عمران خان کا ہاکی کے میدان میں کرکٹ کھیلنے کا کیا انجام نکلا؟

26 نومبر کو اسلام آباد میں عمران خان کی جانب سے دی گئی فائنل احتجاج کی کال ناکام ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کپتان نے ہاکی کے میدان میں کرکٹ کھیلنے کا فیصلہ کیا جو غلط ثابت ہوا اور ان کی تمام ٹیم کو جوتیاں اٹھا کر میدان سے فرار ہونا پڑا۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف صحافی مجیب الرحمن شامی نے عمران خان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ خدارا کرکٹ کے میدان میں ہاکی مت کھیلیے‘ کرکٹ کے قواعد کے مطابق کرکٹ کھیلیے تاکہ آپکی بجائے دشمنوں کے چھکے چھوٹیں۔

عمران کی زندگی کا احاطہ کرتے ہوئے مجیب الرحمن شامی بتاتے ہیں کہ کرکٹ کے میدان میں جھنڈے گاڑنے کے بعد عمران خان نے شوکت خانم میموریل ہسپتال کی بنیاد ڈالی‘ ان کی والدہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہو کر لقمۂ اجل بن گئی تھیں۔ انہوں نے اس غم کو ”غمِ جاناں‘‘ بنا لیا۔ ان کی یاد میں ایسا ہسپتال تعمیرکرنے کی ٹھانی کہ جہاں کینسر کے بے وسیلہ مرضوں کا مفت علاج ہو سکے۔ ایسے ہسپتال کی تعمیر اور پھر اس کے لیے وسائل کی مسلسل فراہمی کسی طور آسان کام نہیں تھا لیکن ناقابلِ یقین قوتِ ارادی کے مالک عمران نے اسے کر دکھایا۔ انہوں نے اس تعمیر کو ایک تحریک کی صورت دے دی اور پوری پاکستانی قوم دیوانہ وار ان کے ساتھ جڑتی چلی گئی۔ بچوں‘ جوانوں‘ گھریلو خواتین تک نے دل کھول کر ان سے تعاون کیا۔ ایک ہسپتال تعمیر ہوا‘ دوسرے کی بنیاد رکھی گئی‘ اور تیسرا بھی تعمیر ہونا شروع ہو گیا۔

شامی صاحب بتاتے ہیں کہ جب عمران خان کرکٹر تھے تو پوری قوم کے لیے کھیلتے تھے۔ ہر پاکستانی ان پر فدا تھا۔ سیاسی‘ مسلکی اور لسانی وابستگیوں سے اوپر اٹھ کر‘ وہ سب کے تھے اور سب ان کے تھے۔ انہوں نے پوری قوم کو اپنے ساتھ جوڑ لیا تھا۔ شوکت خانم ہسپتال نے اس رفاقت کو مزید گہرا کر دیا۔ ہسپتال سب کا تھا اور سب کے لیے تھا۔ یہاں آنے والے مریضوں کے پاس وسائل ہوں یا نہ ہوں‘ سب کا ایک جیسا علاج ہوتا تھا‘ سب پر یکساں توجہ کی جاتی تھی‘ اس ہسپتال نے عمران خان اور اہلِ پاکستان کے رشتے کو مضبوط تر کر دیا۔

مجیب الرحمن شامی کہتے ہیں کہ عمران خان نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا تو ان سے توقع تھی کہ وہ پاکستانی قوم کو جوڑیں گے‘ نئی سیاست کی بنیاد رکھیں گے‘ ان کے مداح ان میں قائداعظمؒ کی جھلک دیکھ اور دکھا رہے تھے۔ اوّل اوّل انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا‘ تحریک انصاف کو ایک بڑی جماعت کے طور پر اپنا آپ منوانے میں کئی برس لگ گئے۔ عمران خان نے ہمت نہ ہاری اور بالآخر وہ ایک بڑے اور مقبول سیاسی رہنما کے طور پر اُبھر آئے‘ ان کی سیاست جن ادوار سے گزری ان کی تفصیل کا یہ محل نہیں‘ اپوزیشن لیڈرکے طور پر انہوں نے اپنے آپ کو منوایا اور وزارتِ عظمیٰ کا منصب بھی ان کی جھولی میں آن گرا۔

