نواز شریف کے غیر سیاسی رویے نے ان کا کون کون سا نقصان کیا؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ سیاست دان ہونے کے باوجود سابق وزیراعظم نواز شریف کی شخصیت میں لچک کی ہمیشہ سے کمی رہی اور ان کا یہ غیر سیاسی رویہ ان کے کیریئر میں بارہا نقصان کا باعث بنا۔ 1999ء میں فوج کے ساتھ ٹکراؤ، عدلیہ سے محاذ آرائی اور بعد ازاں جلاوطنی جیسے واقعات میں بھی ان کے اسی اندازِ سیاست کا نتیجہ تھے۔
جاوید چوہدری اپنے سیاسی تجزیہ میں بتاتے ہیں کہ 1999ء میں ہانگ کانگ کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں پیش آنے والا ایک مختصر واقعہ نواز شریف کے مزاج کو واضح کرتا ہے۔ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے سابق نگران وزیراعظم معین قریشی سے محض ایک کپ چائے پر ملاقات سے انکار کر دیا تھا۔ بظاہر یہ ایک معمولی واقعہ تھا لیکن اسے اقتدار کے زعم اور سیاسی تنگ نظری کی علامت قرار دیا گیا۔ جاوید چوہدری نے اس واقعے کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے بتایا کہ قصہ انہیں 2007ء میں واشنگٹن میں خود سابق نگران وزیراعظم معین قریشی نے سنایا تھا۔ اس وقت وہ علیل تھے اور امریکی دارالحکومت میں اپنی رہائش گاہ پر مقیم تھے۔
جاوید چوہدری کے مطابق انہوں نے اس واقعے کی تصدیق اس وقت کے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی سے بھی کی، جنہوں نے نہ صرف اس کی تصدیق کی بلکہ مزید تفصیلات بھی فراہم کیں۔
واقعے کے مطابق نواز شریف چین کے سرکاری دورے سے واپسی پر ہانگ کانگ میں مختصر قیام کے لیے رکے ہوئے تھے، جب کہ معین قریشی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے اسی ہوٹل میں موجود تھے۔ سعید مہدی، جو دونوں وزرائے اعظم کے ساتھ کام کر چکے تھے، معین قریشی کی انتظامی صلاحیتوں، دیانت داری، وژن اور فیصلہ سازی کے معترف تھے۔ ان کے بقول اپنی پوری سرکاری زندگی میں انہوں نے جتنا سیکھا، اس سے زیادہ تین ماہ معین قریشی کے ساتھ کام کر کے سیکھ لیا۔
سعید مہدی نے دونوں رہنماؤں کی ملاقات کرانے کی کوشش کی۔ ابتدائی رسمی ملاقات خوشگوار رہی، پرانی یادیں تازہ ہوئیں، اور آخر میں معین قریشی نے خواہش ظاہر کی کہ وہ موجودہ وزیراعظم کے ساتھ چائے پر بیٹھنا چاہتے ہیں۔ سعید مہدی پرجوش انداز میں نواز شریف کے پاس گئے اور درخواست پہنچائی، مگر انہیں غیر متوقع ردعمل ملا۔ نواز شریف نے ہاتھ کے اشارے سے بات ٹالتے ہوئے کہا: چھڈو جی اینوں۔ جب انہیں یاد دلایا گیا کہ معین قریشی بھی ملک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں اور کم از کم رسمی شائستگی کا تقاضا تو پورا ہونا چاہیے، تو جواب ملا: تو کیا میں اسے سر پر بٹھالوں؟ میرے پاس وقت نہیں ہے۔ یوں ملاقات کا امکان وہیں ختم ہو گیا۔
