پارلیمنٹ کو ربڑ سٹیمپ بنانے والے وزیراعظم کا کیا انجام ہوتا ہے؟

جیو نیوز سے وابستہ سینیئر اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کو ڈھکوسلہ قرار دینے والے وزیر دفاع خواجہ آصف کو سابق آئی جی موٹروے پولیس ذوالفقار احمد چیمہ کی آپ بیتی پڑھنی چاہیے جس میں بتایا گیا ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ارکان اسمبلی خود ہیں جو پارلیمنٹ کو تو با اختیار نہ بنا سکے لیکن اپنے حلقے کے ایس پی اور ڈی سی کے اختیارات استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔
روزنامہ جنگ میں اپنی تحریر میں حامد میر کہتے ہیں کہ ذوالفقار چیمہ بھی خواجہ آصف کی طرح اولڈ راوین ہیں ۔ چیمہ صاحب نے کسی زمانے میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کو اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کا صدر بنوایا اور اُن کی کافی قربت حاصل کی ۔ اس قربت کے نتیجے میں انہیں کچھ ایسے تاریخی واقعات کا علم ہو گیا جو انہوں نے بڑی احتیاط سے اپنی خود نوشت کی زینت بنا دئیے۔ جسٹس نسیم حسن شاہ 1993 ء میں نواز شریف کی حکومت کو بحال کرنے کا بڑا کریڈٹ لیا کرتے تھے۔ چیمہ صاحب لکھتے ہیں کہ اس تاریخی فیصلے سے چند دن قبل چیف جسٹس نے اُسوقت کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ کو فون کیا اور اُن سے بات کرنا چاہی ۔ جنرل وحید کاکڑ نے چیف جسٹس کے ساتھ گفتگو سے گریز کیا کیونکہ وہ ایک پروفیشنل سولجر تھے ۔ چیف جسٹس نے بار بار آرمی ہاؤس فون کئے تو آرمی چیف نے اپنے سٹاف آفسیر سے کہا کہ اُن سے پوچھو وہ کس سلسلے میں بات کرنا چاہتے ہیں ؟
چیف جسٹس نسیم شاہ نے کہا کہ ہم نے کل حکومت کو بحال کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ سنانا ہے اور اس سلسلے میں آرمی چیف سے پوچھنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں ؟ آرمی چیف نے یہ پیغام سُن کر چیف جسٹس کو جوابی پیغام بھیجا کہ ہم آپکے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرینگے آپ اپنی مرضی سے فیصلہ کر لیں ۔ اگلے دن نسیم حسن شاہ نے نواز شریف حکومت بحال کر دی لیکن صدر غلام اسحاق خان کو چین نہ آیا ۔ انہوں نے بحال شدہ حکومت کو بھی پسپائی پر مجبور کر دیا ۔ صدر اور وزیر اعظم کی اس لڑائی کو 18 ویں آئینی ترمیم نے ختم کیا، لیکن اس ترمیم کا اصل مقصد تو اختیارات کو بلدیاتی حکومتوں تک منتقل کرنا تھا۔ یہ کام آج تک نہیں ہوا اور بلدیاتی اداروں کے اختیارات پر صوبائی حکومتوں کا ناجائز قبضہ ہے جو سندھ اور پنجاب میں سب کو نظر آ رہا ہے۔
حامد میر کے بقول چیمہ صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب وہ وزیر اعظم نواز شریف کے پرسنل سٹاف آفیسر تھے تو سینیٹر سیف الرحمان کو احتساب بیورو کا سربراہ بنایا گیا ۔ وزیر اعظم نے چیمہ صاحب اور ایک پولیس افسر پرویز راٹھور سے کرپٹ افسران کی فہرستیں بنوائیں لیکن سیف الرحمان نے اپنی مرضی کی ایک فہرست بنا کر کارروائیاں شروع کر دیں۔ذوالفقار چیمہ وزیر اعظم کی مختلف ججوں سے ملاقاتیں کراتے جو انہیں احتساب میں انصاف کی اہمیت سمجھاتے تھے۔ ایسی ہی ایک ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے جسٹس عبد الحفیظ چیمہ سے پوچھا کہ کوئی ایسا طریقہ بتائیں کہ پرائم منسٹر اہم فیصلوں کیلئے پارلیمنٹ کی منظوری کا محتاج نہ رہے ۔ اس پر جج صاحب نے کہا ’’نہیں میاں صاحب، آپ پارلیمنٹ اور آئین کو بائی پاس نہیں کر سکتے ۔‘‘
