اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دے کر پی ٹی آئی والے کیا کرنا چاہتے ہیں؟

تحریکِ انصاف نے اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو بچانے، عوامی توجہ حاصل کرنے اور سیاسی میدان میں دوبارہ جگہ بنانے کے لیے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنوں کا نیا محاذ کھول دیا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کی تمام کوششوں کے باوجود حکومت عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینے سے انکاری ہے۔ دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجی دھرنوں اور اجتماعات کو سنگین سیکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد میں حالیہ خودکش حملوں کے پس منظر میں ایسے اجتماعات کسی بھی خطرناک صورتحال کو جنم دے سکتے ہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق فی الحال پی ٹی آئی قیادت کو مذاکرات کے ذریعے اس مقام پر اکٹھ سے روکا جا رہا ہے، تاہم اگر صورتِ حال برقرار رہی اور عمرانڈو اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو سخت اقدام ناگزیر ہوگا۔
دوسری جانب گزشتہ دنوں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں کی جانب سے اڈیالہ جیل کے باہر دئیے گئے دھرنے میں عدم شرکت کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بننے والے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مفاہمت پسندی چھوڑ کر ایک بار پھر مزاحمتی چوغہ پہن لیا ہے۔ پرٹی کارکنان کی سخت تنقید کے بعد سہیل آفریدی مفاہمت سے ہٹ کر دوبارہ مزاحمتی سیاست کی جانب لوٹ آئے ہیں ۔ انہوں نے نہ صرف 27 نومبر کی رات اڈیالہ جیل کے باہر گزاری بلکہ اگلے ہی روز عمران خان سے ملاقات کی درخواست لے کر اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے، مگر تمام تر کوششوں کے باوجود انہیں اپنے قائد تک رسائی نہ مل سکی۔ اس صورتحال نے ان کی سیاسی حیثیت اور اختیارات کے دائرے پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سیاسی مبصرین اس امر پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت اصل میں نہ پنجاب حکومت کے اختیار میں ہے اور نہ جیل انتظامیہ اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے۔ عمران خان سے ملاقاتوں کے حوالے سے فیصلہ کن اختیار فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی فوجی اسٹیبلشمنٹ ہے جس پر سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ کا حلف اٹھانے کے فوراً بعد اپنے پہلے خطاب میں نہ صرف شدید تنقید کی تھی بلکہ صوبے میں ممکنہ فوجی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے طالبان کے حق میں نرم مؤقف بھی اختیار کیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آج کی صورتحال سہیل آفریدی کے لیے ایک عملی سبق ہے کہ صوبائی حکومت کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہونے کے باوجود وہ اپنی پارٹی قیادت تک رسائی کے لیے بھی اسٹیبلشمنٹ کی منظوری کے محتاج ہیں، اور یہی حقیقت ان کی سیاسی حدود کا عملی تعین کرتی ہے۔ مبصرین کے مطابق اسٹیبلشمنٹ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو باور کروا رہی ہے کہ تمام تر کوششوں اور منت سماجت کے باوجود وہ اپنے ہی قائد سے ملاقات کرنے میں ناکام ہیں اور یہی ان کی اصل ’’اوقات‘‘ ہے۔
خیال رہے کہ عمران خان کی فیملی اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کے بعد پارٹی نے ایک نئی احتجاجی حکمتِ عملی اختیار کر لی ہے۔ اس سلسلے میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہر جمعرات کو اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج اور دھرنا دیا کریں گے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ دھرنے عمران خان تک رسائی نہ دینے، سیاسی دباؤ اور مبینہ انتقامی کارروائیوں کے خلاف مزاحمت کی علامت ہیں۔ دوسری جانب حکومتی حلقے اس نئی حکمت عملی کو ’’سیاسی شعبدہ بازی‘‘، ’’سیاسی تھیٹر‘‘ اور محض ’’توجہ حاصل کرنے کی کوشش‘‘ قرار دے رہے ہیں، جن کے مطابق یہ اقدامات اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کا طریقہ ہیں۔ تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی اس وقت دہشتگردی کی ایک نئی لہر کی زد میں ہیں اور شہر میں ہونے والے حالیہ خودکش حملوں نے سیکیورٹی صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔ اڈیالہ جیل جسے پہلے ہی حساس ترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے، کسی بھی ممکنہ حملے کا ہدف بن سکتا ہے، اور عمران خان جیسی ہائی ویلیو شخصیت کی موجودگی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجی اجتماعات اور دھرنے سنگین خطرات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
تاہم تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں کے مطابق اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے کارکنوں کے حوصلے بلند رکھنے، پارٹی بیانیہ زندہ رکھنے اور یہ تاثر قائم کرنے کے لیے ضروری ہیں کہ جیل میں عمران خان کو تنہا نہیں چھوڑا جا رہا۔ تاہم مبصرین کے نزدیک یہ حکمت عملی ایک ایسے سیاسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش ہے جسے پارٹی کسی بڑی سیاسی کامیابی کے بغیر پُر نہیں کر پا رہی۔ جلسوں اور تنظیمی سرگرمیوں میں کمی کے باعث پی ٹی آئی کو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے ایسے اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں، لیکن موجودہ سیکیورٹی اور قانونی صورتحال میں یہ حکمت عملی زیادہ دیر تک برقرار رہنے کا امکان کم ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کی نئی احتجاجی حکمت عملی کے باوجود حکومت کا دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ حکومت دھرنوں یا احتجاج کی وجہ سے دباؤ میں نہیں آئے گی، عمران خان کسی عام قیدی کی طرح صرف جیل قوانین کے مطابق ملاقاتیں کر سکتے ہیں لیکن انھیں احتجاج، ہجوم یا سیاسی دباؤ کے ذریعے خصوصی مراعات نہیں دی جا سکتیں۔ ملک کے موجودہ حالات میں ریاست کی اولین ترجیح سیکیورٹی ہے۔ کسی شخص یا جماعت کے دباؤ میں آ کر قوانین سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔
عمران خان کی موت کی افواہ نے اچانک زور کیوں پکڑ لیا؟
مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کی نئی احتجاجی حکمت عملی سے ملک کی موجودہ سیاسی کشمکش عوامی نمائندگی اور طاقت کے اصل مراکز کے درمیان تناؤ کی ایک نئی شکل اختیار کر چکی ہے۔ تحریک انصاف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے، مگر اسٹیبلشمنٹ کو اب بھی اہم فیصلوں کا محور و مرکز قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس دوران سہیل آفریدی کی تمام تر کوششوں کے باوجود عمران خان سے ملاقات میں ناکامی نے پارٹی کے اندر اور باہر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ حکومت، عدلیہ یا اسٹیبلشمنٹ، پاکستان میں حقیقی اختیار کس کے پاس ہے۔ مبصرین کے بقول پی ٹی آئی نے فوجی اسٹیبلشمنٹ یا حکومت سے مفاہمت کی بجائے نئی احتجاجی حکمت عملی تو اپنا لی ہے تاہم آنے والے چند ہفتے یہ واضح کریں گے کہ اڈیالہ جیل کے باہر جاری دھرنے تحریک انصاف کو سیاسی فائدہ پہنچاتے ہیں یا مزید مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