جاوید چوہدری کے مطابق یہ انکار محض ایک شخصی رویہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسے مزاج کی عکاسی کرتا تھا جو وقتاً فوقتاً نواز شریف کی سیاست پر اثرانداز ہوتا رہا۔ ان کے بقول نواز شریف بڑے دل کے آدمی سمجھے جاتے تھے، مگر بعض مواقع پر ان کا ردعمل غیر متوقع حد تک سخت اور انا پر مبنی ہو جاتا تھا۔ یہی مزاج بعد ازاں ان کے سیاسی کیریئر میں کئی تنازعات اور ٹکراؤ کا سبب بنا۔ وہ بتاتے ہیں کہ معین قریشی کا پس منظر بھی اس واقعے کو زیادہ معنی خیز بنا دیتا ہے۔ لاہور میں پیدا ہونے والے معین قریشی نے اعلیٰ تعلیم امریکا سے حاصل کی، آئی ایم ایف اور عالمی بینک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور عالمی مالیاتی اداروں میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ 1993ء میں ملک شدید سیاسی بحران کا شکار تھا۔ صدر غلام اسحاق خان اور نواز شریف کے درمیان کشیدگی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ آرمی چیف عبدالوحید کاکڑ کی مداخلت کے بعد دونوں کو عہدوں سے الگ ہونا پڑا اور متفقہ طور پر معین قریشی کو 18 جولائی 1993ء کو نگران وزیراعظم مقرر کیا گیا۔
معین قریشی نے اعلان کیا کہ وہ صرف صاف اور شفاف انتخابات کرانے آئے ہیں اور تین ماہ بعد واپس چلے جائیں گے۔ مگر ان تین ماہ میں انہوں نے کئی اہم اصلاحات متعارف کرا دیں۔
پہلی مرتبہ ٹیکس دہندگان کی فہرست جاری کی گئی، جس سے ظاہر ہوا کہ 13 کروڑ کی آبادی میں محض چند لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے قرض نادہندگان کے خلاف کارروائی کی، سٹیٹ بینک کو خودمختاری دی، بیوروکریسی کا حجم کم کیا، وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے صوابدیدی اختیارات محدود کیے، سرکاری مراعات میں کٹوتی کی اور میڈیا کو خودمختاری دی۔ ان کا طرزِ زندگی بھی سادہ تھا۔ وزیر اعظم ہاؤس کا کچن بند کر دیا گیا اور وہ اپنا کھانا خود ادا کرتے تھے۔ 1993ء کے انتخابات میں بینظیر بھٹو کی جماعت کو برتری ملی اور نواز شریف کی جماعت توقع سے کم نشستیں حاصل کر سکی۔ جاوید چوہدری کے مطابق نواز شریف اس نتیجے کا ذمہ دار معین قریشی کو سمجھتے تھے، حالانکہ انہوں نے الیکشن میں غیر جانبداری برقرار رکھی تھی۔ یہی پس منظر 1999ء کے ہانگ کانگ واقعے میں انکار کی ممکنہ وجہ بنا جب میاں صاحب نے معین قریشی سے ملاقات کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سیاست دان ہونے کے باوجود نواز شریف کا یہ مزاج ان کے کیریئر میں بارہا نقصان دہ ثابت ہوا۔ 1999ء میں فوج کے ساتھ ٹکراؤ، عدلیہ سے محاذ آرائی اور بعد ازاں جلاوطنی جیسے واقعات میں بھی ان کے اسی اندازِ سیاست کی جھلک دیکھی گئی۔ جاوید چوہدری کے مطابق اگر وہ اس روز محض ایک کپ چائے پر بیٹھ جاتے تو شاید کوئی سیاسی نقصان نہ ہوتا، بلکہ بڑے پن کا تاثر مضبوط ہوتا۔ سعید مہدی نے اپنی حال ہی شائع ہونے والی کتاب میں معین قریشی اور محمد خان جونیجو کو اپنی زندگی کی بہترین سیاسی شخصیات قرار دیا، مگر ہانگ کانگ والا واقعہ کتاب میں شامل نہیں کیا۔ جاوید چوہدری کے مطابق شاید کسی مصلحت کے باعث اس واقعے کو چھوڑ دیا گیا، حالانکہ ایسے واقعات شخصیات کا اصل رنگ نمایاں کرتے ہیں۔
پاکستان کے ہاتھوں افغانستان کو 40 کروڑ ڈالرز نقصان کا سامنا
جاوید چوہدری یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر ایک کپ چائے پینے سے میاں صاحب کو کیا فرق پڑ جاتا؟ ان کے مطابق اقتدار کا خمار اور طاقت کا زعم بعض اوقات انسان کو چھوٹے فیصلے کرنے کی بڑی غلطی کروا دیتا ہے۔ یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جو تاریخ میں کرداروں کی پہچان بن جاتے ہیں۔
