوچھا اسے سنا گیا اور اس کا جواب دیا گیا۔‘ تاہم وہ کہتے ہیں کہ وہ جنرل باجوہ جانب سے دیے جانے والے متعدد جوابات سے متفق نہیں، مگر پھر بھی وہ یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ کم از کم آرمی چیف نے اختلافی نکتہ نظر کو سنا تو سہی اور پراپرٹی کے کاروبار میں جرنیلوں کی دلچسپی تک کے موضوع پر کھل کر بات کی۔

بلوچستان کے ایک طالبعلم کا کہنا ہے کہ ان کا خیال تھا کہ ان کے سوالات کو ’فلٹر‘ کر دیا جائے گا مگر آرمی چیف نے ان کے خطے سے متعلق پوچھے گئے سوالات کا تفصیلی جواب دیا اور یہ تسلی بھی کرائی کہ ان کے خطے کے بارے میں ماضی کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ شعبہ قانون کے ایک طالبعلم کے مطابق ’آرمی چیف نے سوالات کے جوابات تو ضرور دیے مگر متعدد بار ’ان کی جانب سے ’سول اتنظامیہ ان معاملات میں بااختیار ہے‘، جیسے جوابات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ درست تصویر پیش نہیں کر رہے تھے۔‘ ان کے ایک دوسرے ساتھی نے کہا کہ ’میرا پہلے یہ تاثر بن گیا تھا کہ ملک میں ہر چیز کے پیچھے فوج ہے مگر جب سے آرمی چیف کو سنا تو سوچ میں 180 ڈگری کی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔‘ اس طالبعلم کے مطابق اب جب وہ کیمپس میں دیگر طلبا کو اپنے تبدیل شدہ خیالات کے بارے میں بتاتے ہیں تو وہ خود بھی حیران رہ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق جنرل قمر باجوہ نے ان کا مختلف امور پر ابہام دور کر دیا ہے۔

ایک طالبعلم کے مطابق ’میرا فوج بارے تاثر کوئی خاص نہیں بدلا مگر میرے لیے جو نئی چیز تھی وہ یہ تھی کہ آرمی چیف نے ہر طرح کے سوالات کا سامنا کیا اور وہ اس بات سے بھی آگاہ تھے کہ فوج پر کس قسم کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔‘ ایک طالبعلم نے کہا کہ وہ سوال و جواب کے سیشن سے تو مطمئن ہیں مگر ان کے ذہن میں یہی سوال بار بار آ رہا تھا کہ ’کیا آرمی چیف کو زیب دیتا ہے کہ وہ اس طرح فوج کا تاثر درست کرنے کی کوشش کریں۔‘

اور پھر وہ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ ’آخر اس کے پیچھے مقاصد کیا ہیں اور آرمی چیف کا تعلیمی ادارے میں کیا کام ہے۔‘ شعبہ سیاسیات اور اکنامکس کے ایک طالبعلم نے کہا کہ ’یہ صاف دکھائی دے رہا تھا کہ فوج کا سربراہ تیاری کر کے ایک ایسی یونیورسٹی آیا جہاں اکثریت فوج کے ’غیرقانونی اور غیر آئینی‘ اقدامات پر کھل کر بات کرتی ہے۔‘ ان کے مطابق اس صورت حال کو ذہن میں رکھ کر آرمی چیف نے پہلے ہی اپنے خطاب میں بہت سے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق ایک گھنٹے کے خطاب میں آرمی چیف نے خود ہی بتایا کہ انھیں معلوم ہے کہ فوج کے بارے میں کیا کہا جاتا ہے کہ وہ ’کالی ویگو‘ میں اختلاف رائے رکھنے والوں کو اغوا کر کے لے جاتی ہے اور بعض صحافیوں پر حملوں میں بھی ملوث ہے۔

’انھوں نے یہاں تک بھی کہہ دیا کہ کچھ لوگ حکومت، ججز اور پشاور میں 2014 میں ایک سکول میں ہونے والے حملے کے پیچھے بھی فوج کے کردار پر بات کرتے ہیں۔‘

ایک طالبہ نے کہا کہ ان کے فوج کے بارے میں تاثرات بالکل نہیں بدلے اور انھیں یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ ایک ایسے افسر سے بات چیت کیسے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ جبکہ ڈائیلاگ خود ایک ہمددری حاصل کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر فوج کا کوئی صحیح معنوں میں سولجر نمائندگی کر رہا ہوتا تو شاید ان کے خیالات میں فرق آتا۔ اور وہ بھی ایسا تب ممکن ہوتا جب وہ لمز کو پروگرام سے بہت پہلے ہی سے ایک چھوٹے فوجی کیمپ میں نہ بدل دیتا۔

بی بی سی کو لمز یونیورسٹی کے چند طلبا نے آرمی چیف کے دورہ کے موقع پر کیمپس میں سکیورٹی سے متعلق غیر معمولی انتطامات کے متعلق بھی بتایا۔ ان کے مطابق ’ان کی کینٹین اور کھانے پینے کے ڈھابے بند کر دیے گئے تھے جبکہ ہر طرف عام کپڑوں میں ایجنسیوں کے اہلکار پھر رہے تھے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ان کی کلاسز بھی جاری تھیں، جس سے طلبا میں خوف و ہراس بھی پیدا ہوا۔‘ یونیورسٹی کی ایک پروفیسر نے بتایا کہ دیگر صوبوں سے آئے کچھ طلبا نے یہ شکایت بھی کی فوجی سربراہ کی پالیسیوں سے ان کے اختلافات ہیں اور ان کے یونیورسٹی میں مہمان بن کر آنے سے ان کے خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’فوج نے خود اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ اب یونیورسٹیوں میں آکر نوجوان نسل کو اپنا مؤقف بتانا چاہتے ہیں۔‘

کچھ طلبا نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ آرمی چیف کے پروگرام کے لیے سیلیکشن کی گئی اور سب کو اس پروگرام میں جانے کا موقع نہیں دیا گیا۔ ایک طالبہ نے بتایا کہ متعدد ایسے شرکا تھے جن کے خاندان میں کوئی نہ کوئی فوجی افسر شامل تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ’یہ سب تصدیق کرنے کے لیے طلبا سے دو طرح کے فارمز پُر کرائے گئے اور پھر آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے گھروں تک جا کر تصدیق بھی کی کہ کہیں وہ طالبعلم کس قسم کے خیالات کا حامل ہے۔ کہیں وہ سیاست میں زیادہ ملوث تو نہیں ہے یا سماجی کارکن تو نہیں ہے۔‘ ایک طالبعلم کے مطابق جس طرح دو فارم بھیجے گیے اس سے پیٹرن کا پتا چلا ہے۔ انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ’کچھ طلبا کو فون کر کے ڈرایا دھمکایا بھی گیا کہ وہ پروگرام میں شریک نہ ہوں۔‘

What did General Bajwa say the students at Limz University?

Back to top button