ایک بار ذوالفقار احمد چیمہ نے وزیر اعظم نواز شریف کو کراچی پولیس کے دو شہید افسروں کے گھر جاکر تعزیت کرنے پر راضی کر لیا تاکہ حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کو پولیس افسران پر حملوں سے روکا جا سکے ۔ ایم کیو ایم نے وزیر اعلیٰ سندھ لیاقت جتوئی پر دباؤ ڈال کر وزیر اعظم کو شہید افسران کے گھر نہ جانے پر مجبور کر دیا۔ لیکن چیمہ صاحب نے ہمت نہ ہاری اور شہید افسران کے اہل خانہ کو گورنر ہاؤس بلا کر وہاں اُنکی وزیر اعظم سے ملاقات کروا دی۔ ایک شہید ڈی ایس پی کی بیوہ اور ایک شہید انسپکٹر کی بیٹی نے جب ایم کیو ایم والوں کے ظلم کے واقعات سنائے تو وزیر اعظم آبدیدہ ہو گئے ۔ انہوں نے آئی جی کو طلب کر لیا ۔ آئی جی آفتاب نبی حاضر ہو گئے جو ایم کیو ایم کے ایک رکن قومی اسمبلی کے بھائی تھے ۔
وزیر اعظم نواز شریف نے آئی جی سے پوچھا کہ اس بیوہ کا شوہر اور اس بیٹی کا باپ کس نے قتل کیا؟ آئی جی نے لڑکھڑاتی زبان میں کہا کہ ان پولیس افسران کو ایم کیوایم کے عسکری ونگ نے قتل کیا۔ وزیر اعظم نے پوچھا کس نے قتل کا حکم دیا ؟ آئی جی نے کہا ایم کیو ایم کے سیکٹر کمانڈر نے۔ وزیر اعظم نے پوچھا اُسے کس نے کہا ؟ آئی جی ڈرتے ڈرتے بولے سر کمانڈر نے۔ اس موقع پر لیاقت جتوئی درمیان میں آئے اور آئی جی کو مزید انکوائری سے بچانے کیلئے وزیراعظم سے کہا فکر نہ کریں میں آپ کوایک ہفتے میں ساری رپورٹ دوں گا۔ یوں ایم کیو ایم سے خوفزدہ لیاقت جتوئی نے پولیس افسران کے قاتلوں کو وزیراعظم کے سامنے بے نقاب ہونے سے بچا لیا۔
چیمہ صاحب نے ایک اور واقعہ بھی لکھا ہے جب وہ راولپنڈی کے ایس پی ہوا کرتے تھے اور شہر میں جوئے کے اڈوں کو بند کرانے نکلے تو پتہ چلا کہ شہر میں جوئے کے اڈوں کے سرپرست شہر کے ایم این اے شیخ رشید احمد ہیں۔ شیخ صاحب کا آئیڈیل ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین تھے اور بقول چیمہ صاحب وہ راولپنڈی کا الطاف حسین بننا چاہتے تھے۔ جب شیخ رشید احمد کی مرضی کے خلاف جوئے کے اڈوں پر چھاپے شروع ہوئے تو شیخ صاحب نے وزیر اعلیٰ نواز شریف سے شکایت کی کہ ایس پی نے مسلم لیگ کے ورکروں کی بے عزتی کرنی شروع کر دی ہے ۔ کمشنر راولپنڈی سعید مہدی نے ایس پی کی حمایت کی لیکن وزیر اعلیٰ نے ایک ایم این اے کے شور و غل پر ایس پی کو ٹرانسفر کر دیا ۔ بعد میں جب پیپلز پارٹی کے دور میں شیخ رشید پر ناجائز اسلحے کا کیس بنایا گیا تو ذوالفقار احمد چیمہ اس پر خوش نہیں تھے۔ پھر وقت گزرنے کے بعد شیخ صاحب نے نواز شریف کے ساتھ بے وفائی کی اور جنرل پرویز مشرف سے جا ملے۔ آجکل وہ عمران خان سے بے وفائی کا داغ لئے خاموش بیٹھے ہیں۔
انڈیا اور UAE دفاعی معاہدہ: پاک سعودی معاہدے کا جواب؟
ذوالفقار احمد چیمہ لکھتے ہیں وہ ایک دن وزیر اعظم نواز شریف کو حبیب جالب کی وفات پر تعزیت کیلئے اُنکے گھر لے گئے ۔ اس سے پہلے کہ وزیراعظم مرحوم کے خاندان کیلئے پلاٹ یا رقم کا اعلان کرتے تو بیگم حبیب جالب نے وزیر اعظم سے کہا کہ ہمیں آپ سے کچھ نہیں چاہئے آپ نے حبیب جالب کے گھر آکر ہم پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ آپ نے تو اپنی عزت میں اضافہ کیا ہے ۔ یہ سُن کر وزیر اعظم کا رنگ لال ہو گیا۔ واپسی پر چیمہ صاحب نے بڑی مشکل سے وزیر اعظم کا غصہ دور کیا اور کہا کہ زندگی کے دکھوں نے ایک خوددار بیوہ کا لہجہ تلخ کر دیا آپ نظرانداز کر دیں لیکن وزیراعظم کا غصہ کم نہ ہوا۔ جو وزیر اعظم حبیب جالب کی بیوہ کا ایک جملہ برداشت نہیں کر سکتا وہ پارلیمنٹ کا اختیار بھی برداشت نہیں کرتا تھا اور ججوں سے پوچھتا تھا پارلیمنٹ کوکیسے بائی پاس کیا جائے؟ جب کوئی وزیر اعظم پارلیمنٹ کو ربڑ سٹمپ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو پھر وہ کسی اور کی ربڑ سٹمپ بن جاتا ہے اور آخرکار صرف 18ویں ترمیم نہیں بلکہ پوری پاکستانی جمہوریت ہی ایک ڈھکوسلہ بن جاتی ہے۔