شامی صاحب کے مطابق اقتدار عمران کے گھر سے رخصت ہونے خے باوجود ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ لیکن اب وہ سب کے نہیں تھے‘ پاکستانی قوم کو ان کی سیاست تقسیم کر رہی تھی اور ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر رہی تھی‘ پولرائزیشن میں اضافہ ہو رہا تھا‘ پاکستانی ہی پاکستانیوں کے جانی دشمن بن گئے تھے۔ اب عمران خان جیل میں ہیں لیکن ان کی سیاست ہنگامے اُٹھا رہی ہے‘ مارو یا مر جاؤ کے نعرے لگا رہی ہے۔ گزشتہ سال 9 مئی 2023 کو جو کچھ ہوا اور چند روز پہلے اسلام آباد میںجو واقعات پیش آئے‘ انہوں نے قوم کو اُلجھا دیا ہے۔ خانہ جنگی کا سماں ہے۔ تقسیم اور تفریق کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔

عمران خان نے اپنی رہائی کے لیے اپنے کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے اور وہاں دھرنا دینے کا جو حکم دیا تھا‘ اس کے نتیجے میں جو کچھ ہوا‘ اس نے تلخیاں اور دوریاں بڑھا دی ہیں۔ سیاست کے خون آلود چہرے نے ہمارے مستقبل کو گہنا دیا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ کس نے کس کو نشانہ بنایا‘ کس نے کس کی جان لی‘ اور کس نے کس پر گولیاں چلائیں‘ تقسیم کی لہر سیاست کو شدید متاثر کر چکی ہے۔

مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ عمران خان کی تین نمبر زوجہ بشریٰ بی بی کی دخل اندازی نے پارٹی معاملات کو سنبھالا نہیں‘ انہیں اُلجھایا بلکہ بگاڑا ہے۔ خان کے مخالف کیا سوچتے‘ کیا کرتے اور کیا فائدہ یا نقصان اٹھاتے ہیں‘ میں خان کی توجہ ان الفاظ کی طرف دلانے کی جسارت کر رہا ہوں جو انہوں نے 44 برس پہلے میرے سامنے ایک انٹرویو میں ادا کیے تھے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ ہماری اجتماعی زندگی کو آج شدت سے اخلاقی اقدار کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ ہر سیاستدان دوسرے کو ان کا سبق دے رہا ہے لیکن خود عمل پیرا ہونے کو تیار نہیں ہے۔ افسوس کہ اج بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے اور عمران اس کے حصہ دار ہیں۔ جھوٹ کا مقابلہ جھوٹ سے‘ مبالغے کا مبالغے سے‘ فیک نیوز کا مقابلہ فیک نیوز سے کرنا سکہ رائج الوقت بن چکا ہے۔ تحریک انصاف کے پروپیگنڈا سیل تو دنیا بھر میں سرگرم ہیں اور اپنے جھوٹے بیانیے کو بڑھاوا دینے میں ہر حد سے گزر رہے ہیں۔ ان کے مخالف بھی لنگر لنگوٹ کس کر اسی اکھاڑے میں ہیں۔ مزید یہ کہ اگر خان نے کرکٹ پاکستان کے لیے کھیلی تھی تو سیاست پاکستان کے لیے کیوں نہیں کر سکتے؟ جناب خان صاحب‘ برائے مہربانی اب بھی اپنی محاذ آرائی اور تقسیم در تقسیم کی سیاست پر نظرثانی کر لیجیے۔ اپنے مخالفوں کی طرف نہ دیکھیے‘ ان سے رہنمائی حاصل نہ کیجیے‘ ان کی پیروی نہ کیجیے‘ اپنے طور پر پیش قدمی کر گزریے۔ الزامی اور جذباتی سیاست کو ترک کر ڈالیے۔ قوم کو جوڑیے‘ پارلیمانی سیاست کے اندر سے اپنا راستہ نکالیے۔ اپنے کارکنوں کے حال پر رحم کھائیے‘ ان کے ووٹ کو طاقت بنائیے‘ کرکٹ کے میدان میں ہاکی نہ کھیلیے‘ کرکٹ کے قواعد کے مطابق کرکٹ کھیلیے اور اپنے مخالفین کے چھکے چھڑا دیجیے۔

Back to top button